سی پیک پر طلبہ ریسرچ کریں، معیشت پر توجہ دینی چاہئے ،مقررین

سی پیک پر طلبہ ریسرچ کریں، معیشت پر توجہ دینی چاہئے ،مقررین

لاہور (خصوصی رپورٹ )پاک چائنہ ایکسپو فورم کے زیر اہتمام ''میڈیا اور پاک چین تعلقات میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر '' ایکپوم سنٹر میں سیمینار کا انعقاد،اس موقع پر مجیب الرحمان شامی، رضوان رضی،سلمان عابد،سلمان غنی،سجاد میر، امجد اسلام امجد نے سامعین سے خطاب کیا۔مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ ہمیں تعلیمی شعبے میں ایسے طلباء کی ضرورت ہے جو تحریک پاکستان کی طرح نعرے بازی کی بجائے عملی میدان میں سرگرم ہوں جس کے نتیجے میں قائد اعظم نے پاکستان کا حصول ممکن بنایا جس میں طلباء کا کلیدی کردار تھا۔دنیامیں تمام بڑے معاملات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں بحث و مباحثہ ہمیشہ لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک پر طلباء ریسرچ اور مکالمہ کریں تا کہ وہ اس منصوبے کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔رضوان غنی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی بڑی معیشتوں کا رجحان تجارت کی طرف ہے اس لئے ہمیں بھی اپنی معیشت پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔سلمان عابد نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم سی پیک کے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھائیں، اس موقع کو گنوانے کی صورت میں ہمیں دوبارہ ایسا موقع ملنا بہت دشوار ہو گا۔سلمان غنی نے چین کے صدر کا مقولہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دور کے رشتے دار سے قریب کا ہمسایہ بہتر ہے۔سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے بہت اہم ہے جس کو رکوانے کے لئے دشمن پوری کوشش میں ہے۔سجاد میر نے اس موقع پر کہا کہ سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا تھا کہ انڈیا ہم سے دوستی کی ایک قیمت وصول کرنا چاہتا ہے جو نہ تو کشمیر کا مسئلہ ہے نہ پانی کا، وہ ہم سے سی پیک پر کام روکنے کا خواہاں ہے اسی وجہ سے آئی ایم ایف یہ سمجھ رہا ہے کہ پاکستان کو قرض کی فراہمی کے نتیجے میں چین کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔امجد اسلام امجد نے کہا کہ ہمارے چینلز کو اپنے مستقل نمائندے چین میں تعینات کرنے چاہئیں اور چینی میڈیا سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔چین میں اردو زبان کے فروغ کے لئے وہاں سے بھی اردو اخبار کا اجرا کرنا چاہئے۔فلم انڈسٹری میں پاک بھارت تعلقات کی بجائے ہمیں پاک چین تعلقات کو موضوع بحث بنانا چاہئے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید تیزی کے ساتھ پروان چڑھیں۔ ڈائریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی لاہور قیصر عباس نے میڈیا کے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہمیں تعلیمی بنیادوں پر چائنہ کے مطالعاتی دوروں کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں پاک چین تعلقات کو تقویت ملے گی اور طلباء کو وہاں کی ثقافت اور چین کی اقتصادی ترقی کی وجوہات جاننے کا موقع ملے گا۔تقریب کے آخر میں ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی راحیل قمر نے شرکاء میں سووینئر تقسیم کئے۔ طلباء کے اصرار پرہیڈ آف ماس کمیونیکیشن سہیل ریاض نے شرکاء کو کامسیٹس یونیورسٹی کا انفرادی دورہ کرنے کی دعوت دی جسے مہمانوں نے قبول کر لیا۔

مزید : کامرس