بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں ،یاسمین بی بی

بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں ،یاسمین بی بی

  

بریکوٹ (نمائندہ پاکستان) بونیر پولیس کے نا انصافی حوا کی بیٹی فریاد لے کر بریکوٹ پریس کلب پہنچ گئی ‘ بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں ‘ میڈیکل رپورٹ اور دعویداری کے باوجود بونیر پولیس ملزمان پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہیں ‘ صوبائی حکومت ، چیف جسٹس ، آئی جی خیبر پختونخواہ ، ڈی ائی جی ملاکنڈ رینج ، ڈی پی او بونیر بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف فراہم کریں ‘ ان خیالات کا اظہارتحصیل بریکوٹ کے علاقہ کڑاکڑ کے رہائشی خاتون یاسمین بی بی ، اپنے بیٹے عمر فاروق اور ناظمین تحصیل بریکوٹ کے ہمراہ بریکوٹ پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ‘ اس موقع پر آل ناظمین تحصیل بریکوٹ کے صدر میاں فضل ودود باچا ، ناظم بریکوٹ غربی حماد خان ، ناظم بریکوٹ شرقی ظفر علی خان ، نائب ناظم بخت علی خان ، ناظم ویلج کونسل مانیارمحمد اسحاق لالا ، نائب ناظم ویلج کونسل نجی گرام ،ناواگئی واجد خان شلمانی بھی موجود تھے‘ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی مسماۃحاجرہ بی بی جو کہ بونیر بھگڑہ میں محمد اقبال کے ساتھ شادی ہوئی تھی مورخہ 28اگست 2017کو میرے داماد محمد اقبال کی طرف سے اطلاع ملی کہ اپکی بیٹی فوت ہوچکی ہے جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال لے جانا چاہتے تھے مگر سسر اور میرے داماد ہمیں پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا اصرار کررہے تھے لیکن ہم نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ڈگر ہسپتال پہنچا دیا ‘ ڈاکٹروں پوسٹ مارٹم عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں بجھوادی ‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میری بیٹی کو زہر دیکر اس کا قتل کیا گیا ہے ‘ ہم نے ملزمان کی نشاندہی جس میں میر ی بیٹی کے شوہر محمد اقبال ، سسر شہز ا دگل ، دیور فرمان اللہ کے ہیں لیکن 55دن گزرنے کے باوجود بھگڑہ چوکی پولیس ایف ائی درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور مختلف قسم حلیوں بہانوں سے ہمیں ٹرخا رہے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کے قتل میں ملوث ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں صوبائی حکومت ، چیف جسٹس آف پاکستان ، آئی جی خیبر پختونخواہ ، ڈی آئی جی ملاکنڈ رینج ، ڈی پی او بونیر ہمیں انصا ف فراہم کرکے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کریں اور انکو قرار واقعی سزا دی جائے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -