کلثوم نواز

کلثوم نواز
کلثوم نواز

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اعتزاز احسن کی جانب سے کلثوم نواز کی بیماری پر شریف فیملی کا دل دکھانے پر جس افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اس پر اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ !

ہائے ! اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ابھی کل کی بات ہے جب 2013ء کے انتخابات سے قبل عمران خان ایک سٹیج پر جاتے ہوئے لفٹر سے قلابازی کھا کر 30فٹ کی بلندی سے نیچے آگرے تھے تو فوری طور پر نواز شریف نے اپنی پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں اور پارٹی رہنماؤں کو اس ضمن میں کوئی بھی بیان دینے سے منع کردیا تھا۔ جب عمران خان کا کامیاب آپریشن ہوگیا تو وہ ازخود ان کی تیماری داری کے لئے شوکت خانم اسپتال تشریف لے گئے تھے۔اسی طرح جب راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ سے نکلتے ہوئے شہید کردیا گیا تو سانحے کے کچھ ہی دیر بعد نواز شریف وہاں پہنچ گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان کھڑے ہو کر اس سانحہ کی مذمت کی تھی ۔

بیگم کلثوم نواز کو وفا کا پیکر کہا جا رہا ہے۔اس سے بڑھ کر وفاداری اور کیا ہو گی کہ وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے بھی اپنے شوہر نامدار کو سرخرو کر گئی ہیں کہ نہ صرف خود بیگم کلثوم نواز بلکہ نواز شریف کی بیماری کو بھی لے کر ان کے سیاسی مخالفین نے تمسخر اڑایا تھا۔ بیگم کلثوم نواز نے سارے پراپیگنڈے کو غلط ثابت کرکے نواز شریف کا نام پھر سے اونچا کردیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ خود میاں نواز شریف کی پارٹی نے نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی تصاویر ہوائی جہاز سے ملک بھر میں گروائی تھیں ۔ جس طرح کے میاں صاحب وضعدار شخص ہیں دل نہیں مانتا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنے تئیں کیا ہوگا۔ جس طرح عمران خان کی پارٹی نے غیروں کے اشارے پر میاں نواز شریف اور کلثوم نواز کی بیماریوں کا مذاق بنایا اسی طرح عین ممکن ہے کہ میاں نواز شریف کی پارٹی سے بھی بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف ایسی ہی چالیں چلی گئی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے ملک میں سیاستدانوں کے نام پر بہت کچھ ہوتا ہے جس کی قیمت بھی انہیں ہی ادا کرنا پڑتی ہے اور کہیں بھی ڈوری ہلانے والوں کا احتساب ممکن نہیں ہوتا!یعنی!

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی!

بیگم کلثوم نواز تندرست وطن واپس لوٹتیں تو مخالفین نے اس قدر ٹھٹھہ لگانا تھا کہ انہیں جیتے جی کئی بار مرنا پڑنا تھا۔ بیگم کلثوم نواز نے مر کر اس مردہ بلکہ مردار معاشرے کو ننگا کردیا ہے جہاں شرارتی عناصر اب اپنی ہرزہ سرائی کا جواز ڈھونڈ نہیں پا رہے۔ حالانکہ کلثوم نواز کے لواحقین یا شریف فیملی نے ایک مرتبہ بھی ان سے نہیں پوچھا کہ ان کے منفی ، زہریلے اور شرمناک پراپیگنڈے کا کیا جواز تھا۔ اعتزاز احسن شریف فیملی سے معافی مانگ کر صدارتی الیکشن ہارتے تو ان کی جیت ہوتی اب جتنی مرتبہ یہ خبر چلے گی کہ اعتزاز احسن نے شریف فیملی سے معافی مانگ لی ہے وہ اتنی دفعہ ہی ہاریں گے ، یعنی بار بار ہاریں گے۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔وہ مر کر امر ہو گئیں اور ان کا ٹھٹھہ لگانے والے جیتے جی قبر میں جا اترے۔

اس معاشرے کی بے حسی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ اس نے کلثوم نواز کو صحت مند ہونے کا موقع نہیں دیا۔ نواز شریف انہیں بیمار حالت میں چھوڑ کر وطن لوٹ آئے ، ملک کو افراتفری سے بچالیا، اپنے کارکنوں کو بھٹو کی طرح پولیس اور دیگر اداروں سے پٹنے کے لئے نہیں چھوڑا، پرامن انتقال اقتدار ہونے دیا ، بہت سوں کا بھرم رکھا ، انہوں نے خود مصیبتیں سہیں ، بیوی کو کھودیا مگر عوام کو تکلیف میں مبتلا نہیں کیا۔اپنا سچ ثابت کرنے کے لئے سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا تو بیگم کلثوم نواز کو ونٹی لیٹر پر جان جانِ آفریں کے حوالے کرنا پڑی ہے !کلثوم نواز، زندہ باد!

مزید : رائے /کالم