سعودی عرب میں درجنوں مذہبی رہنماﺅں نے نماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو حکومت نے ان کے ساتھ کیا کردیا؟ جان کر پاکستانیوں کو بھی یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔۔۔

سعودی عرب میں درجنوں مذہبی رہنماﺅں نے نماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج ...
سعودی عرب میں درجنوں مذہبی رہنماﺅں نے نماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو حکومت نے ان کے ساتھ کیا کردیا؟ جان کر پاکستانیوں کو بھی یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔۔۔

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں گزشتہ روز درجنوں مذہبی رہنماﺅں کو ایک ایسا کام کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے کہ جان کر پاکستان دنگ رہ جائیں گے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ مذہبی رہنماءنماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے جا رہے تھے، جس پر پولیس نے کریک ڈاﺅن کرکے انہیں گرفتار کر لیا۔ یہ لوگ سعودی عرب کی ملک بدر حکومت مخالف شخصیات کی کال پر احتجاج کرنے والے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا گیا ہے۔“

سعودی عرب میں ملکی و غیر ملکی شہریوں کو کھلی چھٹی مل گئی، اب کھلم کھلا وہ کام کرسکتے ہیں جو پہلے سب کا خواب تھا

رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر گرفتار ہونے والوں کی فہرست پوسٹ کی ہے جس کے مطابق ان میں معروف عالم دین سلمان العودہ بھی شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں بڑے پیمانے پر پھیلی ان افواہوں کے بعد عمل میں آئی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان اپنے بیٹے، ولی عہد شہزادہ محمد کے حق میں فرماں روائی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لیا وٹسن کا کہنا تھا کہ ”بظاہر یہ گرفتاریاں سیاسی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان آزادی¿ اظہار اور قانون کی عملداری کے حوالے سے ملک کی حالت سدھارنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔“واضح رہے کہ سعودی عرب میں احتجاج کرنے پر پابندی ہے اور وہاں سیاسی پارٹی یا کسی طرح کی یونین بنانا غیرقانونی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -