مشترکہ اقتصادی کمیشن پر اتفاق ، شاہ محمود کی اشرف غنی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ،امن عمل بارڈر منیجمنٹ ، پر تبادلہ خیال ، علماء کا نفرنس کی تجویز ،افغان درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ، جلال آباد قونصلیٹ فعال کرنے کا فیصلہ اعلامیہ

مشترکہ اقتصادی کمیشن پر اتفاق ، شاہ محمود کی اشرف غنی سمیت اعلیٰ حکام سے ...

اسلام آباد،کابل(آن لائن،آئی این پی ) پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے،قیام امن کیلئے کام ،افغان مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ افغانستان سے درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کردی گئی ہے ۔دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ افغانستان کے حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے خطے میں قیام امن اور درپیش مشترکہ چیلنجز سے ملکر نمٹنے پر اتفاق کیا ہے ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ،ہمارے چیلنجز ایک جیسے ہیں جن سے باہمی تعاون سے ہی نمٹنا ہے، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر زیادہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،ہمسایہ ممالک کیساتھ تمام مسائل بات چیت کیساتھ حل کرنے کا خواہاں ہے ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی بڑی گنجائش ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ نے افغان پولیس کو پاکستان میں ٹریننگ دینے کی پیشکش کی اور دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کے بہتر حل کیلئے رابطے جاری رکھنے پر زور بھی دیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی اور وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 40 ہزار ٹن گندم کے تحفے کا خط افغان صدر کے حوالے کیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورے کے دوران افغان مہاجرین کی با عزت واپسی کا معاملہ بھی افغان قیادت کے سامنے اٹھایا۔ہفتہ کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں شاہ محمود قریشی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے پر افغان وزارت خارجہ کے اعلی حکام نے ان کا ائیرپورٹ پر استقبال کیا جس کے بعد وزیر خارجہ افغان صدارتی محل روانہ ہوگئے جہاں شاہ محمود قریشی کا ان کے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی نے استقبال کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جو تقریبا 45 منٹ تک جاری رہی۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر افغان صدر نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔بعد ازاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کی سربراہی میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس کا دورانیہ 45 منٹ مقرر تھا تاہم یہ مذاکرات تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہے جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی شاہ محمود قریشی نے کی۔مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام باتوں پر مثبت انداز میں تفصیلاً بات چیت کی گئی جس میں دو طرفہ تجارتی امور، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردا،ر بارڈر مینجمنٹ اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش سمیت دیگر اہم امور پر بات کی گئی۔اس کے علاوہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مذاکرات میں دونوں جانب سے مزید ملاقاتوں اور مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے بھی ملاقات کی جس دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ ہمارے چیلنجز ایک جیسے ہیں جن سے باہمی تعاون سے ہی نمٹنا ہے، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر زیادہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی بڑی گنجائش ہے۔افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے بھی امن اتناہی ضروری ہے جتنا افغانستان کے لیے ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان اور افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ملاقات کے موقع پر شاہ محمود نے دو طرفہ معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف سے علمائے کرام کی میٹنگ کی تجویز دی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے شاہ محمود کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد ی۔عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ امید ہے آپ اپنے اس منصب کے چیلنجز پر پورا اتریں گے جب کہ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان آنے کا خیال اسی لیے آیا کیونکہ پاکستان افغانستان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔افغان چیف ایگزیکٹو کی آمد سے پہلے شاہ محمود اور ان کے ہم منصب نے خوش گپیاں لگائیں۔افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے شاہ محمود کو کہا کہ آپ کوانگوروں کا تخفہ بجھواؤں گا، میرے علاقے کے انگور اچھے ہیں، اس پر شاہ محمود قریشی مسکرادیئے۔صلاح الدین ربانی نے شاہ محمود سے کہا کہ آپ کے علاقے کے بھی تو آم مشہور ہیں جس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کوملتان کے آم بجھوا دیں گے۔وزیرخارجہ نے حلف کے بعد سب سے پہلے افغانستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔افغان وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی کی جانب سے بھی پاکستانی ہم منصب کو دورے کی دعوت دی گئی تھی۔

مزید : صفحہ اول