پاک چائنہ بزنس فورم کا انعقاد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھائے گا، گورنر پنجاب

پاک چائنہ بزنس فورم کا انعقاد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھائے گا، ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)کامسیٹس یونیورسٹی کے زیر اہتمام چھٹی پاک چائنہ بزنس فورم کی ایکسپو لاہور میں افتتاحِی تقریب سے خطاب میں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ پاک چائنہ بزنس فورم میں آٹو سیکٹر،ٹیکسٹائل اورفوڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کیلئے بہترین مواقع سامنے آئیں گے،پاک چائنہ بزنس فورم کا انعقاد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کیلئے اہم اقدام ثابت ہوگا اور ملک میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے چینی وفد کا شکریہ ادا کیا انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں کو سولر پینل پر منتقل کرنے کی بھی بات کی۔اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پاکستان کے اپنے ذرائع استعمال کرکے بجلی پیدا کرین گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں درآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا اور برآمدات میں کمی کرنے کیلئے کاوشیں کرنی ہونگی انہوں نے عمران خان کے دورہ چین کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ اس بزنس فورم کے انعقاد سے پاکستان میں کاروبار کے مواقع میں نہایت مثبت پیش رفت ہوگی اور حکومت پنجاب مہمان کاروباری شخصیات کے لیے انتظامات کو احسن طریقے سے سرانجام دے گی۔ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی راحیل قمر کامسیٹس یونیورسٹی کا شمار پاکستان کی ٹاپ لیول کی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے جس کا اعتراف ایچ ای سی،نیچر انڈیکس, ٹائمز ہائیر ایجوکیشن نے رینکنگ کے ذریعے کیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی نے حال ہی میں دو ہزار سے زائد ایمپیکٹ فیکٹر پبلیکیشنز کا اعزاز اپنے نام کرکے تمام یونیورسٹیز پہ سبقت حاصل کر لی ہے. حال ہی میں شنگھائی (چائنہ) انٹرنیشنل یونیورسٹیز کی درجہ بندی میں کامسیٹس کو پاکستان بھر میں نمبر ون یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے۔ایگزیٹو ڈائریکٹر جنید زیدی نے کہا کہ انہی وجوہات اور سرگرمیوں کی وجہ سے کامسیٹس یونیورسٹی اول ہے۔ ہم تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی یقین رکھتے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے مواقعے ملیں، انہوں نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے ملک میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں،1.5بلین ڈالر کا نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے جس سے پانچ لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔

جی ڈی پی بڑھے گی تو ملک میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔اس موقع پر چینی نمائندے مسٹر وانگ زی نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کے استحکام کے لئے ملکر کام کریں گے،پاکستانی اور چینی سرمایہکار مل کر دونوں ممالک کی بہتری کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ڈائریکٹر لاہور کیمپس قیصر عباس نے کہا کہ پاک چائنہ بزنس فورم میں آٹو سیکٹر،ٹیکسٹائل اورفوڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کیلئے بہترین مواقع سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بزنس ایکسپو آنے والے طلباء کے لئے مشعل راہ ہیں اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ تعلیم کے بعد مارکیٹ میں آئیں اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔تین روزہ بزنس فورم میں پاکستانی اور چینی تاجروں کے درمیان بزنس میٹنگز، صنعتی مصنوعات کی نمائش اور سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے.بزنسفور م میں پاکستان اورچین سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سرمایہ کارشرکت کررہے ہیں،نمائش میںآٹوموبائلز،ٹیکسٹائل،انفارمیشن ٹیکنالوجی،انرجی اورفوڈانڈسٹری سمیت مختلف پروڈکٹس کونمائش کے لئے پیش کیا جائیگا،نمائش میں100 چینی کمپنیوں کے علاوہ150 پاکستانی کمپنیاں بھی شرکت کررہی ہیں جبکہ 3سوسے زائدچینی سرمایہ کاروں کی تعدادلاہور پہنچ چکی ہے،۔ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی مس شہلا جاوید نے بتایا کہ وہ 2002 سے پاکستان میں خواتین کو کاروباری نظام کی ترقی کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں وہ ایک ویمن انڈسٹری لاہور میں بنانے کے لیے کوشاں ہیں جیسی کہ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں ہے بھارت میں چار مختلف یونٹ اور بھی کام کر رہے ہیں۔نئیکاروباریمنڈیاں تلاشکرنا،ملکمیں سرمایہکاروں کولانااورنئی صنعتیں لگانابہت بڑاکام ہے کا مسیٹس یونیورسٹی، ’’پاک چین بزنس فورم‘‘ کی صورت میں تجارتی شراکت داری کے ذریعے اس کام کوبخوبی سر انجام دے رہاہے۔ جس کابنیادی مقصددونوں ممالک میں ایک تویونیورسٹی اورصنعت کا آپس میں باہمی تعلقات قائم کرنااوردوسرایہ کہ اقتصادی شعبے کو مضبوط کرنا ہے۔ لیکن اس کیساتھ ساتھ فورمم کااضافی مقصدتوانائی،معلومات،مواصلات،ٹیکنالوجی،ٹیکسٹائل،زراعت کے شعبوں میں بہتری لانا ہے

جس کا اعتراف ایچ ای سی،نیچر انڈیکس, ٹائمز ہائیر ایجوکیشن نے رینکنگ کے ذریعے کیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی نے حال ہی میں دو ہزار سے زائد ایمپیکٹ فیکٹر پبلیکیشنز کا اعزاز اپنے نام کرکے تمام یونیورسٹیز پہ سبقت حاصل کر لی ہے. حال ہی میں شنگھائی (چائنہ) انٹرنیشنل یونیورسٹیز کی درجہ بندی میں کامسیٹس کو پاکستان بھر میں نمبر ون یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے۔ایگزیٹو ڈائریکٹر جنید زیدی نے کہا کہ انہی وجوہات اور سرگرمیوں کی وجہ سے کامسیٹس یونیورسٹی اول ہے۔ ہم تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی یقین رکھتے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے مواقعے ملیں، انہوں نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے ملک میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں،1.5بلین ڈالر کا نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے جس سے پانچ لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ جی ڈی پی بڑھے گی تو ملک میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔اس موقع پر چینی نمائندے مسٹر وانگ زی نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کے استحکام کے لئے ملکر کام کریں گے،پاکستانی اور چینی سرمایہکار مل کر دونوں ممالک کی بہتری کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ڈائریکٹر لاہور کیمپس قیصر عباس نے کہا کہ پاک چائنہ بزنس فورم میں آٹو سیکٹر،ٹیکسٹائل اورفوڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کیلئے بہترین مواقع سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بزنس ایکسپو آنے والے طلباء کے لئے مشعل راہ ہیں اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ تعلیم کے بعد مارکیٹ میں آئیں اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔تین روزہ بزنس فورم میں پاکستانی اور چینی تاجروں کے درمیان بزنس میٹنگز، صنعتی مصنوعات کی نمائش اور سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے.بزنسفور م میں پاکستان اورچین سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سرمایہ کارشرکت کررہے ہیں،نمائش میںآٹوموبائلز،ٹیکسٹائل،انفارمیشن ٹیکنالوجی،انرجی اورفوڈانڈسٹری سمیت مختلف پروڈکٹس کونمائش کے لئے پیش کیا جائیگا،نمائش میں100 چینی کمپنیوں کے علاوہ150 پاکستانی کمپنیاں بھی شرکت کررہی ہیں جبکہ 3سوسے زائدچینی سرمایہ کاروں کی تعدادلاہور پہنچ چکی ہے،۔ ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی مس شہلا جاوید نے بتایا کہ وہ 2002 سے پاکستان میں خواتین کو کاروباری نظام کی ترقی کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں وہ ایک ویمن انڈسٹری لاہور میں بنانے کے لیے کوشاں ہیں جیسی کہ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں ہے بھارت میں چار مختلف یونٹ اور بھی کام کر رہے ہیں۔نئیکاروباریمنڈیاں تلاشکرنا،ملکمیں سرمایہکاروں کولانااورنئی صنعتیں لگانابہت بڑاکام ہے کا مسیٹس یونیورسٹی، ’’پاک چین بزنس فورم‘‘ کی صورت میں تجارتی شراکت داری کے ذریعے اس کام کوبخوبی سر انجام دے رہاہے۔ جس کابنیادی مقصددونوں ممالک میں ایک تویونیورسٹی اورصنعت کا آپس میں باہمی تعلقات قائم کرنااوردوسرایہ کہ اقتصادی شعبے کو مضبوط کرنا ہے۔ لیکن اس کیساتھ ساتھ فورمم کااضافی مقصدتوانائی،معلومات،مواصلات،ٹیکنالوجی،ٹیکسٹائل،زراعت کے شعبوں میں بہتری لانا ہے

مزید : کامرس