کشمیری عوام پاکستان ،بھارت کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے :راجہ فاروق حیدر

کشمیری عوام پاکستان ،بھارت کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے :راجہ فاروق حیدر

  

مظفر آباد(بیورورپورٹ) وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان اور ہندوستان کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے ،کشمیر کے حوالے سے دونوں ملکوں کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے پاکستان کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتا ہے جبکہ بھارت نے اٹوٹ انگ کی رٹ لگائی ہوئی ہے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ جب کشمیر آزادہو کر اس کا حصہ بنے گا تو پاکستان اور کشمیر کے درمیان مستقبل کے حوالے سے تعلقات کی نوعیت کشمیری عوام طے کریں گے ہندوستان کے آئین کی دفعہ 370میں اس طرح کی کوئی بات نہیں کشمیر میں استصواب رائے کی صورت میں کشمیریوں کی اکثریت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے گی تیسرا آپشن خطے کے حالات و واقعات ،معروضی و جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر ممکن نہیں ہم اپنی مرضی اور منشاء سے پاکستانی ہیں پاکستان پراپنا حق وہاں رہنے والوں سے زیادہ سمجھتا ہوں آزادکشمیر کے اہم ترین حل طلب معاملات پر وفاق میں پیش رفت عروج پر تھی کہ میاں محمد نواز شریف کو ہٹا دیا گیا اب توقع ہے کہ نئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ایجنڈے کو لے کر آگے چلیں گے اور آزاد کشمیر کے دیرینہ معاملات یکسو کرائیں گے آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے آزادکشمیر کے عوام نے گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی و سیاسی حقوق کی کبھی مخالفت نہیں کی ہماری خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آزادکشمیر کے لوگوں سے زیادہ حقوق ملیں عمران خان کے نظریئے کو نہیں مانتا اس حوالے سے میری بات کو غلط رنگ دیا جاتا ہے پاکستان کی نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر اراکین سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نیشنل ڈیفنس صوبائی اسمبلی کے ممبران اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے شرکاء کی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد کی قیادت میجر جنرل محمد سمریز سالک کر رہے تھے وفد سینیٹرز محترمہ روبینہ خالد ،چوہدری تنویر خان ،روزی خان کاکڑ ،محترمہ ستارہ ایاز ،ممبران قومی اسمبلی محترمہ شازیہ سہیل میر ،محترمہ عائشہ ناز تنولی ،امجد علی خان ،محبوب عالم ،سنجے پروانی ،سلیم رحمان ،ساجدہ بیگم ،نثار خان ،محمد علی راشد سمیت گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے ممبران اسمبلی ،بیورو کریٹس ،سفارتکار،پاک آرمی ،سول سوسائٹی ،اسراء فیکلٹی اینڈ سٹاف پر مشتمل تھا اس موقع پر وزیرتعلیم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی ،وزیر سپورٹس چوہدری محمد سعید ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر آصف شاہ ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر بھی موجود تھے ۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد کو آزادکشمیر کے آئینی و انتظامی ڈھانچے ،خطہ کی تعمیر و ترقی اور حکومتی ترجیحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔شرکاء سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کی قیادت اور عوام نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی کبھی مخالفت نہیں کی آزادکشمیر میں آئینی ارتقاء کی جدوجہد ایک تاریخ ہے اس مقصد کے لئے ہماری قیادت نے بڑی قربانیاں دیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا گلگت بلتستان کے عوام کو ہم سے زیادہ آئینی و سیاسی حقوق ملیں میں نے آزادکشمیر کی قیادت کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوام سے عدم رابطوں پر بحیثیت وزیراعظم آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگی انہوں نے کہا کہ عمران خان کے نظریات کو نہیں مانتا میری بات کو اس حوالے سے غلط رنگ دیا جاتا ہے شاید میں الفاظ کی وضع قطع اس طرح نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ کشمیر میں رہنے والے تمام انسانوں کو پاکستان کے ساتھ رہنا اس لیئے اچھا لگتا ہے کہ ہمارا ثقافتی ،جغرافیائی ،نظریاتی تعلق پاکستان کے ساتھ ہے جموں کے ہندو کو بھی پاکستان سوٹ کرتا ہے کہ وہ اپنی اشیاء سیالکوٹ کے راستے دنیا میں فروخت کر سکتا ہے جبکہ دہلی اسے دور پڑتا ہے وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ زلزلہ کے بعد پاکستان کے عوام نے آزادکشمیر کے متاثرین زلزلہ سے جس محبت ،بھائی چارے ،ہمدردی ،اخوت اور یکجہتی کا اظہار کیا اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کا جذباتی اور روحانی رشتہ ہے پاکستان کرکٹ میچ جیتتا ہے تو سرینگر میں جشن منایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حفاظت کے لیئے لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے جوانوں کا خون بہا ہے آزادکشمیر کے نوجوانوں نے دفاع وطن کے لیئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں جاگیر دارانہ سسٹم نہیں لوگ باشعور ہیں سماجی ڈھانچہ ملک کے دیگر علاقوں سے بہتر ہے یہاں کے علاء کرام کو یہ کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے یہاں فرقہ واریت کی لعنت کو پنپنے نہیں دیا پاکستان اور کشمیر ایک ہی ہیں ہمارا جسم ار روح کا رشتہ ہے جو ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے آزادکشمیر کے عوام کے لئے سردار محمد ابراہیم خان مرحوم ،کے ایچ خورشید مرحوم ،سردار محمد عبدالقیوم خان مرحوم ،سردار سکندر حیات خان اور دیگر سیاسی قائدین کی بڑی خدمات اور کردار ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کی نئی نسل کو مسئلہ کشمیر ،کشمیر کی تاریخ سے آگاہی نہیں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کو مسئلہ کشمیر کی تاریخ و اہمیت اور پس منظر سے آگاہ کیا جائے اس سلسلہ میں ٹھوس اور جاندار اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور سب کو مل کر اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ،دریں اثناء وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت آزادکشمیر نے شریعت کورٹ کو ختم یا ہائی کورٹ میں ضم کر دیا ہے بلکہ شریعت کورٹ سے متعلق جو قانون سازی کی گئی ہے اس کے تحت شریعت اپیلنٹ بینچ کو آئینی تحفظ ملا ہے قبل ازیں شریعت کورٹ کو آئینی تحفظ حاصل نہ تھا،شریعت اپیلنٹ بینچ کے قیام سے ایک بڑا آئینی و قانونی سقم بھی دور ہو گیا ہے ۔ شریعت کورٹ کے معاملے پر بعض لوگوں نے سیاست کی اور اہم دینی معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی۔حکومت آزاد کشمیر ریاست کے اندر آئین و قانون کی بالا دستی یقینی بنانا چاہتی ہے۔شریعت کورٹ سے متعلق مسودہ قانون کی تیاری کے لیے تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا گیا ۔قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف نے فون کر کے کہا تھا کہ شریعت کورٹ سے متعلق قانون سازی کے سلسلہ میں ممبر قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کر لیں۔ جس پر مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ آل پارٹیز کانفرنس کی تجاویز کو بھی زیر غور لایا گیا۔ حکومت آزادکشمیر نے تمام مذہبی جماعتوں کے جید علماء کرام ،آئینی ماہرین ،سول سوسائٹی اور سیاسی زعماء کی مشاورت سے شریعت اپیلنٹ بینچ کا متفقہ مسودہ قانون ایوان میں لایا ہے شریعت اپیلنٹ بینچ ہائی کورٹ کے ججزسمیت ایک جید عالم پر مشتمل ہو گا جید عالم کے لیئے 15سال کا تحقیق کے شعبہ میں تجربہ ضروری ہو گا اور عالم جج کی تعیناتی کے لیئے چیف جسٹس صاحبان سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کی مشاورت بھی لازمی ہو گی اور جید عالم کی تعیناتی کا طریقہ کار وہی ہو گا جو ہائی کورٹ کے جج کی تعیناتی کا طریقہ کار ہے اور عالم جج کو ہائی کورٹ کے جج کے برابر اختیارات و مراعات حاصل ہوں گی شریعت اپیلنٹ بینچ کی تشکیل کے بعد تعزیراتی قوانین کے تحت زیر کار مقدمات جو ہائی کورٹ میں ہیں شریعت اپیلنٹ بینچ کو منتقل ہو جائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیرقانون و پارلیانی امور راجہ نثار احمد خان ،چیئرمین سیلیکٹ کمیٹی اسمبلی احمد رضا قادری ،ممبران اسمبلی عبدالرشید ترابی ،صغیر احمد چغتائی ،سید علی رضا بخاری ،مسعود خالداورعلامہ کفایت حسین نقوی ،جمعیت اہل حدیث کے دانیال شہاب ،جمعیت علماء اسلام کے مولانا امتیاز عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شریعت کورٹ کے قیام سے متعلق قانون سازی آئینی ضرورت تھی قانون سازی سے پہلے آرڈیننس لایا گیا شریعت کورٹ ترمیمی آرڈیننس اسمبلی میں لانے کے بعد مسودہ مجلس قائمہ کے سپرد کیا گیا مجلس قائمہ میں تمام پارلیمانی جماعتوں کو شامل کیا گیا مجلس قائمہ نے اہم معاملے پر غور غوض کے لیئے تمام مذہبی جماعتوں کے علماء کرام ،آئینی ماہرین اور سول سوسائٹی سمیت سیاسی زعماء کی مشاورت سے ایک متفقہ مسودہ قانون ترتیب دیا ہے اس مسودہ کے تحت ہائی کورٹ میں شریعت اپیلنٹ بینچ قائم کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے قائم شریعت کورٹ میں ابہام تھا اور قانونی سقم بھی تھا پہلے سے قائم شریعت کورٹ کو آئینی تحفظ بھی حاصل نہ تھا کچھ لوگوں نے شریعت کورٹ سے متعلق ابہام پیدا کیا اور اس اہم معاملے پر سیاست کی کوشش کی آزادکشمیر میں نافذ عبوری آئین ایکٹ 1974کے تحت کوئی بھی قانون اسلام کے راہنما اصولوں کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا پہلے جو شریعت کورٹ تھی اس میں ہائی کورٹ کے جج ہی تعینات ہوتے تھے اور کبھی کسی جید عالم کو بحیثیت جج تعینات نہیں کیا گیا حکومت آزادکشمیر نے شریعت کورٹ کو اس کی روح کے مطابق تشکیل دیا ہے مستقبل میں بھی شریعت اپیلنٹ بینچ سے متعلق آئینی ترامیم میں علماء کرام اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر گڈ گورننس کے نفاذ کے لیئے کوشاں ہے آئین کے مطابق شریعت اپیلنٹ بینچ کا قیام اور قانون سازی گڈ گورننس کا حصہ ہے حکومت آزادکشمیر نے لاء ریفارمز کمیشن میں بھی عالم جج کو رکھا ہے لاء ریفارمز کمیشن کے قیام کا مقصد آزادکشمیر کے عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہے انہوں نے کہا کہ شریعت کورٹ سے متعلق قائم سلیکیٹ کمیٹی میں اپوزیشن کے 2ممبران شامل کیئے گے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے یہ 2نام تجویز کیئے گئے انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل مشاورتی ادارہ ہے جبکہ شریعت کورٹ اپیلنٹ بینچ نے تعزیراتی قوانین کے تحت مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں شریعت اپیلنٹ بینچ چیف جسٹس ہائی کورٹ ،ہائی کورٹ کے ججوں سمیت ایک عالم جج پر مشتمل ہوگا ۔ چیئرمین سلیکٹ کمیٹی احمد رضا قادری نے کہا کہ شریعت کورٹ کے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں نئی قانون سازی ناگزیر تھی جس کے لئے پہلے حکومت نے آرڈیننس جاری کیا جو مزید قانون سازی کے لئے ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کے سپرد ہواسلیکٹ کمیٹی وزیر قانون راجہ نثار احمدخان ، ممبران اسمبلی پیر سید علی رضا بخاری ، ممبر اسمبلی مسعود خالد، عبدالرشید ترابی اپوزیشن ممبران عبدالماجد خان ، اور سردار صغیر چغتائی شامل تھے ۔ سلیکٹ کمیٹی نے اس سلسلہ میں اجلاس منعقد کیا اس دوران وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرنے سے قبل جید علماء اور وکلاء سے مشورہ کرے جس پر تمام سلیکٹ ہولڈرسے مشاورت کی گئی اور متفقہ طور پر ہائیکورٹ میں شریعت اپیلٹ بینچ قائم کرنے کے لئے قانون سازی کی منظوری دی گئی ہے ۔ وزیر قانون راجہ نثار احمد خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ 74میں واضح لکھا ہے کہ آزاد کشمیر میں کوئی بھی قانون سازی اسلامی شعائرکے خلاف نہیں ہوسکتا ۔ ۔ پاکستان میں شریعت بینچ 1979میں بنا اور 1979میں یہ آزاد کشمیر میں بھی بینچ قائم کیاتھا پھر 1980میں پاکستان میں شریعت کورٹ بنی تو آزاد کشمیر میں بھی 1980میں آرڈیننس کے ذریعہ عدالت بنائی گئی اس وقت شریعت کے دو ممبران تھے میں چیئرمین (ممبر) کی اہلیت سپریم کورٹ کے جج کے برابر تھی جبکہ دوسرے ممبر کی ہائیکورٹ کے جج کے برابر تھی یہ ایک عارضی انتظام تھا ۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کورٹ اپیلٹ بینچ ہائیکورٹ کے ججوں سمیت ایک جید عالم جس کا تحقیق کے شعبہ میں 15سال کا تجربہ ہوگا بینچ میں شامل ہوگا اور جید عالم کی تعیناتی مستقل ہوگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -