جندول تحصیل منڈا میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد

جندول تحصیل منڈا میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد

جندول نمائندہ(نمائندہ پاکستان) جندول تحصیل منڈا میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد ، بار بار کچہریوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا،عوام نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ پولیس اور محکمہ صحت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا، علاقہ میں چوری کے مسلسل وارداتوں اور رات کو گھروں پر پتھروں سے بھی عوام پریشان ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ضلعی ناظم محمد رسول خان کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن منڈا میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ، کچہری میں ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم ،ضلعی آفیسر محکمہ صحت شوکت علی ،تحریک انصاف کے رہنماء ڈاکٹر سربلند خان ،سابق ایم پی اے اعزاز الملک افکاری ، تحصیل ناظم ہمایون خان ، نائب ناظم حسن علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر آیاز خان و دیگر نے شرکت کی کچہری کے دوران مسائل بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سربلند خان نے محکمہ صحت پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہر بی ایچ یو کو ڈاکٹر اور دیگر عملہ فراہم کر رکھا ہے مگر موجودہ ڈی ایچ او نے وہ اہلکار متعلقہ ہسپتالوں سے باہر جنرل ڈیوٹیوں پر تعینات کر رکھے ہیں اور متعلقہ ہسپتال مکمل خالی پڑے ہیں ، انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے سابق سٹیٹ ملازمین کے گھروں کو مسمار کرنے پربھی شدید اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ روکھا گیا تو مرد و خواتین کو نکال کر احتجاج کرینگے ۔سابق ایم پی اے اعزاز الملک افکاری ، تحصیل ناظم ہمایون خان ، ناظم ویلیج بخت بلند ، محمد اکرام ، رحیم باچہ،سید شیکل احمد و دیگر نے منشیات اور چوری کے مسلسل وادراتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دومسائل نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور پولیس اس سلسلہ میں مکمل ناکام ہیں ۔ کچہری کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے ضلعی انتظامیہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار کئی مرتبہ ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہریاں منعقد کرائی گر اس کا کوئی فائدہ سامنے نہیں آیا ۔ احمد منیر عرف کوٹی نے صحافتی کردار پر بھی اعتراضات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے افسران اور عوام کے مابین کسی قسم کا ربط نہیں ہوتا جس کی وجہ سے عوام کے پاس مسائل حل کرانے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوتا۔ ضلعی

مزید : پشاورصفحہ آخر