بیورو کریسی سیاسی دباؤ سے کیسے آزاد ہو گی؟

بیورو کریسی سیاسی دباؤ سے کیسے آزاد ہو گی؟

وزیراعظم عمران خان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ وہ اُن کے پروگرام کو سپورٹ کریں یہ پروگرام اُن کے لئے نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ سول سرونٹس کے مسائل سمجھتے ہیں،اِنہیں حل کیا جائے گا، بیورو کریسی کو تحفظ دیا جائے گا،جلدی جلدی پوسٹنگ ٹرانسفر غلط ہے،ہم جو نئی اصلاحات لا رہے ہیں وہ سول سرونٹس کے لئے مفید ہوں گی، تبدیلی کے لئے ہمیں نو آبادیاتی ذہنیت سے باہر نکلنا ہو گا اور آقا و غلام کا طرزِ حکمرانی تبدیل کرنا ہو گا،وزیراعظم ہاؤس کی ایک سو گاڑیوں، چار ہیلی کاپٹروں اور چھ بھینسوں کی نیلامی علامتی اقدامات ہیں تاکہ ہم نوآبادیاتی ذہنیت سے نکل پائیں، سول سرونٹس کی سیاسی وابستگی میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں،حکومت کا مسئلہ کارکردگی کا ہے،بیورو کریسی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں مناسب نہیں،اگر ہم نے یہ سسٹم ٹھیک کر لیا تو تنخواہ دار طبقے کے لئے اتنی مراعات ہوں گی کہ پھر اُنہیں اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کی فکر نہیں ہو گی، دوسال گزارا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو مُلک میں اتنا پیسہ آئے گا کہ یہاں قرض اور بیروزگاری کے مسائل نہیں ہوں گے،اِس وقت حکومت ہر روز چھ ارب روپے کا سود ادا کر رہی ہے، قرضوں سے نکلنے کے لئے خود کو بدلنا ہو گا۔انہوں نے یہ باتیں وزیراعظم آفس میں سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

بان�ئ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے بیورو کریسی کو ہدایت کی تھی کہ حکومت کسی کی بھی ہو،حکمران آتے جاتے رہتے ہیں،لیکن سرکاری ملازم ریاست کے ملازم ہیں وہ مستقل حیثیت رکھتے ہیں، اِس لئے اُن کا فرض ہے کہ وہ قانون اور ضابطوں کے پابند رہتے ہوئے اپنے فرائض کسی خوف کے بغیر ادا کریں یہ سنہری اصول ہے اگر اِس پر عمل کیا جائے تو وقتاً فوقتاً یہ نعرہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ بیورو کریسی کو سیاسی اثرات سے پاک کیا جائے گا، ماضی میں بھی یہ نعرہ لگایا جاتا تھا، آج بھی لگایا جاتا ہے،لیکن اس پر عمل درآمد کم کم ہی ہوتا ہے، اور جب کسی وی آئی پی کو کسی سرکاری ملازم کی کوئی بات پسند نہیں آتی یا وہ اس کے کہنے پر اس کی منشا کے مطابق عمل نہیں کرتا، تو پھر یہی سرکاری ملازم اس وی آئی پی کو زہر لگنے لگتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسے ناہنجار سرکاری ملازم کو جو بھی سزا دلوا سکتا ہے وہ دلوائے،اس مقصد کے لئے وہ اپنی پوزیشن جہاں تک ممکن ہو استعمال کرتا ہے، چاہے اس کے لئے ہر حد سے گزرنا پڑے۔

موجودہ حکومت میں دو ڈپٹی کمشنروں کا معاملہ اُبھر کر سامنے آیا ہے، جن میں سے ایک ضلع چکوال کے ڈی سی ہیں،جبکہ دوسرے کا تعلق راجن پور سے ہے،دونوں کو دو ارکانِ اسمبلی نے جن کا تعلق حکمران جماعت سے ہے، بعض تبادلے کرنے کے لئے کہا حسبِ خواہش تبادلے نہ ہونے پر انہوں نے ڈپٹی کمشنروں کو نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی تو انہوں نے غالباً اس خیال سے کہ یہ حکومت چونکہ سیاسی مداخلت کے خلاف ہے،اِس لئے اُن کی شنوائی ہو گی، اعلیٰ حکام کو خطوط لکھ کر صورتِ حال سے آگاہ کیا۔یہ خطوط چونکہ سرکاری اصطلاح ’’تھرو پراپر چینل‘‘ نہیں لکھے گئے تھے، اِس لئے یہ دونوں حضرات اس وقت شو کاز نوٹسوں کا سامنا کر رہے ہیں، ہم فی الحال اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ان دونوں ڈپٹی کمشنروں نے دو ارکانِ اسمبلی کا حکم نہ مان کر کوئی غلطی کی تھی یا خط لکھ کر کسی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے، لیکن عمومی طور پر دیکھا یہی گیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی اپنے ضلعوں میں اپنی مرضی کی انتظامیہ اوپر سے نیچے تک لگوانے کی کوشش کرتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ ہر تھانے کا ایس ایچ او بھی اُن کی مرضی سے لگے،کہا جاتا ہے کہ سابق حکومتیں اپنے ارکانِ اسمبلی کو خوش رکھنے کے لئے اُن کی مرضی سے تبادلے کرتی رہتی تھیں اور کسی افسر کا کوئی قصور ہو یا نہ ہو، اگر کوئی ایم این اے، ایم پی اے یا سیاسی عہدیدار اس کی شکایت کر دیتا تھا تو اس کا تبادلہ ہو جاتا تھا،یہی تو سیاسی دباؤ ہے، جس کا سامنا افسروں کو کرنا پڑتا ہے، کل اگر افسر اِس صورتِ حال سے گزر رہے تھے اور آج بھی ملتے جلتے حالات ہیں تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ تبدیلی تو عمل سے آتی ہے،نعروں سے نہیں۔نعرہ اگرچہ تبدیلی ہی کا لگ رہا ہے اور پوری قوت سے لگ رہا ہے۔

جہاں تک ڈی سی چکوال کا معاملہ ہے الیکشن کمیشن نے اسے سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا ہے، کیونکہ اس میں حکمران جماعت کے ایک رکن ملوث ہیں، ڈی سی چکوال نے اس رکن پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پر ریونیو افسروں، گرداوروں اور پٹواریوں کے تبادلوں کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور تبادلے نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس پر ڈی سی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا،جس پر اب یہ معاملہ سپیکر کے حوالے کر دیا گیا ہے،تاہم چکوال اور راجن پور کے ڈپٹی کمشنروں کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جا رہی ہے، اس حالت میں یہ سوال تو ہو سکتا ہے کہ کیا ایسے ہی طریقوں سے بیورو کریسی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو گی؟وزیراعظم نے سرکاری افسروں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نوآبادیاتی دور کے طور طریقے بدلیں،انہوں نے اس کی وضاحت بھی کی کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی لگژری گاڑیاں ہیلی کاپٹر اور بھینسیں اسی لئے فروخت کی جا رہی ہیں کہ اس سے نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ تبدیل ہو گا، بڑی اچھی بات ہے اگر ایسا ہو جائے،لیکن جو سرکاری افسر اب تک نوآبادیاتی دور کے کرّ وفر سے نہیں نکل سکے اور بیس بیس کنال کے گھروں میں رہ رہے ہیں اور بیک وقت درجنوں سرکاری ملازم اُن کے گھروں پر مختلف قسم کی خدمات انجام دیتے ہیں، کیا وہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں نیلام ہونے کے بعد کسی خود کار طریقے سے اپنا ذہن بدل لیں گے؟ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہو گا، بیورو کریسی کو عوام کا خادم بنانے اور نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ بدلنے کے لئے الگ سے کوششیں کرنا ہوں گی،جو بار آور بھی ہوں، ماضی میں بھی ایسی نیم دلانہ کوششیں کی گئیں جو کامیاب نہیں ہوئیں اب بھی اگر بیورو کریسی کو عوام کا خادم اور سیاسی دباؤ سے آزاد ریاست کا ملازم بنانا ہے تو قائداعظمؒ کے فرمان پر عمل کرنا ہو گا،ورنہ جس طرح بیورو کریسی پہلے سیاسی دباؤ میں تھی آج بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں اس کا شکار رہے گی،فرق صرف یہ پڑے گا کہ پہلے دباؤ ڈالنے والے اور تھے اب دباؤ ڈالنے والے نئے چہرے ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ