تحریک انصا ف 2018کیانتخابات میں ملک بھر میں کلین سویپ کری گی : پرویزخٹک

تحریک انصا ف 2018کیانتخابات میں ملک بھر میں کلین سویپ کری گی : پرویزخٹک

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفین احمقوں کی جنت میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر 2018 کے انتخابات میں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ چاروں صوبوں اور وفاق میں کلین سویپ کرے گی اور حکومت بنائے گی۔ پی پی پی اور اے این پی اور پی ایم ایل این کی باریوں کا دور ختم ہوچکا ہے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کرپشن کے خلاف جو عملی جہاد شروع کیا۔ اس کے نتائج قوم کے سامنے آچکے ہیں اور پہلی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم پر ہاتھ ڈالا گیا۔ اوراس کے پورے خاندان پر کرپشن ثابت ہوگئی اور آج نظرثانی کی اپیلیں بھی خارج ہوگئیں جو عوام کی جیت ہے اور آزاد عدلیہ کو ہم مبار ک باد پیش کرتے ہیں۔ پاکستان اور کرپشن مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ صوبے میں جب تحریک انصاف کی حکومت بنی تو تعلیم ، صحت اور پولیس جیسے سیاست زدہ اور ناکارہ اداروں کا قبلہ درست کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن ہم نے اس کا قبلہ ٹھیک کیا میرٹ اور شفافیت کوقومی ترقی کے بنیادی عوامل سمجھتے ہوئے جن اداروں سے عوام کو ریلیف دینے کا عمل شروع کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاگئی جدید ضلع نوشہر ہ میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خٹک، ایم این اے عمران خٹک،احد خٹک، اسحق خٹک وزیر اعلیٰ شکایت سیل کے چیئرمین حاجی حسین احمد خٹک نے خطاب کیا۔ اس موقع پر علاقے کی معروف سیاسی و سماجی شخصیات نور الودود، عبد الباسط اور سابقہ ممبر عبد السلام سمیت ، سفیر اللہ، انور اللہ، عبدالباسط، ہدایت اللہ، محمد الیاس، جواد شابڑہ، اقبال حسین، بخت روان اضاخیل، ڈاکٹر خالد خان، توحید درانی، مدثر، وحید گل، محمد سعیداور دیگر نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔پرویز خٹک نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اوران کاپارٹی میں خیر مقدم کیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک نے کہا کہ آج ہمارے مخالفین خو د کو سیاست میں زندہ رکھنے کے لیے ایک مرتبہ بھر سیاسی اتحاد بنا رہے ہیں مگر پی ٹی آئی اکیلے ان کا انتخابات میں مقابلہ کرے گی۔ اور دوبارہ نہ صرف خیبرپختونخوا، چاروں صوبوں ، اور وفاق میں برسراقتدار آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ان کو عوام کے مسائل سے کوئی سرو کار نہیں تھا۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔تحریک انصاف کی حکومت جب سے صوبے میں آئی ہے عوام کی عزت نفس بحال ہوئی۔ عوام کو تھانہ، پٹوار، خانوں میں عزت ملی اور تعلیم صحت میں انقلابی اقدامات کئے۔جس کے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سابقہ حکمرانوں نے تعلیم صحت، پولیس ، پٹوار سمیت دیگر شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ غریب کی فلاح کا کبھی نہیں سوچا۔ اُن کا مطمع نظر عوام کا ووٹ ہوتا ہے۔عوام کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں اُنہیں کن مسائل کا سامنا ہے ۔ سیاسی مجرموں نے کبھی نہیں سوچاکیونکہ اُن کا اپنا کاروبار بھی باہر ہوتا ہے اور اگر تکلیف ہو توعلاج کیلئے بھی باہر جاتے ہیں۔ قومی اداروں کی اصلاح اور ترقی سے اُن کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ عوام نے ان سیاسی مظالم کے خلاف اداروں کی اصلاح اور نظام کی تبدیلی کیلئے تحریک انصاف پر اعتماد کیا۔ صوبائی حکومت نے عوام کی توقعات اور اپنے منشور کے مطابق چار سال کے مختصر عرصے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تباہی کے شکار اداروں کو ٹھیک کرکے جوابدہ بنایا۔سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے اداروں کو آزادی سے خدمات کی فراہمی کے قابل بنایا۔اس نظام کا تسلسل ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے۔اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ عوام کی توقعات پر پورا اُتری ہے اور آئندہ بھی اُن کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت کو عوامی مسائل اور تکالیف کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ گزشتہ چار سالوں سے عوامی خدمت کیلئے اخلاص کے ساتھ کوشاں ہے۔صوبے میں دستیاب وسائل کو اس مقصد کیلئے شفاف طریقے سے بروئے کار لایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ بھر میں ترقیاتی کام جاری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ترقیاتی کام ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں فرق یہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی اقدامات کا مقصد عوام کی تکالیف کو دور کرنا ہے جبکہ سابق حکمران اپنا کمیشن بنانے کیلئے دو نمبر ترقیاتی سکیمیں بناتے رہے۔جن کا خمیازہ آج تک عوام بھگت رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ادارہ جاتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے ۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں صوبے میں شعبہ تعلیم کا ٹوٹا پھوٹا ڈھانچہ ملا ۔صوبائی حکومت نے شعبہ تعلیم کا قبلہ درست کرنے اور سکولوں کا معیار بلند کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے۔انگریز کے دیئے گئے طبقاتی نظام تعلیم کو توڑنے کیلئے تاریخ میں پہلی بار عملی قدم اُٹھا یا گیا۔پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم میں تدریس کا عمل شروع کیا۔ اب سرکاری سکولوں میں اساتذہ نتائج دینے کے پابند ہیں۔ ہمارے اقدامات کا مقصد غریب کے مستقبل کو سنوارنا ہے تاکہ خوانین کی طرح غریب کے بچے بھی کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ شعبہ تعلیم کی طرح ہسپتالوں کی حالت بھی ابتر تھی نہ دوائی نہ علاج ، نہ ڈاکٹر نہ آلات ، سرکاری ہسپتالوں کا برا حال تھا۔ہمارے چار سالہ اقدامات کا ثمر ہے کہ اب صوبہ بھر میں سو فیصد ڈاکٹر موجود ہیں ۔ٹیکنیشن دستیاب ہیں اور مشینری مہیا کی جارہی ہے۔صحت انصاف کار ڈ کے ذریعے 80 فیصد آبادی کو علاج کی مفت سہولت میسر ہو گی ۔صوبے میں میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشوت خوری اور کمیشن کلچر میں صوبائی اداروں کو تبادہ کردیا تھا۔صوبائی حکومت نے رشوت ، کمیشن اور حرام خوری کے خلاف متعدد اقدامات کئے ۔شفافیت کا سسٹم متعارف کرایا ۔ٹھیکوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بند کرکے ای ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارا وصل بلور قانون رشوت کے خلاف اہم اقدام ہے۔ اس قانون کے تحت رشوت کی مخبری کرنے والے کا نام خفیہ رکھا جائے گا۔ وصول شدہ رقم کا تیسرا حصہ مخبر کو دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے بنیادی خدمات کے حصول کیلئے عوام کو رشوت نہیں دینا پڑتی ۔خدمات تک رسائی کے قانون کے تحت انتقال، لائسنس اور ڈومیسائل وغیرہ کیلئے ایک درخواست دیں اور گھر بیٹھ جائیں۔ ذمہ داران 15 دن کے اندر مطلوبہ خدمت کی فراہمی کے پابند ہیں بصورت دیگر اُنہیں اپنی جیب سے جرمانہ دینا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تحریک انصاف اپنی انہی خدمات کی بدولت دوبارہ برسر اقتدار آکر صوبے کی تاریخ بدل دے گی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -