عدالت لوٹی گئی قومی دولت واپس لانے کیلئے بھی اقدامات کرے: سراج الحق

عدالت لوٹی گئی قومی دولت واپس لانے کیلئے بھی اقدامات کرے: سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے کبھی بھی عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا۔اب میں نہ مانوں کی سیاست اور کرپشن راج کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔عدالت پانامہ سکینڈل کے دیگر 436کرداروں کو احتساب کے کٹہرے میں لائے اور لوٹی گئی قومی دولت کو واپس لانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں ۔کرپشن کا خاتمہ اب نوشتہ دیوار ہے ۔جب تک عدالت اسحق ڈار کو کلیئر نہ کرے انہیں وزارت خزانہ سے اخلاقاًمستعفی ہوجانا چاہئے ۔ریویوپٹیشن سے وکلاء کا کام بنا ،نواز شریف کاکام نہیں بن سکا۔نواز شریف کے وکلاء پرانی تقریریں دہراتے اور گڑھے مردے اکھاڑتے رہے ۔نیب کے چیئرمین کو بھی اپنی ناکامی پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔مسلم ممالک روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے کیلئے برمی سفیروں کو ملک بدر کریں اور برمی مسلمانوں کی امداد کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کیا جائے،جماعت اسلامی جسٹس ریٹائرڈ ملک غلام محی الدین ،جسٹس ریٹائرڈ حافظ عبد الرحمن انصاری ،جسٹس عاطف اور جسٹس چمکنی پر مشتمل وفد جلد برما اور بنگلا دیش کے دورے پر بھیج رہی ہے ،الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر میاں عبد الشکور اپنے وفد کے ہمراہ بنگلا دیش میں برما کے پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کرکے آئے ہیں ،پاکستانی قوم کو اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ سے نواز شریف کی نااہلی کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد ہونے پر اپنے ردعمل اور جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف تکبرکے گھوڑے سے نیچے اتر کراپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے توبہ اور قوم سے معافی مانگ لیں تاکہ ان کے ضمیر کا بوجھ ہلکا ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے قومی خزانہ خالی کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرپشن نے آئندہ نسلوں کا مستقبل تاریک کردیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے حکمران برما کے مظلوم مسلمانوں کی بجائے ظالم حکمرانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور قوم کے مطالبے کے باوجود ابھی تک میانمار کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر 56مسلم ممالک برما کے سفیر وں کو نکال دیں تو برما میں مسلمانوں پر مظالم کاسلسلہ رک جائے گا۔روہنگیا مسلمان آج جس صورتحال سے دوچار ہے وہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی ہے ۔برما میں عیسائیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف یورپی یونین نے زور دار آواز اٹھائی تو عیسائیوں پر مظالم کا سلسلہ بند کر دیا گی۔ مسلمان 56 اسلامی ریاستوں کے باوجود بے یار و مدد گار اور تنہا ہیں ان پر ایسے مظالم ڈھائے جارہے ہیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ انہیں جلایا جارہاہے ، زندہ انسانوں کے اعضا کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ عورتوں کی بے حرمتی کے بعد انہیں زنجیریں ڈال کر درختوں کے ساتھ الٹا لٹکا کر درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جاتاہے ۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -