داڑھی رکھنے کا رواج

داڑھی رکھنے کا رواج
داڑھی رکھنے کا رواج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسانی مردوں کے چہرے پر بالوں کی Growth ایسے ہی قدرتی امر ہے جیسے اِنسان کے سر کے بال۔ چہرے پر بالوں کی اَفزائش کو ہم اپنی زبان میں داڑھی کہتے ہیں۔

شروع میں داڑھی رکھنا اِنسانی مجبوری تھی۔ قدیم انسان کو بالوں کی تراش خراش کا نہ ہی طریقہ آتا تھا اور نہ ہی اُس کے پاس کوئی ایسے اوزار تھے جن سے وہ اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کی کاٹ چھانٹ کرسکتا،لیکن جب انسان نے سیپی(Shell) کو چاقو کی طرح استعمال کرنا سیکھ لیا تو اُس نے اسی آلہ سے بالوں کو تراشنا بھی شروع کر دیا۔ انسانی سر اور چہرے پر لمبے بالوں کی اہمیت ہزاروں سال، مختلف وجوہات سے برقرار رہی ہے۔

کہیں پر اِسے مردانگی اور طاقت کا مظہر سمجھا جاتا تھا، کہیں اس کی مذہبی اہمیت تھی جیسے ہندومت میں سنت، سادھو بڑی بڑی جٹائیں اور لمبی داڑھیاں رکھتے تھے۔ سکھ خالصہ کا آغاز گوروگوبند سنگھ کے زمانے سے شروع ہوا۔ سکھ مذہب میں داڑھی اور کیس (خواتین کی طرح لمبے بال)رکھنے کو حکماً نافذ کیا گیا۔

لمبی داڑھی سِکھ مردوں کی پہچان بن گئی۔ اسی طرح عیسایوں کا ایک فرقہ (Amish) آمِش بھی اپنے عقیدے کے مطابق داڑھی رکھنا لازمی سمجھتا ہے۔ یہ فرقہ امریکہ کی شمالی ریاستوں میں آباد ہے۔ کٹّر یہودی بھی داڑھی رکھنا توریت کے حکم کے مطابق ضروری سمجھتے ہیں ۔ داڑھی رکھنا شاہی درباروں کے مصاحبین کے لئے ضروری تھا۔

ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں، بلکہ مغلوں کے زمانے میں داڑھی اور مونچھ رکھنا درباری رکھ رکھاؤ کا جزوِ لازم تھا۔امریکہ کے اوّلین صدور داڑھی یا لمبی اور گھنی قلمیں (Whisker) رکھتے تھے۔ 1913ء کے بعد کے تمام امریکی صُدورClean shave نظر آتے ہیں۔

پورے یورپ میں 1940ء تک ہر مرد مُونچھ ضرور رکھتا تھا۔ آپ اُس زمانے کے کسی بھی اِدیب ، سائنسدان یا سیاسی رہنماؤں کے چہرے پر نظر دوڑائیں، اُن کی Walrus نما(نیچے لٹکی ہوئی)مونچھیں نظر آئیں گی۔ سوائے ہٹلر کی مونچھ کے جو Butterfly مونچھ کہلاتی تھی۔

مسلمانوں میں داڑھی اکثر فقہوں اور چاروں آئمہ کے مطابق فرض ہے اور چند فرقوں کے مطابق یہ سنُت ہے، لازم نہیں ہے۔ دراصل ظہور اسلام سے پہلے بھی عرب قبیلے عصری تقاضوں کے مطابق داڑھی مونچھ رکھتے تھے۔

اُن عرب قبائل کی داڑھیوں کی وضع قطع بھی اپنے زمانے کے مطابق تھی۔ جب عربوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو اُنہیں ہدائت ملی کہ وہ اپنے آپ کو کفّار اور مشرکین سے ممتاز رکھنے کے لئے داڑھی ایک خاص طرز اور سائز کے مطابق رکھیں اور مُونچھوں کو تراشیں۔

جب فیشن اور مذہبی ہدائت مشترک ہو جاتے ہیں تو لوگ اُس فیشن کو زیادہ خوشدلی سے اپناتے ہیں۔ داڑھی مونچھ رکھنا زمانہ قدیم سے ہی مردانگی کی نشانی سمجھا جاتا رہا ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد جب داڑھی ایک مخصوص تراش خراش کے ساتھ فرض ہو گئی تو اس فرض کو بہت صدیوں تک دنیا کے مسلمانوں نے جوش و خروش سے نبھایا۔

جیسے کہ میَں نے اُوپر لکھا ہے کہ داڑھی کو تراشنے کے اِبتدائی اوزار سمندری سیپی اور تانبے کے تیز دھار بلیڈ سے بنائے جاتے تھے۔ چہرے کو صفاچٹ رکھنے کا رواج 4000 سال پہلے سے ہی پڑ چکا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ شیو کرنے کی سہولت کے باوجود 1940 تک مرد حضرات اپنے چہروں پر بالوں کی اَفزائش کو اشرافیہ کی علامت سمجھتے تھے خواہ وہ بال داڑھی کی شکل میں ہوں یا گھنے Whiskers کی شکل میں ہوں۔داڑھی شیو کرنے کی سہولت عام ہونی شروع ہوئی جب مسٹر جلٹ(Gillette) نے سیفٹی ریزر ایجاد کیا۔ سیفٹی ریزر کی ایجاد سے پہلے مرد حضرات سٹین لیس اسٹیل (Stainless steel) کے اُسترے استعمال کرتے تھے۔

بہت کم لوگ اُسترے سے اپنی شیو خود کر سکتے تھے۔ اُسترے کو محفوظ طریقے سے اُنگلیوں میں پکڑ کر چہرے کی شیو کرنا بڑا خطرے کا کام سمجھا جاتا تھا، اس لئے داڑھی بنانے کا کام اکثر حجام حضرات ہی کرتے تھے۔

دراصل زمانہ قدیم سے جراحی اور حجام کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جس طرح Anatomy کا علم جراحوں کو موروثی طور پر حاصل ہوتا تھا اور اُنہیں جراحی کے آلات کو ہاتھوں میں بغیر لرزش لائے استعمال کرنے کا ہنر آتا تھا، اسی طرح وہ چہرے کی اُسترے سے شیو کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔ سیفٹی ریزر نے شیو کرنا آسان بنا دیا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں بائسکوپ (Biscope) نے فلموں میں ہیرو کو کلین شیو دکھانا شروع کر دیا۔ کلین شیو ہیرو مردانگی، وجاہت اور حُسن کی علامت بن گیا۔ برِصغیر میں سِگرٹ بھی اُن دِنوں نیا نیا متعارف ہوا تھا۔

منہ سے دھواں اُڑاتا ہوا کلین شیو فلمی ہیرو ہمارے نوجوانوں کا ماڈل بن گیا۔ 1920 سے 1977 تک برِصغیر کے جتنے بھی سیاسی ادبی اور فلمی اکابر ہیں، اُنہیں آپ دیکھ لیں، وہ کلین شیو تھے۔ اُن میں خواہ قائداعظم ہوں، لیاقت علی خاں ہوں، سہروردی ہوں، نہرو اور گاندھی یا پٹیل ہوں حفیظ جالندھری ہوں، ساحر لدھیانوی، کرشن چندر، احمد فراز، منیر نیازی، رئیس امروہوی یا فیض احمد فیض ہوں، غرض کہ 60-50 سال کا یہ عرصہ تمام دنیا میں داڑھی مونڈوں کا رہا ہے۔

80 اور نوے کی دھائی میں افغانستان پر روسی حملے نے امریکہ کی پروپیگنڈا مشنری کو حرکت دی۔ افغانستان پر روسی حملے کو اسلام پر حملہ بنا دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہو کر امریکہ کا ہم خیال ہو گیا۔ جہاد کے قرآنی فلسفے کو اپنے مقصد کے لئے امریکہ نے توڑ موڑ کر دنیا کے مسلمان نوجوانوں میں پھیلا دیا۔ افغان وار میں جہادی نوجوان جوق در جوق شامل ہونا شروع ہوئے۔

جہادی کی پہچان سیاہ گھنی داڑھی بن گئی۔ جب تک روس کو شکست نہیں ہوئی، یہ سیاہ داڑھی امریکی نوجوانوں کو بھی بطور فیشن Fascinate کرنے لگی۔ یورپ، امریکہ ، برطانیہ میں گورے نوجوانوں نے چہرے پر داڑھی سجائی ،ٹخنوں سے اُونچی شلوار قمیض اور پاؤں میں فوجی بوٹ کو بطور مردانگی فیشن اپنا لیا۔ ہمارے پاکستان میں بھی غیر جہادی نوجوان، جو پہلے سے ہی کسی نہ کسی مذہبی سیاسی جماعت سے متاثر تھے یا وابستہ تھے، نے داڑھیاں بڑھالیں ہمارے ملاؤں اور تبلیغی جماعت والوں کی بن آئی۔ داڑھی عبادت کے 5 ارکان سے بھی بڑا فرض بنا دی گئی۔

برِ صغیر کے مسلمان اِسلام کی معاشرتی، سماجی اور بہبودِ انسانی کی تعلیم کو پسِ پشت ڈال کر ظواہر(Optics) پر زیادہ زور دینے لگے۔ اندر سے میَں مسلمانیت پر عمل کروں یا نہ کروں، ظاہری طور پر میَں مجسمہِ مسلمانیت نظرآؤں، والی کیفیت ہوتی چلی گئی۔

ماتھے پر کالے محراب کا نشان، کپڑے کی ٹوپی، ٹخنوں سے اُونچی شلوار اور چہرے پر لہراتی داڑھی میری مسلمانیت کی تشہیر کا باعث بن گئی۔ ایرانی انقلاب نے بھی داڑھی کی نشاۃِ ثانیہ کی۔ شیعہ نوجوانوں کی داڑھی ، بہر حال سُنّیوں کی داڑھی سے مختلف ہونی ضروری تھی۔ بجائے لہراتی داڑھی کے اِن کے ہاں خشخشی داڑھی مسلمانیت کی علامت بن گئی۔

غرض کہ افغانی اور ایرانی اِنقلاب نے داڑھی کو دوبارہ زندگی بخشی۔ 21ویں صدی کے اوائل سے برِصغیر کے نوجوانوں میں شرعی داڑھی صرف تبلیغی جماعت تک یا Orthodox مسلمانوں تک محدود ہو گئی۔

کمپیوٹر ، سمارٹ فون، بصری میڈیا اور ہندی فلموں نے جدید فیشنی داڑھی کو جنم دیا۔ جو آج کل ہندی اور پاکستانی فلموں کے نوجوان ہیروز نے اپنے چہروں پر یہ ہی چھِدری داڑھی سجائی ہوتی ہے۔ مرحوم نقیب اللہ محسود کی آرٹسٹک داڑھی کے بالوں کی نوک دھار ایسی بنائی گئی تھی کہ وہ چہرے پر پینٹ(Paint) شدہ لگتی تھی۔ داڑھی کے موجودہ فیشن کے ساتھ ساتھ سعودی داڑھی کا بھی چلن کچھ عرصے کافی مقبول رہا، بلکہ ایسی چُگی داڑھی تو میری بھی ہے، لیکن احمدی جماعت نے ایسی چُگی داڑھی کو اپنا مذہبی نشان بنایا ہوا ہے۔

داڑھی چونکہ مرد کے چہرے کا اہم حصہ ہے اس لئے اس کی تراش خراش عصری فیشن کے ساتھ بدلتی رہے گی، لیکن ہمارا orthodox طبقہ داڑھی کی شکل وہ ہی رکھے گا جس میں اِنسان کا آدھا چہرہ بالوں سے ہی ڈھکا رہے۔ بقول حضرت مولانا مودودی، اسلام میں داڑھی ہے، داڑھی میں اِسلام نہیں۔

مزید : رائے /کالم