سوشل میڈیا کی گندگی اور کلثوم نواز

سوشل میڈیا کی گندگی اور کلثوم نواز
سوشل میڈیا کی گندگی اور کلثوم نواز

  

مجھے بھی سوشل میڈیا کی ’’لت‘‘ پڑ چکی ہے، ایک آدھ دن کی دوری تو برداشت ہوتی ہے، مگر زیادہ دن کی دوری سے بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ جسم میں سویاں سی چھبنے لگتی ہیں، زندگی کا قرار لٹ جاتا ہے اور پھر مجھے اس وقت چین آتا ہے، جب میں دوبارہ سوشل میڈیا پر جھانکنا شروع کر دیتا ہوں۔ ذرائع ابلاغ کے جدید ذرائع میں سے سوشل میڈیا سب سے موثر ذریعہ ہے۔

دیگر تمام ذرائع تادم تحریر اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس میڈیا کے ذریعے جہاں دانش کے پھول کھلائے جا رہے ہیں، وہاں ایسے ایسے ’’گل‘‘ بھی کھلائے جا رہے ہیں کہ اللہ کی امان۔

میرے ساتھ دوستوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔جسے آپ لاکھوں میں کہہ سکتے ہیں، کیونکہ میرے ساتھ اگر ایک لاکھ لوگ موجود ہیں تو پھر ان کے بھی لاکھوں لوگ دوست ہیں جو کہ میرے بھی دوست ہیں اور وہ مجھ تک اور میں ان تک رسائی رکھتا ہوں۔ وہ میرے خیالات جانتے رہتے ہیں۔ میں ان کے خیالات بھی جانتا رہتا ہوں۔

سوشل میڈیا پر ایک ’’طبقہ‘‘ تو وہ ہے جو بہت کم لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔سو یہ لوگ تصویروں کے ذریعے اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کی بھینس نے چار بچے دیئے تو وہ بھینس سمیت چاروں بچوں کی تصویر ’’اپ لوڈ‘‘ کرتے ہوئے لائیک لینے کی کوشش کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی، اپنے بچوں کی اور فیملی کی تصویریں لگا کے خوش ہوتے رہتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو گالی دیتے ہیں اور نہ کسی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔بس اپنی مستی میں رہتے ہیں، مگر خرابی پیدا کرنے والوں میں ’’دس جماعت‘‘ پاس ڈائریکٹ حوالدار قسم کے لوگ زیادہ ہیں، جن کے دم سے سوشل میڈیا ’’حرام کاریوں‘‘ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ ڈائریکٹ حوالدار قسم کے لوگ ہر شعبے سے ہیں، ان میں کچھ دانشور، کالم نگار، سیاسی کارکن، مذہبی رہنما اور سبھی شامل ہیں۔ مذہبی کارکنوں کا ’’مشن‘‘ اپنے ’’مسلک‘‘ کو اوپر دکھانا اور دوسرے کے ’’مسلک‘‘ کو نیچے دکھانا ہوتا ہے۔

سو یہ لوگ اپنے پاس سے حدیثیں بھی گھڑتے ہیں اور قرآن کے مفہوم کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے اسلام کے چہرے کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر مذہبی تہوار کے موقع پر یا کسی مخصوص دن یا شخصیت کے حوالے سے اچانک نئی نئی معلومات فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو ظاہر ہے کہ درست نہیں ہوتیں، پھر دوسرے مسلک کے لوگ بھی میدان میں نکل آتے ہیں اور پھر ’’دے مارتے ساڑھے چار‘‘ یہ لوگ اس قدر جہالت پر اتر آتے ہیں کہ بچارہ مذہب ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔

سب سے زیادہ گندگی اور گندی زبان سیاسی کارکنوں کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ ان لوگوں کے پاس اپنے موقف کے لئے کوئی ٹھوس دلیل تو ہوتی نہیں۔ بس یہ جواباً ماں بہن تک چلے جاتے ہیں۔ آج کل محترمہ کلثوم نوازکے حوالے سے بہت گندی زبان استعمال کی جا رہی ہے اور بدقسمتی سے بہت ’’حاجی نمازی‘‘لوگ بڑے بڑے دانشور قسم کے ’’بابے‘‘ بھی اس ’’رنگ میں رنگے‘‘ نظر آتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی گفتگو اور تحریروں میں خود کو ایک دانشمند کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر جب سوشل میڈیا پر جھانکتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ ’’صاحب علم‘‘ ہونے کے باوجود ’’جہالت‘‘ کے اندھیرے میں رہ رہے ہیں۔

اور انہیں دوسرے کی کیا اپنی عزت ہی نہیں عاقبت کی بھی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ ’’دانشمند‘‘ محترمہ کلثوم نواز کے حوالے سے اپنی تحریروں میں اپنی باطنی گندگی کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ بعض تو ایسے ہیں جو ان کی سیاسی خدمات تو دور کی بات بطور انسان اور خاتون بھی ان کی اہمیت سے منکر ہیں۔

اندازہ کیجئے کہ ہمارے ملک کی اب تک کی سیاسی تاریخ میں ’’ریاستی جبر‘‘ کے حوالے سے کلثوم نواز واحد شخصیت ہیں جنہیں سات گھنٹے تک گاڑی میں بند رکھا گیا اور پھر ان کی گاڑی کو کرین کے ذریعے اٹھا کر اس جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا، مجھے بتایئے کہ ملکی تاریخ میں کوئی ایسا مرد یا خاتون جس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔۔۔؟

میری معلومات کے مطابق کلثوم نواز واحد شخصیت ہے، جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ اگر آپ کے پاس کوئی دوسری مثال موجود ہے تو مجھے بھی آگاہ کیجئے گا۔آپ ماضی کے تمام ’’آمروں‘‘ کے خلاف کسی بھی مرد یا خاتون کی سیاسی جدوجہد دیکھ لیجئے۔

آپ کو ایک سے زائد سیاسی جماعتوں کا اجتماع نظر آئے گا، مگر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک میں آپ کو واحد کلثوم نوازشریف نظر آئیں گی۔کوئی دوسری سیاسی شخصیت یا جماعت تو دور کی بات، ان کے ساتھ خود اپنی پارٹی کے صرف چار لوگ نظر آئے تھے۔ جن میں جاوید ہاشمی اور تہمینہ دولتانہ کا نام نمایاں ہے۔

سوال یہ ہے کہ کلثوم نوازشریف کی اس سیاسی جدوجہد کو محض اس وجہ سے نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ نوازشریف کی بیوی ہے اور آپ نوازشریف کو پسند نہیں کرتے؟

کس قدر سنگ دلی اور بے شرمی کی بات ہے کہ آپ ایک خاتون کے ’’پردیس‘‘ میں مرنے پر بھی طنز کے نشتر چلانے شروع کر دیں۔ ایک ایسی عورت جس کا شوہر، بیٹی اور داماد جیل میں ہو اور وہ آخری سانس تک اپنے ’’پیاروں‘‘ کو یاد کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو جائے۔۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کے بیٹے ماں کے ساتھ جنازے میں شرکت کے لئے کیوں نہیں آ رہے؟وہ کیوں آئیں؟جس ملک میں شراب کی بوتلیں شہد میں بدل جاتی ہوں، جس ملک میں انصاف کے نام پر ناانصافی کا بول بالا ہو۔ جہاں ملزم یا مجرم سے ’’اقبالِ جرم‘‘ کرانے سے پہلے سزا سنانے کا رواج زور پکڑ چکا ہو۔ وہاں کوئی قدم رکھے تو کیسے رکھے؟

حسن نواز اور حسین نواز اگر ماں کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور انہیں اس وقت تک واپس نہیں آنا چاہیے جب تک انصاف کا سورج اپنی اصلی جگہ سے طلوع نہیں ہوتا۔کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ کسی انسان کی موت پر تعزیت اور سچے دل سے تعزیت کسی بھی مرنے والے کا زندہ انسانوں پر آخری حق ہوتا ہے، جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

مرنے والا اپنے گناہ ثواب کے ساتھ سب سے بڑی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے معاملات کا تعلق انسانوں کے ساتھ نہیں خدا کے ساتھ جڑجاتا ہے۔

سو ہمیں سوشل میڈیا سے لے کر ایک عام سطح پر بھی کلثوم نواز کے لئے دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔ ان کے شخصی اور سیاسی کردار کو اجاگر کرنا چاہیے۔ طنز اور تنقید کرنے کے لئے نوازشریف موجود ہیں ان پر تیر برساؤ مگر ایک مرحوم عورت کے لئے اپنی زبانوں کو غلط استعمال نہ کرو اور یاد رکھو کہ ’’دشمن مرے تو خوشی نہ کریئے‘‘۔

مزید : رائے /کالم