جبراور جمہوریت (قسط نمبر2)

جبراور جمہوریت (قسط نمبر2)

میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور جمہوریت کی شمع روشن کئے رکھی ۔روزنامہ پاکستان میں اس کتاب کو قسط وار شائع کیا جارہا ہے ۔اور پھر اس صورتحال سے بچے الگ سہمے رہتے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ ساڑھے تین سالہ زکریا جو اپنے باپ (حسین) سے بہت زیادہ مانوس ہے، یہاں تک کہ وہ رات کو اپنے باپ کے پاس ہی سوتا تھا، ہر وقت ڈیڈی ڈیڈی پکارتا رہتا، ادھر ادھر پھرتا رہتا۔ مختلف کمروں میں اپنے ڈیڈی کو تلاش کرتا اور ناکام ہونے پر رونے لگتا۔ یہ کیسا کرب و الم کا عالم تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر آنسو نکل آیا کرتے، اپنی اور بچوں کی پریشانی کے ساتھ یہ فکر بھی لاحق رہتی کہ نجانے نواز شریف صاحب، شہباز شریف اور بیٹے حسین نواز کے علاوہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہو۔ میں بیٹی مریم اور اسماء کی طرف دیکھتی تو ان دونوں کی نگاہوں میں باپ کے لئے تشویش کے سائے نظر آتے، ان کی آنکھوں سے برسنے والے آنسوؤں میں ایک ہی سوال ہوتا، ابو کیسے ہوں گے؟

پھر وہ لمحہ آگیا جب مجھے کچھ فیصلے کرنے پڑے، اپنی ساس، سسر، بیٹیوں اور چھوٹے بچوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے فیصلہ کرنا پڑاکہ اب رونے دھونے کی بجائے عمل کا وقت آگیا ہے۔ یہ میری اپنی ذات کا معاملہ بھی تھا کہ میرے شوہر، بیٹے، دیور اور ان کے ساتھیوں کی زندگیاں داؤ پر لگی تھیں اور میرے وطن عزیز کا مسئلہ بھی تھا، جسے چند طالع آزما جرنیلوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔ یہ عمل کی جانب پہلا قدم تھا، جب خود ساختہ حکومت نے اپنی کیبنٹ کا اعلان کیا اور اپنے اردگرد جن لوگوں کو اکٹھا کیا تو میں اچھی طرح جان گئی تھی کہ یہ لوگ دین اور پاکستان کے لئے خطرہ ہیں اور مجھے یہ بھی فکر تھی کہ جو لوگ پچھلے پچا س سال سے اس ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، اس دفعہ وہ پاک فوج کو اپنے ناپاک ارادوں کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ دراصل یہ فوجی انقلاب نہیں ہے، یہ تو منتخب جمہوری حکومت کو ملک میں قرآن و سنت کے قانون کو لاگو کرنے سے باز رکھنے کے لئے اس کی راہ میں ہنود و یہود کی ایک رکاوٹ ہے۔

ایک دن میں نے پرویز مشرف کو خط لکھا: ’’ ٹھیک ہے تم نے (Take Over) قبضہ کرلیا ہے مگر کم از کم میرے شوہر اور میرے بیٹے سے تو میری بات کرادو، لیکن اس کا کو ئی جواب نہ آیا۔ دو دن کے بعد پھر میں نے پرویز مشرف کو ایک اور خط لکھا۔ اس طرح میں نے 10 خط لکھے، لیکن کسی کا جواب نہ دیا گیا۔ پھر ایک دن میں نے فوجیوں کو بلاکر پوچھا کہ تم میرے خط پرویز مشرف کو پہنچاتے بھی ہو یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کا ہر خط دو گھنٹے بعد جنرل پرویز مشرف تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ ہم یہاں سے خود فیکس کرتے ہیں۔ ان فوجیوں میں ایسے بھی تھے جن کی آنکھوں میں ہمارے لئے احترام اور دلوں میں ہمدردیاں تھیں، لیکن ان کی یہ ہمدردیاں ہمارے کسی کام کی نہیں تھیں۔

قدرت کو یہ منظور تھا کہ عملی جدوجہد کا دائرہ پھیلتا چلا جائے۔ اس جدوجہد میں ہمیں سب سے پہلے جو بیرونی مدد ملی، وہ جامعات کی پندرہ سے اٹھارہ سال عمر تک کی بچیاں تھیں۔ وہ ہمارے پاس آنے کے لئے رائیونڈ فارم کے بیرونی گیٹ تک آئیں، لیکن انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ باپردہ اور صوم صلوٰۃ کی پابندیہ بچیاں ہر روز گیٹ سے واپس لوٹادی جاتیں۔ ہمیں اس صورتحال کی کچھ خبر نہیں تھی۔ ایک دن ان بچیوں نے جرأت مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ گیٹ کے باہر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے تمام نمازیں گیٹ کے آگے روڈ پر ادا کیں اور اجتماعی دعا کی، اپنے اللہ سے استقامت اور حوصلے کی دعا کی۔ پھر انہوں نے جدید اسلحہ سے لیس فوجیوں کے سامنے اعلان کیا:

’’آج ہم اندر ضرور جائیں گی اگر تم لوگوں نے ہمارے اوپر گولیاں چلانی ہیں تو چلاؤ، آج ہماری لاشیں تو گرسکتی ہیں مگر تم ہمیں اندر جانے سے نہیں روک سکتے۔‘‘

بالآخر ان بچیوں کے فولادی عزم کے سامنے فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور 16 اکتوبر کو یہ بچیاں ہمارے قید خانے (رہائش گاہ) تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔ پھر ان کا یہ معمول بن گیا۔ وہ آتیں، دن بھر تلاوت، ذکر الہٰی کرتیں اور شام کو واپس چلی جاتیںِ ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔

فوجیوں نے صرف ہمیں ہی تنگ او رپریشان نہیں کیا بلکہ انسانی ہمدردی کے تمام اصولوں کو بھی پامال کردیا۔ انہوں نے شریف ہسپتال کے مریضوں پر بھی رحم نہ کیا۔ ان کے کسی ملاقاتی کو اندر آنے کی اجازت نہ دی گئی اور نہ ہی مریضوں کو کھانا پہنچانے کی اجازت دی جس سے پریشان ہوکر چند دنوں میں ہی مریض علاج کرائے بغیر ہسپتال سے رخصت ہوگئے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کو بھی مختلف حربوں سے تنگ کیا جاتا رہا اور دیگر ملازمین کو بھی یہاں سے بھگادیا گیا۔(جاری ہے)

اسی دوران دو مرتبہ بی بی سی اور سی این این کے افراد رائیونڈ فارم پر ہماری رہائش گاہ کی فلمیں بنانے کے لئے آئے تو یہاں تعینات فوجیوں کو سادہ کپڑے پہنادئیے گئے اور فوجیوں سے کہا کہ انہیں فوری طور پر کچھ کھلایا جائے ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ باہر جاکر بحیثیت ڈاکٹر ذمہ دار افراد کے خلاف ایکشن لیں گے۔

بہرحال ڈاکٹر نے مجھے کوئی دوائی وغیرہ دی جس کی وجہ سے میں ہوش میں آگئی۔ فوجیوں نے اصرار کیا کہ میں کچھ کھالوں لیکن میرا فیصلہ تھا کہ جب تک میاں صاحب سے میری بات نہیں کرائی جاتی میں کچھ نہیں کھاؤں گی، چاہے میری جان ہی چلی جائے۔ میں اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ چنانچہ اسی رات تقریباً 8 بجے میاں صاحب سے میری چند منٹ کے لئے فون پر بات کرائی گئی۔

وہ عزم و ہمت کے پہاڑ بنے مجھے حوصلہ دیتے رہے، ادھر ایک مدت کے بعد ان کی آواز سن کر میرا یہ عالم تھا کہ آنسو بہتے رہے، میں کچھ کہنا چاہتی تھی، زبان ساتھ نہ دے سکی۔ پس میں ان کی آواز سنتی رہی اور چند بار یہی کہہ سکی ’’آپ ٹھیک ہیں، آپ ٹھیک ہیں‘‘ اس کے بعد جواب میں میاں صاحب نے یہی کہا: فکر نہ کرو میں ٹھیک ہوں لیکن ان کی آواز سے پریشانی ظاہر ہورہی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ انہیں ایک چھوٹی سی اندھیری کوٹھری میں رکھا گیا تھا، جہاں نہ دن کا پتا چلتا تھا نہ رات کا۔ وہ باہر کی دنیا سے بالکل کٹے ہوئے تھے۔ انہیں اخبار نہیں ملتا تھا اس کے علاوہ انہیں یہ بھی فکر تھی کہ نجانے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ یہ 12 اکتوبر 1999ء کی شام کے بعد ان کا مجھ سے پہلا رابطہ تھا، لیکن چند ہی منٹ بعد لائن کٹ گئی۔

اس کے بعد فوجیوں نے اصرار کیا کہ میں کچھ کھالوں، لیکن میں اپنے موقف پر ڈٹی رہی کہ جب تک میرے بیٹے حسین سے بات نہیں کرائی جائے گی، میں اس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گی۔ پھر اگلے روز میری چند منٹ کے لئے حسین سے بات کرادی گئی۔ اس کے بعد میں نے تھوڑا بہت کھانا شروع کردیا۔

انہی ایام اسیری میں میرے والد کا چالیسواں تھا۔ آخر وقت تک فوجیوں کی کوشش رہی کہ میں چالیسویں میں شرکت نہ کرسکوں۔ چالیسویں کے روز میں گاڑی میں بیٹھ کر گیٹ پر پہنچی، لیکن فوجیوں نے نہ تو گیٹ کھولا اور نہ ہی کوئی میری بات سن رہا تھا۔ آخر مجبور ہوکر میں نے ان سے کہا:

’’اگر تم گاڑی کے لئے گیٹ نہیں کھولنا چاہتے تو نہ کھولو، میں پیدل ہی چلی جاؤں گی اور اگر تم میرے پیچھے سے گولیاں چلانا چاہو تو چلادینا۔ جب تک دم میں دم ہے یہ قدم نہیں رکیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر میں پیدل چل پڑی۔

اندرونی گیٹ سے نہر تک تقریباً ایک کلومیٹر فاصلہ پیدل طے کیا۔ جب میں نہر پر پہنچی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میری گاڑی آگئی۔ ان فوجیوں نے یقیناًاپنے اعلیٰ حکام کو میرے اس اقدام کی خبر دی ہوگی۔ اگر اس روز میں رائیونڈ فارم سے گارڈن ٹاؤن تک (والد کی رہائش گاہ) تقریباً 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیتی تو راستے میں آنے والی آبادیوں کا ایک بڑا ہجوم میرے ساتھ ہوجاتا۔ فوجی افسروں نے میرے اس اقدام کے نتائج کا اندازہ کرلیا تھا اور پھر مجھے گاڑی کے ذریعہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئی تو میری گاڑی کے آگے اور پیچھے پانچ پانچ فوجی گاڑیاں تھیں۔ میں اپنی والدہ کے گھر پہنچی تو میری گاڑی کے آگے اور پیچھے پانچ پانچ فوجی گاڑیاں تھیں۔ میں اپنی والدہ کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ وہاں گھر والوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ آئے تھے، لیکن میرے وہاں پہنچنے سے پہلے سب کو نکال دیا گیا اور بعض خواتین کو تو اتنی بدتمیزی سے نکالا گیا کہ ان کے ہاتھوں سے سپارے تک چھین لئے گئے اور باقاعدہ دھکے دے کر باہر نکالا گیا۔ جاتے وقت مجھ سے کہا گیا کہ آپ صرف دو تین گھنٹے وہاں رہ سکتی ہیں مگر پندرہ منٹ کے بعد ہی مجھ سے کہا گیا: بس اب واپس چلیں، لہٰذا مجبورہوکر مجھے واپس آنا پڑا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات کا نقشہ ترتیب پارہا تھا۔ غم کی راہیں ازخود متعین ہورہی تھیں۔ ہاتھ میں اٹھے ہوئے قلم نے قرطاس پر چلنا شروع کیا تو اس پر ابھرنے والی تحریر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے نام خط کی صورت اختیار کرگئی۔

لیکن مشکل یہ تھی کہ یہاں سے کوئی چیز باہر نہیں جاسکتی تھی تاہم کسی نہ کسی طریقے سے یہ خط اس زندان خانہ (رہائش گاہ) سے باہر پہنچا اور چیف جسٹس کو ارسال کردیا گیا۔ ایک ایک کرکے دن گزرتے گئے مگر کوئی جواب نہ ملا۔ پھر میں نے ایک اور خط لکھا جسے چیف جسٹس کو ارسال کرنے کے علاوہ اس کی کاپیاں اخبارات کو بھی بھجوادی گئیں۔ ان خطوط میں مَیں نے اپنی روداد لکھی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ میں نے اس سے پہلے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا اور یہ کہ میں عدالت کے طریقہ کار اور آداب واجبی سے واقف نہیں ہوں۔ میرے گھر سے نکلنے پر پابندی ہے اس لئے ان حالات میں میرے اس خط کو کورٹ پٹیشن سمجھا جائے۔

عدالت نے اس خط کا جواب دیا اور دس دن بعد کی تاریخ پڑی۔ اس کے بعد 17 دن کی تاریخ پڑی۔ پھر ایک دن بریگیڈیئر یوسف آئے اور انہوں نے کہا کہ کل سے آپ آزاد ہیں، ہم نے خواتین پر سے پابندی اٹھالی ہے۔ گویہ پابندی اٹھالی گئی تھی مگر باہر سے کسی کو اندر نہیں آنے دیا جارہا تھا حتیٰ کہ جو ملازم سودا سلف لینے جاتے انہیں بھی گھنٹوں باہر روکتے اور پوچھ گچھ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ سودا وغیرہ لینے کے لئے جو ملازمین باہر جاتے فوجی ان کے ساتھ جاتے اور وہ اسے پابند کرتے کہ سودے کے سوا کوئی اور بات نہیں کی جائے گی۔

پھر میں جب کہیں باہر جاتی تو فوجی گاڑیاں میرے پیچھے ہوا کرتیں۔ خاص طور پر دو جیپوں اور ایک سفید رنگ کی گاڑی میں سوار یہ افراد رائیونڈ میں بھی ہماری نگرانی کیا کرتے اور سائے کی طرح میرے ساتھ رہتے۔ میں جہاں بھی جاتی، جن لوگوں سے ملتی ان کی شامت آجاتی، انہیں پریشان کیا جاتا کہ وہ ہمیں کب سے جانتے ہیں، کیا رشتہ داری ہے؟ اور ایسے ایسے سوال کرتے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا میں نے اپنا آنا جانا صرف والدہ کے گھر تک محدود کردیا۔ بچوں کے بھی باہر جانے پر پابندی تھی۔ ان حالات کے پیش نظر میں نے تمام وقت رائیونڈ فارم میں گزارنا شروع کردیا۔ ان سب پریشانیوں اور پابندیوں کے باوجود میں شکر کرتی ہوں کہ میں یہاں آگئی تھی۔ میرے ساس اور سسر مجھے اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔

ایک دن شام کو ٹی وی دیکھتے ہوئے چھوٹے بچوں نے شور مچادیا کہ ابو (نواز شریف) کی تصویر آرہی ہے۔ میں جلدی سے ٹی وی لاؤنج میں گئی۔ یہ وہ دن تھا جب نواز شریف صاحب کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ان کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی، وہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ شاید شناسا چہرے تلاش کررہے تھے اور یہ جائزہ لے رہے تھے کہ وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے شاید ایک فوجی اہلکار کو دیکھا او راسے پوچھا تھا کہ کدھر جانا ہے۔

اس دن میں عدالت میں نہ جاسکی کیونکہ اس وقت تک ہمیں اخبار کی اجازت نہیں ملی تھی اور ہمیں یہ علم نہیں ہوسکا تھا کہ آج انہیں عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔ بہرحال کچھ اپنے دوست اور خیر خواہ وہاں موجود تھے۔ پھر ہم نے فوری طور پر کراچی جانے کی تیاری شروع کردی۔ اس دوران ایک سرکردہ مسلم لیگی لیڈر کا فون آیا کہ آپ کراچی نہ جائیں کیونکہ یہ آپ کی خاندانی روایات کے منافی ہوگا۔ شاید ان کے مشورے میں اس چیز کا عمل دخل ہوکہ کچھ لوگ ہمارے رہن سہن سے زیادہ واقف نہیں ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کر جیتے ہیں۔ چند لمحوں کے لئے ملنے والی میاں صاحب کی قربت سے ہم خود کو کیسے محروم رکھ سکتے تھے۔ کبھی کبھار کسی اخبار میں آجاتا ہے کہ میری اور نصرت شہناز کی لڑائی ہے جبکہ آج تک ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور انشاء اللہ ہوگی بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس ہمارا تو ایک دوسرے کو دعائیں دیتے وقت گزرتا تھا۔ بہرحال یہ ان کا مشورہ تھا لیکن ہم نے تو عدالت میں ضرور جانا تھا۔ نواز شریف سے ملنے کے لئے مجھے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا تو میں تب بھی جاتی۔ اس کے بعد ہمیں اخبار بھی ملنا شروع ہوگیا تھا۔

کراچی میں پیشی کے بعد میاں صاحب کو راولپنڈی لایا گیا لیکن یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے؟ کسی طرح معلوم ہوا کہ حسین نواز کو بھی راولپنڈی لایا گیا ہے۔ ایک دن مجھے بتایاگیا کہ میں حسین سے مل سکتی ہوں اور راولپنڈی میں ایک فوجی میس کا پتہ دیا گیا۔ میرے وہاں پہنچنے کے 15 بیس منٹ بعد گیٹ سے ایک گاڑی اندر داخل ہوئی۔ مجھے یوں لگا جیسے سول کپڑوں میں ملبوس دو افراد کے درمیان ایک کالے رنگ کا برقعہ پہنے کوئی عورت بیٹھی ہے۔ جب اس کو باہر نکالا گیا تو پتہ چلا کہ برقعہ نہیں اس کے اوپر کالی چادر ڈالی ہوئی تھی۔ چادر ہٹائی گئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی ہے۔ بہرحال یہ پٹی کھول دی گئی، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ حسین کو اس حالت میں لائیں گے۔ حسین نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، وہ انتہائی نیک اور محب وطن نوجوان ہے۔ حتیٰ کہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش پر اس نے اپنی بیوی کو لندن نہیں جانے دیا تاکہ اس کے بچے کی پیدائش پاکستان میں ہو، ایک ایسے شخص کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا تھا۔

حسین نواز کی زبانی معلوم ہوا کہ 12 اکتوبر 1999ء کی رات تقریباً دس بجے نواز شریف صاحب اور شہباز شریف کو فوجی اپنے ہمراہ لے گئے۔ ان کے جانے کے بعد تمام چیزوں کی تلاشی لی گئی، میرے وارڈ روب کی بھی مکمل تلاشی لی گئی۔ نواز شریف صاحب کے سارے سوٹ کیس الماریوں اور بریف کیسوں کی تلاشی لی گئی۔ ایک بریف کیس میں پاکستانی روپوں کے علاوہ کچھ ڈالر بھی تھے جو بالکل (White Money) سفید دھن تھے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کا ہم حساب نہ دے سکیں اور یہ سب کچھ انہوں نے قبضہ میں لے لیا۔ حسین کے پاس کچھ کاغذات تھے، وہ بھی اس سے چھین لئے گئے۔ جس پر حسین نے قدرے مزاحمت بھی کی اور کہا کہ آپ لوگ یہ سب کس قانون کے تحت کررہے ہیں؟ آپ کو یہ تمام کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ آپ مجھے سرچ وارنٹ دکھائیں، لیکن انہوں نے حسین کی بات پر توجہ دئیے بغیر اس سے سب کچھ چھین لیا۔

مزید : رائے /اداریہ