ہماری اقدارکا جنازہ

ہماری اقدارکا جنازہ
ہماری اقدارکا جنازہ

  

بیگم کلثوم نواز رخصت ہوئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔بیگم کلثوم نواز کا رکھ رکھاؤ ہماری معاشرت کا آئینہ تھا۔دیکھنے میں ویسی ہی تھیں جیسی ہماری اقدار سے جڑی بیشتر عورتیں ہوتی ہیں،شلوارقمیض،سر پر دوپٹہ اور گھریلو سبھاؤ کو سمجھنے والی۔

پڑھی لکھی عورت تھیں۔ اردو میں ایم اے کیا۔ ان کا مقالہ ’’رجب علی بیگ سرور کا تہذیبی شعور‘‘کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ ادبی ذوق بھی رکھتی تھیں اور قراۃ العین حیدر سے متاثر تھیں۔ عمر بھر میاں نوز شریف کی ہمقدم رہیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر مشرف نے جب شریف خاندان کو قید کیا تو بیگم کلثوم نواز 1999ء سے 2002ء تک مسلم لیگ نواز کی صدررہیں۔ اور اسی دوران جون 2000ء میں جب دیگر لیگی رہنما گرفتار ہو رہے تھے، انہوں نے ڈکٹیٹر مشرف کے خلاف ریلی نکالی اور 12 گھنٹے گاڑی میں بند رہیں۔

اس ریلی کی یادگاروہ تصویر ہے جب انہوں نے گاڑی کے دروازے بند کر لئے اوریوں ان کی گاڑی کو کرین سے اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح تاریخ میں ڈکٹیٹروں کے آگے ڈٹ جانے والی عورتوں میں فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا نام بھی شامل ہوا۔ پھر یوں ہوا کہ مریم نواز سامنے آئی اور اس کی للکار نے کئی کانوں میں چھید کر دئے۔

اب کی بار ڈکٹیٹر پردے کے پیچھے تھا، مگر ایسا کہ 'صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں!’ والا معاملہ تھا اور مریم نواز کو اپنے والد کے ساتھ دسیوں پیشیاں بھگتنے کے بعد ایک غیر واضح الزام میں لمبی سزا دے دی گئی۔

سزا سے پہلے میاں نواز شریف اور مریم نواز کو ان پیشیوں، حاضریوں اور جلسوں کے ساتھ ساتھ بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کی فکر بھی لاحق تھی۔ کیا ہم میں سے کوئی بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ دکھ کی لہر دن بھر کام کرتے کرتے کیسے آپ کے اندر ون چلتی رہتی ہے۔ کام رکتا نہیں، درد تھمتا نہیں، مگر ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے سے دل اور جسم دونوں گھائل ہو جاتے ہیں۔

اندر کے ان زخموں کے ساتھ جب باہر سے بھی نشترکرم فرما ہو رہے ہوں تو کیا کیفیت ہو گی۔تیر کہاں کہاں سے نہیں آئے؛ عمران خان، نعیم الحق، یاسمین راشد، اعتزاز احسن، عامر لیاقت،شیخ رشید، صابر شاکر، عارف بھٹی، سمیع ابراہیم، شاہد مسعود، مبشر لقمان، نادیہ مرزا، حسن نثار، کاشف عباسی، جسمین منظور، شاہین صہبائی،معید پیرزادہ، کامران شاہد، حمزہ عباسی اور نیب کے عہدیداران۔

اس کے علاوہ ادیب، شاعر، پڑھے لکھے لوگ، ان پڑھ لوگ۔۔۔شاید ہی کسی بد خونے اپنا حصہ اس کارِ بد میں نہ ڈالا ہو۔ اس فہرست میں جو صحافی اور ادیب شامل ہیں، آپ ان کے نثرپارے اور شعرنامے یا کارنامے بھی دیکھ لیں، اگر بھولے سے کوئی اعلی پائے کا لکھاری مل جائے تو بتائیں!بسترِِ مرگ پر ایک عورت پڑی ہے کچھ ایسے پیغامات وائرل کیے جا رہے ہیں کہ 'بیماری جھوٹ ہے، کینسر ڈرامہ ہے۔

نواز شریف ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں'، حالانکہ میاں نواز شریف نے ہر پیشی بھگتی۔' میاں صاحب اور مریم نواز اب لندن جائیں گے تو واپس نہیں آئیں گے'، پھر بھی دونوں ہر بار واپس آئے۔ 'میاں صاحب کی سزا کا اعلان موخر نہیں ہو گا کیونکہ یہ پھر وہیں رہ جائیں گے'۔

میاں نواز شریف کی سزا کا اعلان ہوا۔ ببانگِ دہل بیماری کو ڈرامہ کہنے والوں نے پٹڑی بدلی اور اب یوں گویا ہوئے 'بیگم کلثوم نواز اب دنیا میں نہیں رہیں اور ان کی موت کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب میاں صاحب کی سزا کا اعلان ہو گا اور یوں یہ لوگ واپس نہیں آئیں گے'۔ اس دوران کہانی میں عجیب موڑ آتے رہے۔نواز شریف اور مریم نواز نے اس کٹھن موقع پر واپسی کا اعلان کیا اور یار لوگوں نے نئے پیغام جاری کرنا شروع کئے۔

کل بیگم کلثوم نواز چانک مر جائیں گی، جو کہ پہلے ہی مر چکی ہیں، اور میاں صاحب جہاز میں نہیں بیٹھیں گے'۔ بیگم کلثوم زندہ رہیں اور یہ دونوں وطن واپس آئے۔ گرفتاری بھی دے دی۔ وہ پھر بھی زندہ رہیں۔ پھر لوگوں نے انہیں الیکشن سے بالکل پہلے مارنے کی کوشش کی کہ 'اب مسلم لیگ نواز یہ ڈرامہ کرے گی اور ہمدردی کا ووٹ بٹورے گی۔' بیگم کلثوم نواز پھر بھی زندہ رہیں۔

الیکشن کو بہت بھونڈے طریقے سے سنبھالا گیا۔ الیکشن گزر گیا۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز جیل میں رہے اور بیگم کلثوم نواز دور دیس میں زندہ رہیں۔

پھر ایک خالی اور خاموش دن کو، جب الزام لگانے والوں کے ترکش میں کوئی تیر نہ بچا تو وہ چپکے سے اللہ کو پیاری ہو گئیں۔

میاں نواز شریف اور مریم نواز کو جنازہ میں شرکت کے لئے پیرول پر رہائی ملی۔میاں نواز شریف نے وہاں جانا تھا جہاں "اس کی آدھی صدی کی رفاقت کا پورا بدن" پڑا تھا۔اس سے بڑا دکھ اور نقصان شاید کوئی نہیں۔ بیٹی نے ماں کو آخری بار ملنا تھا، ہماری زمین نے اس تعلق، اس ملاپ، اس ساتھ، ایک دوسرے کے دکھ کے اثاثے سنبھالنے والے اس عظیم رشتے پر کتنے شبد کہے، کتنے گیت بنے،۔۔۔اور شاید اسی آخری ملاقات کے لئے کہا'ماواں دھیاں ملن لگیاں، چارے کندھاں چوبارے دیاں ہلیاں۔۔۔

ہم نے سوچا کہ دکھ کی گھڑی میں تو قاتلوں رہزنوں میں بھی دستور ہوتا ہے کہ میت کی حرمت کا لحاظ رکھتے ہیں، مگر ان بدبخت توپوں کے دہانے پھر سے کھل گئے۔اب کی بار دکھ یہ تھا کہ 'چند روزہ رہائی بھی کیوں ملے گی۔ اب ہمدردی کیوں کر رہے ہیں لوگ۔ روز ہی لوگ مرتے ہیں، یہ کوئی انوکھی وفات ہوئی ہے۔'غرض یہ کہ نامعقولینِ سیاست و صحافت سے لے کر عام عوام تک کون چپ رہا ہو گا۔

لندن سے میت روانہ کرتے ہوئے کارکنان نے بیگم کلثوم نوازکے لئے نعرے لگائے تو کلمہء شہادت نہ پڑھنے کا اعتراض اٹھایا گیا۔ حالانکہ میت کوجنازہ کے بعد تدفین کے لئے نہیں لے جا رہے تھے، بلکہ لاہور بھیجا جا رہا تھا جہاں جنازہ ابھی ہونا تھا اور تدفین بھی۔ اسی طرح سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے، مگر مرحومہ کے حق میں دعا کرنے والے، ان کے خاندان سے تعزیت کرنے والے، اور ہمدردی کا اظہار کرنے والے، الگ سے عتاب کا شکار تھے۔ پہلے ایسا کب ہوا تھا۔

بے نظیر بھٹو کے پاس ہسپتال میں سب سے پہلے جو سیاسی رہنما پہنچاتھا وہ میاں نواز شریف تھے۔ پھروہ گڑھی خدا بخش بھی گئے۔ حتی کہ 2013ء الیکشن مہم کے دوران عمران خان جب زخمی حالت میں شوکت خانم ہسپتال میں تھے، نواز شریف صاحب عیادت کے لئے پہنچے۔ پہلے سیاست ہوا کرتی تھی، نفرت نہیں۔تعزیت کرنا تو ہر نرم دل کا شیوہ تھا، وضع داری اور رکھ رکھاؤکا تقاضا تھا،ہماری اقدار کا لازمی حصہ تھا۔کیسی بھی لڑائی ہو، دشمنی ہو، مگر نفرت کا ایسا سیلاب کبھی بھی نہیں تھاجورکھ رکھاؤ کو بھی بہا لے جائے۔

محلے میں کوئی انجان بھی اللہ کو پیارا ہوتا تواس آہ و بکا سے دور اکیلے کمرے میں بھی کسی کا ضمیر اجازت نہیں دیتا تھا کہ موسیقی سن لی جائے۔اب ایسا کیا ہوا ہے۔اب وہ ہوا ہے جو ہونا نہیں چاہئے تھا۔ سیاست دان عوام کو گدھے، زندہ لاشیں، طوائف کے بچے کہہ رہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی دوست، رشتہ دار، بھائی بہن، محلے دار، ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے کا گریبان پکڑ رہے ہیں۔ جو گریبان پکڑنے اور سامنے گالی دینے سے ابھی دور ہیں، وہ سوشل میڈیا جیسی ہوائی چیز کو ہتھیار بنا رہے ہیں اور یہاں سچ بولنے پر ایسی زبان کا سامنا ہے کہ میں نے کبھی وہ زبان سنی نہیں تھی۔ ہم میں سے بیشتر عورتوں نے کم از کم نہ سنی تھی اور نہ استعمال کی تھی۔

یہ سوشل میڈیا تو انسانوں سے نامہء اعمال خود اپنے ہاتھوں ہی لکھوا رہا ہے اور سب جانتے ہیں کہ یہاں مٹا دینے سے بھی کچھ نہیں مٹتا۔یہاں سچ بولنے والے کو کچھ بولنے اور لکھنے سے پہلے تیار رہنا پڑتا ہے کہ اب جواب میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔

آپ کو بھی اور آپ کے بزرگوں کو بھی۔

المیہ یہ ہے کہ ایسا کرنے میں نوجوان، بڑے اور بزرگ سب شامل ہیں،اگر سب یہ چاہتے ہیں کہ بچے یہی زبان بولیں اور یہی اقدار اپنائیں، یا آپ کے بچے ابھی یہی زبان بول رہے ہیں اور آپ کو یہ قبول ہے، تو جاری رکھیں۔ ویسے بھی اس جنازے کے ساتھ ہماری اقدار کا جنازہ تو اٹھ گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم