حکومت نیا فنانس بل منگل کوپارلیمنٹ میں پیش کرے گی

حکومت نیا فنانس بل منگل کوپارلیمنٹ میں پیش کرے گی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پی ٹی آئی کی حکومت مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے پیش کردہ وفاقی بجٹ پر نظر ثانی کرتے ہوئے نیا فنانس بل منگل کے روز پارلیمنٹ میں پیش کرے گی ۔وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم یا فنانس بل کو منی بجٹ کہا جا سکتا ہے لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ پیر 17ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد کیا جائے گا ،زرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزیر خزانہ اسد عمر آج یا کل کسی وقت وزیر اعظم سے ملاقات بھی کریں گے ۔ذرائع کے مطابق جس میں چار سو ارب کے اضافی ٹیکس لگائے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ انکم ٹیکس استثنیٰ کم کر کے آٹھ لاکھ روپے کیا جا سکتا ہے وفاقی دارالحکومت کے ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں دیئے گئے ٹیکس استثنیٰ کے معاملے پر ترمیم بھی لائی جاسکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت اس حد کو کم کرکے 8 لاکھ تک کرے گی،نئے وفاقی بجٹ میں400ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کا بھی امکان ہے، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جاسکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس ریونیو بڑھانے کیلئے فنانس بل میں نئی تجاویز پیش کرے گی جبکہ تمام درآمدی اشیاء پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز دی جاسکتی ہے جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں اضافہ جبکہ پی ایس ڈی پی میں 400ارب روپے تک کمی کامنصوبہ بھی زیر غور ہے ،اس کیلئے نئی بجٹ تجاویز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی جس کی منظوری کے بعد بجٹ تجاویز کو منگل کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے کا امکان ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ اورمعاشی اہداف پر نظر ثانی کر کے نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے ، اقتصادی شرح ترقی کا ہدف 6.2فیصد سے کم کر کے 5.5فیصد مقر رکیے جانے کا امکان ہے ، 1030ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں400 ارب روپے تک کمی کی جاسکتی ہے اورا س کو ساڑھے چھ سو ارب روپے تک لایا جاسکتا ہے جبکہ ساڑھے چار سو غیر منظورشدہ ترقیاتی سکیموں کو بھی ختم کئے جانے کا امکان ہے جن کو رواں مالی سال پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا ان میں زیادہ تر اسکیمیں این ایچ اے کی ہیں ، وزیر خزانہ اسد عمر نے منگل کو فنانس ایکٹ 2018میں ترمیم کا اشارہ دیاتھا ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فنانس ایکٹ 2018میں دی گئیں ٹیکس مراعات کو واپس لیا جائیگاجبکہ غیر منقولہ اثاثوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا ،اس کے علاوہ سگریٹ سمیت دیگر مصنوعات پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کا بھی امکان ہے۔

فنانس بل

مزید : صفحہ اول