کراچی،ڈیفنس کے علاقے سے ایک اور سرکاری گاڑی چوری

کراچی،ڈیفنس کے علاقے سے ایک اور سرکاری گاڑی چوری

کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں سرکاری گاڑیاں چوری ہونے کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ کراچی میں ایک اور سرکاری گاڑی چوری ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس گزری تھانے کی حدود سے ایک اور سرکاری گاڑی چوری ہو گئی ہے۔ پولیس نے چوری شدہ گاڑی کی تلاش کے لیے شہر میں ناکہ بندی کردی ہے جبکہ گاڑی چوری ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی ملیر ڈولپمینٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کامران کلہوڑو کے زیر استعمال تھی۔ جیپ نمبر جی ایل 9009 کامران کلہوڑو کے گھر کے باہر سے چوری ہوئی ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں رواں ماہ کے دوران اس سے قبل مختلف وارداتوں میں ایک سرکاری اور غیر سرکاری گاڑی چوری ہوچکی ہیں۔واضح رہے کہ دس ستمبر کو کراچے کے علاقے سچل سے ایک اور سرکاری گاڑی چھین جانے پر وزیراعلی سندھ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے سچل کے علاقے سے ایک اور سرکاری گاڑی چھیننے کے واقعے پر ایڈیشنل آئی جی امیر احمد شیخ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ امام کلیم کو نئی ٹیم بنانے کی ہدایت کی تھی۔اس سے قبل میئر کراچی وسیم اخترکی گاڑی کا دو روز بعد بھی پتہ نہ چل سکا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے میئر کراچی وسیم اختر سے بھی ڈیفنس کے علاقے میں گن پوائنٹ کر مسلح افراد گاڑی چھین کر فرارہو گئے تھے۔دوسری جانب کراچی میں سرکاری چھیننے کے واقعات کے حوالے سے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ کراچی میں سرکاری گاڑیاں چھیننے میں دو گروہ ملوث ہیں جس میں ایک گروہ کا تعلق خیرپور سے ہیجبکہ مقامی کارندے بھی واردات میں شامل ہوتے ہیں ۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کے ساتھی ماضی میں گرفتار ہوکر جیل بھی جا چکے ہیں۔ حالیہ وارداتوں میں ملوث ملزمان کے گروہ کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان واردات کے بعد دو سے تین روز تک گاڑی شہر میں ہی رکھتے ہیں جس کے بعد چھینی ہوئی گاڑی کو اصل نمبر پلیٹ کے ذریعے شہر سے باہر لے جاتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر