لاہور بیٹھ کر ملتان کے مسائل کا حل نہیں،جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ صوبہ ضروری :لارڈ نذیر احمد

لاہور بیٹھ کر ملتان کے مسائل کا حل نہیں،جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ صوبہ ضروری ...

ملتان (خبر نگار خصوصی)برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ بھرپوراستقبال پر ملتان کے وکلا کا مشکور ہوں۔ انہیں ہاؤس(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

آف لارڈ میں 20 سال ہوگئے ہیں۔ جنرل باجوہ کرنل تھے جب میں ایم پی بناء میں نے ایم پی بننے اور لیبر پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، والدہ کہتی تھیں کہ سیاست گندی چیز ہے خانہ کعبہ میں جا کر اللہ سے رو رو کر پارلیمنٹ میں جانے کی دعا کی۔ لندن آنے پر ٹونی بلیئر کے آفس سے ہاؤس آف لاردڈز کی مستقل ممبر شپ کی آفر ہوئی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ہال میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیاان کا کہنا تھا کہ وہ ملتان بار کے عہدیداروں کو ہاؤس آف لارڈز میں آمد کی دعوت دیتے ہیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارا ملک ایسے مقام پر ہے جہاں ساری سپر پاورز جانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کو اللہ نے قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ آج لندن کا میئر اور ہوم سیکرٹری بھی پاکستانی ہے۔ سی پیک کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کا منصوبہ ہے۔ عمران خان صحیح باتیں کررہے ہیں پاکستان کو ٹھیک کرنے کیلئے ہمیں ایک شخص نہیں نسلوں کی ضرورت ہے پاکستانیوں کے پاس مواقع ہوں تو بہت کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں سویت یونین کے ساتھ جنگ میں پاکستان کے جوانوں کا خون نہ بہتا تو آج پاکستان پر بھی قبضہ ہوتا اگر نواز شریف کہتے ہیں کہ نیوکلیئر پروگرام بنایا تو کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی دیں سی پیک سے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوگایہی وجہ ہے کہ سی پیک امریکہ اور بھارت کو ہضم نہیں ہورہا۔ آج کی جنگ معیشت کی جنگ ہے میں سی پیک کا حامی ہوں، مگر ہمیں پاکستان کے مفادات کی جنگ لڑنی ہے۔ 70 سال جس کو خراب کرنے میں لگے ان کو ٹھیک کرنے میں بھی 5 سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ توقعات کو تھوڑا کم کر کے بہتری کے لئے انتظار کرنا ہوگا ہم نے باپ دادا کی قبروں کو ڈیم کے لئے چھوڑا 60 سال سے پاکستان کی قیادت نے آنکھیں بند کر رکھیں۔ چیف جسٹس نے بہت اچھے کام کئے ہیں نیا پاکستان بن گیا ہے اب زیر التواء کیسز کو بھی جلدی نمٹائیں پاکستان کو ٹھیک کرنے کیلئے تعلیم کی ضرورت ہے اساتذہ کی تربیت بہت ضروری ہے انہوں نے وزراء کی تربیت کے حوالے سے عمران خان کو خط لکھا ہے کچہری کی واپس منتقلی میں وکلاء کی حمایت کرتا ہوں ایڈمنسٹریشن کے لئے چھوٹے چھوٹے صوبے ہوتے ہیں لاہور بیٹھ کر ملتان کے مسائل نہیں حل نہیں کیے جا سکتے اور وہ جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ صوبہ کی حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر بار کے دیگر عہدیدران اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت بھی کی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر