قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس، 19ستمبر کو تمام صوبوں نے شرکت کی حامی بھر لی

قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس، 19ستمبر کو تمام صوبوں نے شرکت کی حامی بھر لی

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کو جلد بلانے اور DivisiblePool میں صوبوں کا حصہ بڑھانے کیلئے تمام صوبوں کا مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے خیبرپختونخوا حکومت کی دعوت پر 19ستمبرکو طلب کردہ اجلاس میں تمام صوبوں نے شرکت کی حامی بھرلی ہے جس میں دیگر صوبوں کے وزرائے خزانہ اور ممبران این ایف سی کو اسلام آباد میں مدعو کیا گیا ہے۔مذکورہ اجلاس میں وفاقی حکومت کو بھی بطور مبصر شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت مرکز اور صوبوں کے مابین Divisable Pool میں صوبوں کا حصہ 80% فیصد اور مرکز کا 20 فیصد رکھیں جبکہ قبائلی علاقوں کیلئے مرکز اپنے ہی حصے سے 3 فیصد دیں اور 9 ویں قومی مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل کو یقینی بنانے کیلئے جلد از جلد این ایف سی کا اجلاس بلایا جائے ۔جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں آئندہ 19ستمبر کو اسلام آباد میں طلب کردہ بین الصوبائی اجلاس کی تیاریوں اور صوبے کے تجاویز کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد ممبر این ایف سی پروفیسر محمد ابراہیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ مذکورہ اجلاس کیلئے صوبے کی تیاری بالکل مکمل ہے جس میں مرکز سے اپنا حق حاصل کرنے کیلئے تما م صوبوں کو ایک پیج پر لانے کی کوشش کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ وفاق صوبوں کا آئینی حق خود کھا رہا ہے اور اُلٹا صوبوں کو این ایف سی اجلاس میں تاخیر کا قصوروار ٹہرا رہا ہے جوایک مضحکہ خیز بات ہے اور صوبوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے ۔انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم لانے کے نتیجے میں صوبوں کو وفاق سے کئی وزارتیں منتقل ہوئی جن کا مالی بوجھ بھی صوبو ں پرآن پڑا مگر ان کا مالیاتی حصہ صوبوں کو اب تک منتقل نہیں ہوا جبکہ نئی مردم شماری کے نتیجے میں بھی خیبر پختونخوا کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا مرکزی حکومت صوبوں کے حصے کو بڑھائے۔صوبائی وزیر نے مطالبہ کیا کہ مرکز قبائلی علاقوں ،گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کا حصہ بھی اپنے حصے سے دیں اور این ایف سی کا اجلاس طلب کرنے میں مزید لیت و لعل اور آئین شکنی کا مظاہرہ نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے اور اس طرح تاخیری ہربے استعمال کرتا رہا تو پھر ہم سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر سنجیدگی سے غور کرینگے۔انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ تقریر میں اسحاق ڈار نے حقیقت کے برعکس عوا م کو جھوٹ بولتے ہوئے کہاکہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں تاخیر صوبوں کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست بات نہیں اور مرکز نے صوبوں سے اس اجلاس کے حوالے سے کبھی رجوع ہی نہیں کیا ہے حالانکہ صوبوں کا یہ ایک دیرینہ مطالبہ ہے کہ این ایف سی اجلاس جلد منعقد ہوجائے مگر گذشتہ ڈھائی سالوں میں صرف تین اجلاس ہی منعقد ہوسکے ہیں ۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ1947 کے بعد سے قبائلی علاقوں کو ترقی سے محروم رکھا گیا ہے اور آج بھی یہی علاقے ترقی اور خوشحالی سے کوسوں دور ہیں لہٰذامرکز ان پسماندہ علاقوں کا پورا حصہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کو خوش آمدید کہتی ہے اور ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کیلئے فاٹا کا خیبر پختونوا میں انضمام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنی ذاتی سوچ و فکر سے ملک کے کسی خاص حصے کو ترقیاتی عمل کا مرکز قرار نہ دے بلکہ اپنے سوچ و خیال میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کو بھی شامل کرے۔پریس کانفرنس میں ممبر این ایف سی پروفیسر محمد ابراہیم نے بھی خطاب کیا اوراین ایف سی کے اہم مسئلے کے تکنیکی پہلووں پرروشنی ڈالی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -