خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنا شریعت اور آئین دونوں کی خلاف ورزی

خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنا شریعت اور آئین دونوں کی خلاف ورزی

 اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزارت انسانی حقوق نے اسلامی قوانین اور آئین کے مطابق میراث میں خواتین کے حق کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہم کا آغاز کر دیا ،اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے اس حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں بتایا کہ خواتین کو میراث میں مکمل حق حاصل ہے،خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے کا طریقہ کار نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیمات کیخلاف ہے بلکہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے اور قرآن پاک اور احادیث نبوی سمیت آئین پاکستان میں بھی اس حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے گزشتہ روز مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت خواتین کو میراث میں ان کے حق کے حوالے سے معاونت فراہم کرٍے گی۔انسانی حقوق کی پاسداری ہم سب کی ذمہ داری کے عنوان سے شروع کی گئی اس مہم کے لیے ایک ہیلپ لائن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے اور 1099پر کال کرکے مفت قانونی معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے اس حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں بتایا کہ خواتین کو میراث میں مکمل حق حاصل ہے اور قرآن پاک اور احادیث نبوی سمیت آئین پاکستان میں بھی اس حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں۔تاہم قبلہ ایاز نے بتایا مقام افسوس ہے کہ معاشرتی طور پر ہمارا خاندانی نظام ایسا ہے کہ خواتین کو مختلف حیلوں بہانوں سے ان کے حقیقی اور جائز حق سے محروم کردیا جاتا ہے، لاعلمی میں ان سے انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں، دستخط کروائے جاتے ہیں اور کبھی ان کو جذباتی کیفیت کا شکار کرکے ان کے جائز حق سے محروم کردیا جاتا ہے، یہ طریقہ کار نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیمات کیخلاف ہے بلکہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا آئین بھی اس سلسلے میں پور معاونت فراہم کرتا ہے اور 1973 کے آئین میں شامل دفعات 23 اور 24 خواتین کی میراث سے متعلق ہیں۔

قبلہ ایاز

مزید : صفحہ آخر