اسلام کیلئے صحابہ کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں،علامہ عطاء اللہ

اسلام کیلئے صحابہ کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں،علامہ عطاء اللہ

مظفرآباد (وقائع نگار خصوصی)اسلام کے لیے اصحاب رسول کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ مسلمانوں کی فتوحات کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو دیکھ کر یہودوہنود نے سازشیں کرکے جنگیں کرائیں۔ آزاد حکومت نصاب تعلیم میں قرآن وسنت کولازمی طورپرشامل کرئے، ترجمہ اورناظرہ کو نصاب کا حصہ بنایاجائے۔ان خیالات کااظہار معروف مذہبی سکالر علامہ عطااللہ علوی نے تقریب سے خطاب میں کیا۔انھوں نے کہا آنے والی نسلوں کو تاریخ اسلام سے روشناس کراناارباب اقتدار کی ذمہ دارہے ۔ مسلمانوں کی تابناک تاریخ کو اس وقت نصاب تعلیم سے دورکیاجارہاہے۔ قبل ازیں جو کتب نصاب کا حصہ تھیں ،اب انھیں نکال کر مختلف خارجی اوربے فائدہ چیزوں کونصاب کاحصہ بنایاجاتاہے۔ انھوں نے کہا اسلامیات کی کتاب کوآئے روز محدود کیاجارہاہے۔ اسلامیات کی یہ کتاب مختلف اداروں میں صرف تین دن پڑھائی جارہی ہے۔ تاکہ مسلمانوں کی نسلیں اسلامی علوم سے دور ہوجایں۔ انھوں نے کہا ایسے حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر سطح تعلیم کے ساتھ اسلامی تعلیم کو لازمی حصہ بنایاجائے۔ انھوں نے کہا ناظرہ قرآن مجید اور سیرت النبی جب تک نصاب کا حصہ نہیں ہوگی ، اس وقت تک ہم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا اسلام ہی تعلیم کی بنیاد ہے۔ اوراسلامی تعلیم کے ذریعے ہی کرپشن بدعنوانی تک ہر جرم کا خاتمہ ممکن ہے۔ یورپ کی تاریخ تعلیم کے فروغ سے قبل جہالت کاگڑھ تھی۔ مسلمانوں کے علمی ذخائر سے یورپ نے استفادہ کیا۔ یورپ میں صوفی ازم نے لوگوں کو جس جہالت کے شکنجے میں جکڑ رکھاتھا، اس سے نکالنے کے لیے ارباب علم کے ساتھ متعدد جنگیں ہوئی، جس سے اہل یورپ کو نجات ملی ۔ انھوں نے کہا علم مسلمانوں کا ورثہ ہے، ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کو میرٹ کی پامالی کے باعث مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ حکومت کی طرف سے صرف میٹرک پاس مدرسین کی فراغت کا فیصلہ احسن اور قابل ستائش ہے۔ ارباب اقتدار ایسے افراد کو تعلیم سے الگ کریں جو نصاب تعلیم کی ابجد سے بھی واقف نہیں رہے۔ انھوں نے کہا ایسے اساتذہ کرام اسوقت اپنی کم علمی استعدادکے باعث جگ ہنسائی کاموجب بنتے ہیں۔ اسوقت ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر افراد موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے مسند پر میٹرک پاس افراد کا ہونا باعث افسوس ہے۔ انھوں نے کہا بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ افراد کو ملاذمت کے حصول کے لیے اتنا اذیت میں مبتلاکیاجاتاہے کہ وہ تھک ہار کر سارا کچھ چھوڑ دیتاہے، اس کی تمام تر صلاحیتیں ماؤف ہوجاتی ہیں۔ اس کی ہمت اور حوصلہ جواب دیے جاتاہے، وہ قوم کی خدمت کے اس جذبہ سے سرشار نہیں رہتا۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو قومی خدمات کا موقع فراہم کیاجائے۔انھوں نے کہا تعلیم ہی ترقی کا پہلاذینہ ہے۔ تعلیم کے بغیر ترقی کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہا آزادکشمیر حکومت اداروں کے معیارتعلیم کی بہتری کے لیے پڑھے لکھے افراد کو تعینات کرے۔ سفارشی کلچر کاخاتمہ کرکے اہل افراد کو مناصب دے جائیں تاکہ نظام تعلیم میں بہتری لائی جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر