13ویں آئینی ترمیم کوکسی صورت ختم نہیں ہونے دینگے،مطلوب انقلابی

13ویں آئینی ترمیم کوکسی صورت ختم نہیں ہونے دینگے،مطلوب انقلابی

مظفرآباد(سٹی رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے نائب صدر سابق وزیرہائیر ایجوکیشن وسابق پارلیمانی آئینی کمیٹی کے سربراہ محمد مطلوب انقلابی نے کہا ہے کہ تیرہویں آئینی میں موجود سقم دور کرنے کیلئے آزاد کشمیر کی جملہ سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے ۔ کسی صورت تیرہویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دینگے۔ پیپلز پارٹی تیرہویں ترمیم کے خاتمہ کے بجائے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کیساتھ ملکر اس میں موجود خامیاں دور کرنے کے حق میں ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ چوہدری لطیف اکبر صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میزبانی کیلئے تیار ہیں ۔ یہاں خصوصی بات چیت کے دوران سابق وزیرہائیر ایجوکیشن و پیپلز پارٹی کے رہنما محمد مطلوب انقلابی نے واضح کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کی گئی نظر ثانی کمیٹی میں کشمیریوں کی کوئی نمائندگی موجود نہیں ہے چنانچہ اس کمیٹی کیوجہ سے شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ہم نہیں چاہتے کہ تیرہویں آئینی ترمیم میں بعض متنازعہ اور عجلت میں کئے گئے فیصلوں کیوجہ سے آزاد کشمیر کے عوام اور مملکت خداداد پاکستان کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوں ۔ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور فہم و فراست ، دانشمندی اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ سوچ وفکر کا متقاضی ہے ۔کمیٹی میں آزاد کشمیر کی اعلیٰ سیاسی قیادت ، وزیراعظم آزاد کشمیر ، قائد حزب اختلاف اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیر قانون بھی شامل ہونے چاہئیں۔ اس وقت آزاد کشمیر کی جملہ سیاسی قیادت کو اس معاملہ پر مل بیٹھنا چاہیے ۔ اگرچہ آزاد کشمیر حکومت نے تیرہویں ترمیم منظور کرواتے وقت سیاسی اکابرین کیساتھ مشاورت نہیں کی تاہم اب بھی وقت ہے کہ تمام جمہوری و سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر مشاورت کی جائے اور متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ تیرہویں ترمیم مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے بعض عناصر اور قوتیں اندر خانے سرگرم اور سازشوں میں مصروف ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا اس حوالے سے دوٹوک اور واضح موقف ہے کہ تیرہویں آئینی ترمیم مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس میں موجود نقائص دور کئے جائیں ۔ تیرہویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ سیاسی انارکی ، افرا تفری ، بے چینی کا باعث بنے گاجو تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان و آزاد کشمیر کے مابین تعلقات کار پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ محمد مطلوب انقلابی نے مزید کہا کہ پاکستان میں 18ویں ترمیم کے بعد جو اختیارات صوبوں کو ملے آزاد کشمیر حکومت کو بھی وہی اختیارات ملنے چاہئیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں میری سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے متفقہ سفارشات تیار کی تھیں جن میں عدالتی اصلاحات کیساتھ ساتھ کشمیر کونسل کی انتظامی و مالی اختیارات کے حوالے سے اہم سفارشات شامل کی گئی تھیں مگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے کشمیر کونسل کے 52سبجیکٹس میں سے 32براہ راست حکومت پاکستان کے سپرد کردیئے اور ساتھ کشمیر کونسل کی قانون سازی کا اختیار بھی ختم کردیا جس کیوجہ سے ابہام اور بحران پیدا ہوا۔ اصولی طور پر پارلیمانی کمیٹی کی متفقہ سفارشات کو من و عن منظور کیا جانا چاہیے تھامگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے محض کریڈٹ کے چکر میں اپنی سفارشات تیار کیں اور وہی منظور کروائیں جن پر آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات موجود ہیں یہ تحفظات دور کروانا آزاد کشمیر حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی جو پوری نہیں کی گئی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر