دہشت گردی، شدت پسندی ،قتل و غارت گری، فتنہ انگیزی اور ڈرانے دھمکانے کے طور طریقوں سے نجات کیلئے امن کا پیغام پوری دنیا میں پھیلایا جائے: ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس

دہشت گردی، شدت پسندی ،قتل و غارت گری، فتنہ انگیزی اور ڈرانے دھمکانے کے طور ...

  

جده (محمد اکرم  اسد) مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے فرزندان اسلام سے کہا ہے کہ دہشت گردی، شدت پسندی ،قتل و غارت گری، فتنہ انگیزی اور ڈرانے دھمکانے کے طور طریقوں سے نجات کیلئے امن کا پیغام پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔

عصر حاضر میں فتنہ انگیزوں نے اپنے پرچم اٹھا لئے ہیں۔ شر انگیز عناصر فتنوں کے گھوڑوں پر سوار ہو چکے ہیں۔ معاون طاقتوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ قتل و غارتگری کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ اس ماحول سے بنی نوع انسان کو نجات دلانے کیلئے مسلمانان عالم کو وہی تاریخی کردار ادا کرنا ہو گا جو پیغمبر اسلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر قیادت عصر اول کے مسلمانوں نے قتل و غارت گری سے دنیا بھر کو نجات دلانے کیلئے ادا کیا تھا۔ امت مسلمہ امن و امان کی علمبردار امت ہے۔ بنی نوع انسان کو امن و امان کی اشد ضرورت ہے۔ سلامتی انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ بنی نوع انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ 1400برس قبل دنیا بھر میں قبائلی تعصبات کارفرما تھے ۔ معمولی باتوں پرجھگڑے ہو جاتے اور انتقام لینے کیلئے صدیوں خون خرابہ جاری رکھتے۔ اسلام نے بنی نوع انسان کو امن کا پیغام دیا۔ لڑائی جھگڑوں اور جنگوں سے نجات حاصل کرنے پر زور دیا۔ نفرت ، عداوت اور انتقام کے جذبات سے آزاد ہونے کا درس دیا۔ امام حرم نے کہا کہ سیرت طیبہ اور اسلامی فتوحات کے واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ میٹھے بول اور حکیمانہ نصیحت کی بدولت دنیا بھر میں اسلام کا بول بالا ہوا۔امام حرم نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ناحق اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔اسلام پر دہشت گردی ، شدت پسندی ، ستم ریزی اور تلوار کے ذریعے دعوت پھیلانے کا گھناﺅنا الزام لگایا ، دھرایا جا رہا ہے۔

امام حرم نے کہا کہ اسلام ماضی میں بھی حکمت اور میٹھے بول کے ذریعے پھیلا تھا ۔ عصر حاضر میں بھی اسلام کا بول بالا ہو رہا ہے۔ امام السدیس نے واضح کیا کہ حقیقی امن اور سماجی سلامتی انصاف پھیلا کر ہو گی۔ جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہوگا ، حق داروں کو ان کا حق نہیں دیا جائیگا تب تک امن و امان کا دور دورہ نہیں ہوگا۔ امام حرم نے اقوام و ممالک سے اپیل کی کہ وہ رحمدلی ، رواداری اور الفت باہمی سے کام لیں۔ اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں۔لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کریں۔ اپنے وطن کو تشدد اور تخریب کاری کی آگ سے بچائیں۔ اسلامی شریعت اور اس کے عظیم اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اجاگر کریں۔ امن کی ثقافت پھیلائیں۔ تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ میں نوجوانوں کو امن کی اہمیت سے آشنا کریں۔ انتہا پسندی کے انسداد ،رواداری ، پرامن بقائے باہم، عالمی امن و سلامتی جیسی اقدار کے فروغ ، تشدد ، خونریزی ، اشتعال انگیزی اور نفرت وکراہیت سے بچنے ، قومی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں سے اجتناب کی مہم چلائیں۔ امام السدیس نے کہا کہ اس سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ اسے اسلام کا مرکز ، امن و امان کا قافلہ سالار، حرمین شریفین کا پاسبان اور زائرین کا خدمتگار بنا رکھا ہے۔ دوسری جانب مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ صلاح البدیر نے جمعہ کا خطبہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حجاج کرام اسلام کا پانچواں رکن حج ادا کر چکے ہیں۔ یہ تقرب الہیٰ کا عظیم ترین ذریعہ ہے۔ حج کی توفیق عطا ہونے اور آسانی سے پانچواں رکن ادا کرنے کا موقع بخشے جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں جو نعمت بھی نصیب ہوتی ہے وہ اللہ کی دین ہے۔ حجاج گناہوں سے دور رہیں۔ حج کے بعد دنیا داری کے چکر میں نہ پڑیں۔ حج مبرور کی قبولیت کی علامت گناہوں سے دوری ، آخرت میں دلچسپی اور دنیا کے حوالے سے زہد ہیں

مزید :

عرب دنیا -