رزق حلال عین عبادت ہے

رزق حلال عین عبادت ہے
رزق حلال عین عبادت ہے

  

پچھلے تیس سال سے صبح و شام کرپشن کا چرچا سننے کے باوجود خود اپنے دستِ مبارک سے کسی کو باضابطہ رشوت پیش کرنے کا موقع زندگی میں ایک ہی بار ملا ۔ یہ تاریخ تھی 5جولائی 1977 ء کی، جب ملک میں ’’نوے دن کے اندر انتخابات‘‘ کرانے کے وعدے پر مارشل لا نافذ ہوئے چند ہی گھنٹے گزرے ہوں گے ۔

میرے اِس تجربے کا جغرافیائی حوالہ بھی دلچسپ ہے کہ وقوعہ راولپنڈی کچہری کے ایک ایسے گوشے میں ہوا جس سے کوئی ڈیڑھ سو گز آگے آرمی ہاؤس ہے ، جہاں رات بھر کی انقلابی کارروائی کے بعد،ایک اندازے کے مطابق ، جنرل ضیا الحق آرام کر رہے تھے ۔

الٹی سمت میں اِتنی ہی دور ہمارے منتخبہ آئینی صدر شاید اپنی سرکاری رہائش گاہ کی بیرونی دیوار پر یہ نعرہ لکھنے لکھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں کہ ’چودھری فضل الہی کو رہا کیا جائے‘ ۔

یہ مراد نہیں کہ میری انفرادی رشوت دہی کی اِس واردات کا ملکی تاریخ کے نشیب و فراز سے کوئی گہرا تعلق ہے۔ مَیں تو گورنمنٹ کالج ، لاہور یا موجودہ جی سی یونیورسٹی کے لیکچرار کے طور پر یہ حرکت کرنے پہ اس لئے مجبور ہوا کہ محکمہۂتعلیم کی نظر میں تقرری کا گزٹ نوٹیفکیشن میرے نیک چال چلن سے مشروط تھا ،جس کی تصدیق ضلعی پولیس کیا کرتی ہے ۔

آپ اسے نا تجربہ کاری کہہ لیں کہ اُس روز مَیں ایس ایس پی آفس کے شاہ صاحب کا یہ اشارہ سمجھ ہی نہ سکا کہ متعلقہ تھانے کی پولیس رپورٹ کے ہوتے ہوئے انہیں یونین کونسل سے میرے ’عدم سزا یافتہ اور عدم اشتباہ شدہ‘ ہونے کی شہادت کیوں درکار ہے ۔ ایک دوست نے ، جنہیں کمک پر ساتھ رکھا گیا تھا ، منہ کان کے قریب کر کے آہستہ سے کہا ’’دس روپے دو ، دس روپے‘‘ ۔

مجھے بالآخر تعمیل کرتے ہی بنی ۔

اب سچ کہوں تو اوپر بیان کیا گیا یہ واقعہ یکدم نہیں،بلکہ ایک مرحلہ وار طریقے سے رونما ہوا ۔ پہلے تو ہلکے سبز رنگ کی قمیض میں ملبوس اور مشفقانہ خد و خال کے مالک مذکورہ بزرگ نے ’صاحب‘ سے براہِ راست ملنے کی میری ناکام کوشش کے بعد سوالیہ انداز میں کہا کہ کچھ تو سوچیں ، ہم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔

پھر میری ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے بڑے سلجھاؤ سے ہمیں کمرے سے باہر لے گئے ، جہاں دوست کا کہا مانتے ہوئے ، ایک لمحے میں ہزار دفعہ مرنے اور جینے کے بعد مَیں نے نوٹ ’مکتوب الیہ‘ کی جیب میں ڈال دیا ۔

’’ایہہ تُساں نی فیس اے‘ ‘ ۔ گھبراہٹ کے عالم میں میرے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا ۔ پھر دستخط ہونے اور مہر لگنے کے مرحلوں میں تین منٹ لگے ہوں گے،جس کے ایک ہفتے کے اندر نہ صرف میری تقرری کا نوٹیفکیشن ہو گیا، بلکہ سات ماہ سے رکی ہوئی تنخواہ بھی یک مشت وصول کر لی ۔

رشوت لینے اور دینے کا شرعی انجام بہت واضح ہے،اسی لئے سرکاری دفتروں ، بنکوں اور کارپوریشنوں میں فائز ہمارے جاننے والے جب سینئیر افسروں اور ماتحت عملے کی کرپشن کا ذکر چھیڑتے ہیں تو ہر درد مند مسلمان کی طرح یہ بحث میرے لئے اذیت ناک ہو جاتی ہے ۔

کیا زیادہ تر کرپٹ لوگ اپنے ہاتھ سے پیسے پکڑتے ہیں یا محض کسی عہدے سے منسلک مراعات بے جا طور پر برتی جا رہی ہوتی ہیں ؟ ایک بہت ہی پیارا بنکا ر دوست جو خود کبھی بلاضرورت میڈیکل کلیم نہیں بھرتا دوسروں کی ’کچی پکی‘ دستاویزات پر بلا تامل ’کگھی‘ کیوں مار دیتا ہے ؟ اگر فوجی اور انتظامی افسروں کو ہر شہر میں رہائشی سہولت ملتی ہے تو سرکاری ڈاکٹر اور پروفیسر کیا سڑکوں پر ٹینٹ لگا کر رہیں گے ؟ اسی طرح گورنمنٹ کا تنخواہ دار معالج پرائیویٹ پریکٹس چمکا کر اپنی عزت نفس کو تقویت دے سکتا ہے تو سکول ٹیچر کو اس کی اجازت کیوں نہیں ملتی ؟

اگر میرے دلائل سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مَیں رشوت ستانی کا جواز پیش کر رہا ہوں تو بخدا میری ایسی کوئی نیت نہیں ۔

ہاں ، اُن لوگوں پہ حیرت ضرور ہے،جو بہتر سرکاری تنخواہوں،رہائشی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور تعلیمی و تفریحی مواقع کی بدولت پر ہیز گاری کے محکمانہ تفاخر میں مبتلا ہو کر اپنے ارد گرد بسنے والی ’کم متقی‘ مخلوق کو ایک گونہ حقارت سے دیکھنے لگتے ہیں۔ وگرنہ گریڈ ایک سے بنیادی سکیل بائیس اور ایم ون اور ٹو تک کے فرق کو سامنے رکھیں تو سوال اٹھے گا کہ حق حلال کی کمائیوں کا تعین کرتے ہوئے انسانی ضروریات ، منڈی کی طاقتوں ، حکومتی پالیسی اور شرعی احکامات میں سے کون کون سے عوامل کو کتنی اہمیت دی گئی ہے ۔ اِن معاملوں پر ذرا زیادہ گہرائی میں جا کر غور شروع کریں تو اخلاقی قدروں کا سارا ڈھانچہ ہی کبڈی کھیلنے لگتا ہے ۔

حکومتی پے سکیلوں کا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ تنخواہیں خواہ منصفانہ ہوں یا طبقاتی امتیاز پر مبنی، سرکاری ملازم کی ماہانہ آمدنی طے کرتے ہوئے ہم کسی نہ کسی اصول کا سہارا لینے کی کوشش بہرطور کرتے ہیں۔ جیسے تعلیمی قابلیت ، عملی تجربہ ، پیشہ ورانہ کارکردگی اور انسانی صفات ۔

البتہ کارپوریٹ سیکٹر کا رُخ کریں تو آپ کی ’نفع آوری‘ کی صلاحیت مطلوبہ ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر چلی جائے گی اور ساتھ ہی اپنے خاندان میں آپ کی مقبولیت کا گراف بھی بلند ہونے لگے گا ۔

یہ اِس لئے کہ کامیاب پروفیشنل کے پیکیج میں جدید زندگی کے حقیقی یا فرضی لوازمات پورا کرنے کا سامان تو ہوتا ہی ہے ، یہ گنجائش بھی آسانی سے نکل آتی ہے کہ والدین کے لئے فائیو سٹار حج اور عمرہ کا ’بیعانہ‘ ادا کر کے بیش بہا دُعاؤں کی ’سپلائی‘ کو یقینی بنا لیا جائے ۔

اسی طرح سرکاری اور نجی شعبوں کے بیچوں بیچ کچھ پیشے ایسے بھی ہیں،جنہیں جائز اور ناجائز کی سرحدوں کے وسط میں اخلاقیات کا ’بفر‘ زون سمجھنا چاہئے۔ اِس قلمرو کے شہری ہمارے قانون دان ، بڑے بڑے ڈاکٹر،اکاؤنٹینٹ ، آرکیٹکٹ اور مشہور و معروف ڈیزائنر ہوا کرتے ہیں ۔

مَیں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ وکلاء میں سے علامہ اقبال ، شیخ منظور قادر اور خالد اسحاق کو چھوڑ کر کس کس نے پورا انکم ٹیکس ادا کیا یا یہ کہ ہمارے ممتاز ڈاکٹروں کی اکثریت حقیقت پسندانہ ٹیکس دہی کی روایت کی پاسداری کیوں نہیں کرتی۔

پھر بھی یہ تو سوچنا ہی پڑے گا کہ معمول کے معاوضوں کے مقابلے میں حساس دیوانی اور فوجداری مقدمات، حبس بے جا کی رٹ درخواستوں یا میڈیکل اور سرجیکل ایمر جنسی میں جو معاوضے وصول کئے جاتے ہیں اُن کے درمیان زمین آسمان کے باہمی فرق کو ’حلال کمائی‘ کے معیار پر کیسے پرکھا جائے گا ۔

راولپنڈی کچہری والے شاہ صاحب کو یاد کرتے ہوئے فیض احمد فیض کی زبان میں ’ابتدائے عشق کا تحیر‘ لوٹ آتا ہے ۔ شاید بلھے شاہ نے بھی ’کھانا شک شبہے دا کھاویں ‘ کہہ کر اسی نوعیت کی بارڈر لائن کمائیوں کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ غور طلب بات ہے کہ یہ مشکوک آمدنی محض غیر ملکی ڈگریاں رکھنے والے پیشہ ور ماہرین کی تجوریوں میں نہیں جاتی۔

آپ اسے میرا کمینہ پن نہ سمجھیں تو ہوٹلوں کے بیرے ، مصروف کار پارکوں کے ’جہاز ٹائپ‘ محافظین اور دفتروں کے وہ ملازم بھی اسی کیٹگری میں آئیں گے،جو مانگتے نہیں ، صرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ’جہازوں‘ کو ایک طرف کر کے باقی دو زمرے ایسے ہیں کہ اُن کی تنخواہ کسی نہ کسی تحریری یا زبانی معاہدے کے تحت مقرر کی جاتی ہے۔ تو کیا انہیں پانچ دس روپے تھما کر مَیں بھی کرپشن کو فروغ دے رہا ہوں؟

اِن کے مقابلے میں مارکیٹنگ کی حکمت عملی سے مسلح فنکاروں کا ایک نوزائیدہ گروہ اَور بھی ہے جن کے حلیے ، لب و لہجہ اور ساز و سامان سے اصل کاروباری ارادے آپ کی سمجھ میں نہیں آتے ۔ رواں صدی کے آغاز سے پہلے جب میں برطانیہ سے مستقل بنیادوں پہ وطن لوٹا تو لاہور میں مال روڈ کی ایک ذیلی سڑک پر عید کی شاپنگ عروج پہ تھی ۔ ایک باریش نوجوان ، جس نے کتابیں اٹھا رکھی تھیں ، مجھے قرآن پاک کا ایک چھوٹی تقطیع کا رنگین نسخہ دکھا کر کہنے لگا ’’ہدیہ پچاس روپے‘‘۔

مَیں نے نوٹ اُس کے ہاتھ پہ رکھا تو آواز آئی’’کچھ مدد بھی کر دیں ، چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں ‘ ‘ ۔ میرے منہ سے اضطراری طور پہ نکلا ’’تو آپ مانگنے والے ہیں ، میں آپ سے نہیں لوں گا ‘‘ ۔’’کیسے مسلمان ہیں ، قرآن لینے سے انکار کر رہے ہیں‘‘ نوجوان نے مجھے چُپ کرا دیا ۔

کبھی کبھار اصل عزائم کو ’کیموفلاج‘ کرنے کی حکمت عملی آپ کے کسی عزیز، واقف کار اور اگر آپ صحافی ہیں تو کسی سیاست دان کے ایما پر بھی آزمائی جا رہی ہوتی ہے ۔ منجھے ہوئے لوگ اِس کی ابتدا تہوار کے دن ایک بے ضرر سے کیک سے کرتے ہیں ۔

کچھ روز بعد کوئی مہنگا سا قلم اور ساتھ ہی بش شرٹ کے لئے سِلک کا پِیس موصول ہوتا ہے، جو ’’آپ کے بھائی نے انتہائی محبت سے تحفے کے طور پر شنگھائی میں خریدا‘‘۔موثر تادیبی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اگلا بھرپور وار آپ کے بیٹے یا بیٹی کی تعلیمی کامیابی یا شادی کے موقع پر ہو گا کہ ’’نہیں سر ، آپ بیچ میں نہ آئیں ۔

کیا یہ بچے ہمارے کچھ نہیں لگتے؟‘‘ ۔ اِس معاملے میں ایک صدرِ مملکت سمیت بڑے جاگیرداروں سے نمٹنا آسان لگا کہ جب بھی کسی کا ڈرائیور آموں کی پیٹی پھینک گیا اور ہماری جانب سے ’شکریہ‘ کا فون نہ ہوا تو ہمیشہ کے لئے اُن کی عنایات سے جان چھوٹ گئی۔

تو بھلا اِن ’گم ترپ ‘ حالات میں انسان اپنا قبلہ کیسے درست رکھے اور پہلے سے کیونکر پتا چلائے کہ قبلہ ہے کس طرف ؟ دنیوی زندگی کی مثال دوں تو اچھی ڈرائیونگ کے اصولوں میں ’بلائینڈ اسپاٹ‘ سے آگاہی کا تصور بھی شامل ہوتا ہے ۔

مطلب یہ ہے کہ پچھلی کار سے بچنے کے لئے آپ کو عقبی آئینے اور سائیڈ مرر میں کچھ نظر نہ آئے تو بھی اپنی گردن کو جسمانی طور پر خم دے کر باہر ضرور دیکھ لینا چاہئے ۔ یہ ایک مشکل کام ہے ، لیکن آپ کا اسٹیئرنگ قابو میں ہو اور بار بار لین نہ بدلی جا رہی ہو تو گردن گھمانے کی مہلت میں اضافہ کر کے آپ اپنے خم کے لئے کوئی موزوں زاویہ چن ہی لیتے ہیں ۔ جب تک مجھے اپنے سوالوں کا واضح جواب نہیں ملتا ، میں فکر و عمل کی موٹر وے پر اسی ’گردن گھماؤ‘ ٹیکنالوجی سے کام لیتا رہوں گا ۔

مزید : رائے /کالم