پشین میں بم دھماکہ!

پشین میں بم دھماکہ!

پاکستان عالمی برادری کو ایک سے زیادہ مرتبہ یہ یقین دِلا چکا ہے کہ مُلک خود دہشت گردی کا شکار ہے اور ریاست کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قلع قمع کے لئے ہزاروں قربانیاں دی ہیں، یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ ہمسایہ مُلک بھارت کی طرف سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں مداخلت کی جا رہی ہے اور اس کے لئے افغان سرزمین بھی استعمال ہوتی ہے، اس کے علاوہ بھارت بلوچ تخریب کاروں کی بھرپور معاونت کر رہا ہے،جو بلوچستان میں سرگرم ہیں اور موقع پا کر تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں، بلوچستان میں اب بھی دہشت گردی کی وارداتیں جاری ہیں اور تخریب کار سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں،جبکہ دہشت گرد خود کش حملے جاری رکھے ہوئے ہیں،بلوچستان میں مسلح افواج اِن کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔گزشتہ روز پشین کی تحصیل شورپور میں تخریبی واردات ہوئی،اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا، بم ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا، اسسٹنٹ کمشنر تو گاڑی میں نہیں تھے، تین لیوی اہلکار شہید اور ڈرائیور زخمی ہو گیا، اس افسوسناک حادثے پر بھی روائتی بیانات سامنے آ گئے اور ہر طرف سے مذمت کی گئی،حکومت اور فورسز کی طرف سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں بقول مختلف قوتیں مصروفِ عمل ہیں اور ان کو بھارت کی طرف سے مدد اور تعاون ملتا ہے۔اگر یہی بات ہے تو وہ کون سا امر مانع ہے کہ بھارت کی اس مداخلت اور باغیوں کی حمایت کو دُنیا پر آشکار نہیں کیا جاتا،جہاں یہ ضرورت ہے کہ سیکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا قلع قمع کریں تو حکومت پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر تخریب کاروں اور ان کے مدد گاروں کے خلاف موثر کارروائی کرے۔

مزید : رائے /اداریہ