قوم میں اتفاق ہوا تو کالا باغ ڈیم بھی بنائینگے ، پانی کی ڈکیتی نہیں ہونے دینگے ، ڈیم سے روکنے پر آرٹیکل 6کی کاروائی ہوگی ، چیف جسٹس

قوم میں اتفاق ہوا تو کالا باغ ڈیم بھی بنائینگے ، پانی کی ڈکیتی نہیں ہونے ...

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے زیر زمین پانی نکال کر منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران قراردیا ہے کہ جن لوگوں نے اب ڈیم کو روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی ہو سکتی ہے،میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے ،غریب آدمی آج بھی چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں ، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ملک نہ ہوتا تو شاید میں آج اعتزاز احسن کا منشی ہوتا ۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ منرل واٹر کمپنیوں کے اسلام آباد میں 12 کراچی میں 82 حیدرآباد 15 سکھر 16 اور لاہور میں 8 یونٹس کام کررہے ہیں اور یہ کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لیٹر قیمت ادا کر کے 50 روپے فی لیٹر پانی فروخت کر رہی ہیں۔ ایم ڈی واسا نے عدالت کو بتایا کہ 2018 ء سے قبل منرل واٹر کمپنیاں زیر زمین پانی نکال کر حکومت کو ایک دھیلہ ادا نہیں کرتی تھی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ کمپنیاں عرصہ دراز سے مفت میں زمین سے پانی کھینچتے رہے اور بیچتے رہے ،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں۔ چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ ہمارا گڈا کھوبے میں پھنس گیا ،بڑے بڑے لوگوں نے اپنے ساتھ دوسروں کا سامان بھی اٹھا لیا ،ہم نے اس گڈے کو کھوبے سے نکال کر سڑک پر لانا ہے ،پھر یہ چل پڑے گا۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ہم نے لوگوں میں منرل واٹر کی عادت ڈال دی ہے اور اب اس سے ’نوٹو ‘کمائے جارہے ہیں، پانی کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے ، چیف جسٹس نے کہا کہ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔عدالت نے نیسلے ،ایکوا فینا گورمے اور دیگر بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو طلب کرتے ہوئے سماعت آج 16ستمبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ میں ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں ،میں نے آرٹیکل 6 کا مطالعہ شروع کر دیا ہے جن لوگوں نے اب ڈیم کو روکنے کی کوشش کی ،ان کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی ہو سکتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے ریلوے میں اربوں روپے خسارے کے از خود نوٹس کی سماعت شروع کی تو عدالتی حکم پر سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب آپ نے آڈٹ رپورٹ دیکھی ہے جس پر خواجہ سعد رفیق نے موقف اختیار کیا کہ ایک ہزار صفحات کی آڈٹ رپورٹ پر کیسے جواب جمع کراؤں ؟میں کوئی اکاونٹس افسر نہیں ،مجھے بتائیں کہ کیا میرے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میں نے بدعنوانی کی یا کرپشن کی ؟ میرے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب آپ اپنا غرور گھر چھوڑ کر آیا کریں، آپ اپنا رویہ درست کریں ۔غصہ کس بات کا ہے آپ کو؟ یہاں آپ سے جو پوچھا جا رہا ہے صرف اس کا جواب دیں۔ چیف جسٹس خواجہ سعد رفیق سے استفسار کیاکہ آپ گھر سے سوچ کر آئے تھے کہ عدالت کی بے احترامی کرنی ہے جس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اللہ گواہ ہے میں عدلیہ کی بے احترامی کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا ، ریلوے کو جتنا ٹھیک کر سکتا تھا میں نے کرنے کی کوشش کی ہے، میرا الیکشن ہے اور ایک ہزار صفحات کی رپورٹ ہے ،ایک ماہ کی مہلت دی جائے، سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں شاباش لینے آتا ہوں ،آگے ڈانٹ پڑ جاتی ہے جس پر جسٹس اعجازا لاحسن نے ریمارکس دئیے کہ آپ جواب جمع کروائیں پھر دیکھتے ہیں ،شاباش ملتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے خواجہ سعد رفیق کو جواب جمع کروانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے لاہور کے پرائیوٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال مالکان، سیکرٹری صحت اور ہیلتھ کئیر کمیشن افسروں کو آج 16ستمبر کوطلب کر لیاہے۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثاراور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران پرائیویٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج سے متعلق از خود نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں ایک دن علاج کے لاکھوں روپے بٹور لئے جاتے ہیں، عدالت نے ڈاکٹرز ہسپتال، حمید لطیف ہسپتال سمیت لاہور کے 12ہسپتالوں کے مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آج طلب کر لیاہے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ پرا ئیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے ، ان ہسپتالوں میں سہولیات دی نہیں جاتیں اور لاکھوں روپے بٹور لئے جاتے ہیں ، روزانہ کی بنیاد پر پرائیویٹ ہسپتالوں کے خلاف شکایات موصول ہو رہی ہیں،پرائیویٹ ہسپتالوں کو لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزیدریمارکس دیئے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں پارکنگ نہیں ہوتی جس سے یہ سڑکوں پر قبضہ کرلیتے ہیں ، اگر آج کے بعد کسی پرائیویٹ ہسپتال کے باہر ایسی پارکنگ نظر آئی تو 10ہزار وپے جرمانہ ہو گا اور یہ جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کروایا جائے گا۔ عدالت نے محکمہ ماحولیات سے نالوں پر بنے ہسپتالوں کے متعلق بھی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ڈی جی ایل ڈی اے کو حمید لطیف ہسپتال کا دورہ کرکے غیر قانونی تعمیرات کی رپورٹ دینے کی بھی ہدایت کی ہے، عدالت نے سیکرٹری صحت اور ہیلتھ کئیر کمیشن کو بھی نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ہسپتال کے سی ای اوز اور تمام فریقین آج صبح 11 بجے ریکارڈ سمیت سپریم کورٹ میں پیش ہوں، چیف جسٹس نے ہسپتالوں کے چارجز کی لسٹیں بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

سپریم کورٹ

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قوم میں اتفاق ہوا تو دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے بعد کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے۔کالا باغ ڈیم ہی پاکستان کی بقاء کا ضامن ہے، اللہ کے گھر میں کھڑا ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ہم نے کالا باغ ڈیم کو چھوڑا نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت کے مسائل سامنے آئے، پتا چلا کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑے۔ جب میں نے پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ پانی کا مسئلہ تو پورے ملک کا ہے،آنے والے دنوں میں پانی کی شدید قلت ہو گی اس لیے پانی کی قلت کا واحد حل ڈیم کی تعمیر ہے۔آپ سب محافظ ہیں، آپ نے پہرہ دینا ہے تاکہ ڈیم پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ میں اپنی خدمات اخوت کیلئے پیش کر رہا ہوں،میں رضاکارانہ طور پر ایک دن اخوت کیلئے وقف کرتا ہوں،بطور چیف جسٹس ہمیشہ مہمان کے طور پر بڑی تقریبات میں گیا اور بڑی کرسی پر بیٹھا،مگر آج جو تسکین مسجد کے فرش پر بیٹھ کر اور اخوت کے ممبران کیساتھ مل کر ہوئی اس کا بیان نہیں،پانی کے معاملے پر ماہرین کی رائے تھی کہ ڈیم نہ بنائے گئے تو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا،ڈیموں کی تعمیر ایک تحریک بن چکی ہے،اگر ڈیم نہ بنے تو ہم پانی کے لئے ترسیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کا ہر فرد ڈیموں کی تعمیر کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں اور پہرہ دے۔

مزید : صفحہ اول