بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت قائم کرنے کیلئے ڈیمو گرافک تبدیلیاں لا رہا ہے

بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت قائم کرنے کیلئے ڈیمو گرافک تبدیلیاں لا ...

  

اسلام آباد (آن لائن؍ این این آئی) چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد اسلام آباد میں سی ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ کوڈ سوک ریگولیشنز کے رائے سے سینٹ کی قومی کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا ۔ باضابطہ اعلان پیر کو کیاجائے گا جمعہ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر سخت تشویش ہے ۔ دریں اثناء سینیٹر جاوید عباسی کی جانب سے بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی اور سوک ریگولیشنز کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چودھری نے کہا کہ سی ڈی اے کے قوانین کے مطابق اگر اسلام آباد میں آپ کے پاس نجی اراضی ہے تو آپ اس میں تعمیرات کر سکتے ہیں ابھی ریگولیشن بن رہے ہیں ۔ این او سی کے بغیر بھی تعمیرات کر سکتے ہیں جبکہ موجودہ حکومت نے این او سی کے بغیر سوئی گیس اور بجلی نہیں دی جا رہی ہے ۔ 100 سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹی پر پابندی عائد ہے انہیں بھی بجلی اور گیس فراہم نہیں کر رہے ہیں ۔ وزارت داخلہ کی معاونت سے ٹاسک فورس بنا رہے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں تعمیرات ہو رہی ہیں کوشش ہے کہ میٹروپولیٹن کے زیر انتظام مستقبل کی حکمت عملی کر سکیں جس کے بعد چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے معاملہ کو انتہائی سنگین قرار دے کر سوموار کے روز ایوان بالا کی 8 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جس کا باضابطہ اعلان پیر کو ہو گا ۔ چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ ہمارے اداروں کو اپنے رول اور اختیارات کو آئین میں دیئے گئے اختیارات کے اندر رہ کر استعمال کرنا چاہیے اگر کوئی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو وہ یقیناً جمہوریت کو پٹٹری سے اتارنے کی سازش کہلائی جاسکتی ہے پارلیمنٹ کو ایسے میں اپنا ایک کردار ادا کرنا ہے حکومت کو پارلیمان کو مضبوط کرنا ہوگا ماضی کی غلطیوں کو سیکھیں تاکہ پارلیمان اور ملک میں جمہوری قدروں کو مضبوط بنایا جاسکے انہوں نے انٹرنیشنل ڈیموکریسی ڈے کی مناسبت سے سینٹ آف پاکستان کی طرف سے قرارداد پاس کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر کو اجلاس کے آغاز میں قرارداد پیش کرے پر گلہ بھی کیا ۔وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ آئندہ وہ ایوان میں اپنی حاضری کو ہر صورت یقنی بنائیں گے ناگزیر وجوہات کی بنا پر بلاشرکت پر ایوان کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے ۔ ہاؤس کا ہمیشہ احترام کیا اور مستقبل میں بھی جاری رکھوں گا وہ جمعہ کے روز چیئرمین سینٹ کی جانب سے ایوان بالا کے اجلاس کو وزراء کی غیر حاضری پر کارروائی روکنے کے بعد اجلاس دوبارہ جاری ہونے پر وضاحتی بیان دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مجھے 12 سے 13 سوالوں کے جواب دینے ہیں جس بنا پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ۔ سپیکر سے اجازت لے کر سینٹ میں حاضر ہوا ہوں انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھی ایوان کو کم تر نہیں بلکہ ہمیشہ کوشش کی کہ اس کے احترام میں اضافہ کر سکوں ۔ مستقبل میں بھی مثبت سوچ کے ساتھ کام کروں گا ۔دریں اثناء ایوان بالا کے اجلاس میں عوامی اہمیت کے ایشو پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مرتضی وہابنے خیرپور انڈسٹری زون کو گیس سپلائی کی عدم سپلائی توجہ دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت خیرپور انڈسٹریل کو گیس سپلائی یقینی بنائے تاکہ اربوں روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے اس منصوبے کا آؤٹ پٹ عوام اور ملک کو مل سکے ان کا کہنا تھا کہ خیرپور انڈسٹریل زون میں گیس سپلائی کے سبب انڈسٹریل زون تقریباً بند ہوچکا ہے زون میں موجود تقریباً تمام صنعتیں بند ہوچکی ہیں ایسے میں ضروری ہے کہ اس انڈسٹریل زون کو بچانے کیلئے گیس کی سپلائی کی بحالی وقت کی ضرورت ہے جبکہ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ 15 ستمبر بین الاقوامی ڈیموکریسی ڈے ہے پاکستان میں جمہوریت کو مختلف ادوار میں مختلف حادثات پیش آئے اب ایک دنیا خطرناج رحجان جمہوریت کا گلہ گھونپنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے اداروں کا اختیارات سے تجاوز کسی بھی جمہوری قوت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جمہوریت سے آج تک کی تمام قربانیوں کوخراج تحسین کرتا ہوں عوامی اہمیت کے ایشو پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فاٹا میں ڈاکٹر ووآؤٹ بارڈرز کے نام سے کام کرنے والی تنظیم کو فاٹا سے بے دخل کردیا گیا ہے حکومت اس معاملے پر غور کرنے کی درخواست ہے اگر فاٹا میں ڈاکٹر اور کچھ الزامات ہیں تو ان کو عدالتوں میں لایا جائے مگر انہیں کام سے روکنا وہاں کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے صدر کے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک کاکہنا تھا کہ صدر مملکت کے خطاب میں کہیں یہ عنصر موجود نہیں تھا کہ وہ فیڈریشن کی نمائندگی کررہے ہیں ان کی تقریر کو ایک پارٹی کارکن کی تقریرلگ رہی تھی جمعہ کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تحریری جواب جمع کروادیا جس میں کہا گیاہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت قائم کرنے کیلئے بھارت ڈیمو گرافک تبدیلیاں لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزادجموں کشمیرمیں جغرافیائی تبدیلی کی کوشش کررہاہے اور وادی میں باہر سے لاکر ہندووں کی آباد کاری کے ذریعے مسلم اکثریت آبادی کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ٗ مقبوضہ وادی میں بسنے والے کشمیریوں کی زبردستی شناخت تبدیل کی جارہی ہے ۔تحریری جواب میں کہا گیا کہ موجودہ وزیر خارجہ نے بھی مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کشمیر کی صورتحال پر 27 اپریل 2017 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تفصیلی خط لکھا جبکہ خط کو 18 مئی 2017 کو سیکورٹی کونسل کی سرکاری دستاویز کے طور پر تقسیم کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ رضاربانی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزارت خارجہ نے مختلف ممالک میں امن مشنز میں تعینات پاکستان کی مسلح افواج کی تفصیلات پیش کیں جس کے مطابق دنیا کے 7 ممالک میں 7123 پاکستانی امن دستے تعینات ہیں۔وقفہ سوالات کے دورانسینٹ کوبتایاگیا ہے کہ بلوچستان میں کرکٹ فروغ کے لئے مزید سٹیڈیم بنائے جائیں گے ٗ جی ٹی روڈ پر سنگ جانی ٹول پلازہ کو واپس پہلے مقام پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ٗفزیبلٹی رپورٹ آتے ہی بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے کا تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔ جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ سنگ جانی ٹول پلازہ سے قبل پنڈنوشہری کی طرف سے سڑک نکلتی تھی جسے لوگ استعمال کرتے تھے اس لئے ٹول پلازہ کی جگہ تبدیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب سنگ جانی ٹول پلازے کو منتقل کیا گیا تھا تو اس وقت سیکٹر ڈی 17 میں کسی قسم کا ترقیاتی کام نہیں ہو رہا تھا، مذکورہ ٹول پلازے کو واپس پہلے مقام پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں کیونکہ یہاں پر محصولات کی وصولی اطمینان بخش ہے۔وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ وزیراعظم نے مئی 2015ء میں دورہ سوات کے موقع پر بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس پر فزیبلٹی رپورٹ آتے ہی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ فزیبلٹی رپورٹ 4 ماہ میں آنی تھی ابھی یہ رپورٹ نہیں آئی۔ فزیبلٹی کیلئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ بلوچستان میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے مزید سٹیڈیم بنائے جائیں گے، اب وہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے، وہاں کھیلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ہمارا سپورٹس سسٹم ریجن اور ضلع کی بنیاد پر قائم ہے، ڈسٹرکٹ تنظیمیں ٹورنامنٹس کراتی رہتی ہیں، ہ معاملہ صوبوں کے پاس ہے لیکن ہم بھی مدد کرتے رہتے ہیں، جتنے زیادہ سے زیادہ ریجن بنیں گے سپورٹس کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ہاکی کی تربیت کے لئے کھلاڑیوں کو باہر بھجوایا، فٹ بال کے کھیل کا معاملہ عدالتوں میں ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ فیفا کے رولز نظر انداز نہ کریں، فٹ بال پاکستان میں بھی مقبول ترین کھیل ہے، ہمارے کھلاڑی بہت اچھا کھیل رہے ہیں۔جمعہ کو سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے پیاز کی درآمد سے متعلق عوامی اہمیت کے حامل معاملے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیاز بلوچستان سے آ رہا ہے، اس لئے بیرون ملک سے درآمد نہیں کیا جا رہا۔ چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان کے ارکان کی اس جواب سے تشفی ہونی چاہیے۔ یہ معاملہ ایوان بالا میں گزشتہ روز بلوچستان کے ارکان نے عوامی اہمیت کے حامل معاملے کے طور پر اٹھایا تھا۔ جس پر چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان سے کہا تھا کہ وہ متعلقہ حکام سے بات کر کے ایوان کو آگاہ کریں۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر طاہر حسین مشہدی کے توجہ مبذول نوٹس کے جواب میں وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ پرائیویٹ سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے پارلیمان نے 2013ء میں ایکٹ پاس کیا، پیرا نے 2016ء میں فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے قانون بنائے، اس کے خلاف پرائیویٹ سکولز عدالت میں چلے گئے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر اکتوبر 2017ء تک عدالت سے کیس کا فیصلہ ہو جانے کی امید ہے، ہم والدین اور تعلیمی اداروں کے خدشات کو مدنظر رکھیں گے اور قواعد میں جہاں ضرورت ہوئی ترمیم کریں گے۔ قبل ازیں سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وفاقی دارالحکومت میں نجی سکولوں کی جانب سے ماہانہ ٹیوشن فیس میں کئے گئے غیر قانونی اضافے کی جانب وزیر برائے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کی توجہ مبذول کرائی۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ عوام کی فتح ہے ٗ پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چودھری نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ عوا م کی فتح ہے، پوری قوم کو مباکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نگرانی کرنے والے جج کو نکالنے کی دہائی دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حدیبیہ کیس کھل رہا ہے،مریم اپنے والد سے پوچھیں حدیبیہ کیس کب سے نہیں چلے ٗ یہ صرف سپریم کورٹ کی وجہ سے احتساب عدالتو ں میں یہ مقدمات جارہے ہیں۔

سینیٹ

مزید :

کراچی صفحہ اول -