چند ماہ میں بلدیاتی مسائل حل کرنے کی خوش فہمی نہیں،سعید غنی

چند ماہ میں بلدیاتی مسائل حل کرنے کی خوش فہمی نہیں،سعید غنی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ میں اس خوش فہمی میں نہیں ہوں کہ چند مہینوں میں بلدیاتی مسائل کو حل کردوں گا،مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ میں پانچ سالوں میں بھی اس بات کا دعوی نہیں کرسکتا کہ میں 100فیصد مسائل حل کردوں گا،مجھے معلوم ہے کہ میرے وزیر کی حیثیت سے کیا اختیارات ہیں مجھے لوگوں کو اپنے اختیارات محسوس کروانے ہیں،میئر کراچی سے میرے کوئی اختلافات نہیں نہ میری کوشش ہے کہ میں ان کے اختیارات میں مداخلت کروں میں ان سے جلد ملاقات کروں گا،تحریک انصاف کراچی کی سب سے بڑی جماعت نہیں بلکہ بنادی گئی ہے۔ ان صحافیوں کے پلاٹوں کے حوالے سے جو رکاوٹیں ہیں انھیں جلد دور کرکے ان کے پلاٹوں پر ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صدر کراچی پریس کلب احمد ملک، سیکریٹری مقصود یوسفی بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے افسران کو بلاکر ان سے صحافیوں کے پلاٹوں کے حوالے سے درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ لی ہے اس بریفنگ کی روشنی میں پریس کلب کی گورننگ باڈی کے اراکین سے بات چیت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے رہائشی پلاٹوں کے حوالے سے جو سلسلہ جہاں سے رک گیا تھا ہم نے اسے وہاں سے دوبارہ سے شرو ع کیا ہے انشاء اللہ صحافیوں کے یہ مسائل جلد حل کئے جائیں گے۔ سعید غنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 6لگانے کے حوالے سے چیف جسٹس کے بیان کو لگتا ہے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا وہ قانون جاتنے ہیں ایسی بات نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ان چند خطرناک ممالک میں شامل ہے جہاں فیلڈ میں کام کرنے والے روپورٹرز اور کیمرہ مینوں کے لئے بہت زیادہ مشکلات ہیں اور وہ جان پر کھیل کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں اس لئے ان کو سہولتیں ملنا چاہیں ہم میڈیا کے ورکروں کے ساتھ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مزدوروں ، صحافیوں ، کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کی سب سے بڑی جماعت نہیں بلکہ بنادی گئی ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم ، صدر ، وزرائے اعلی، گورنرز نے سیکیوریٹی اپنی مرضی سے نہیں رکھی ہوئی ہے یہ ان کے عہدوں کے ضرورت ہے ، اس ہی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کے وزراسیکیوریٹی مسائل کا سامنا ہے۔عمران خان تو کہتے تھے وہ گورنر ہاسز کی دیواریں کرادیں گے انھوں نے کیوں نہیں اس پر عمل کیا اپوزیشن میں رہ کر یہ باتیں اچھی لگتی ہیں لیکن جب اقتدار میں ہوں تو سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ایک سوالے کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میرے میئر کراچی سے کوئی اختلافات نہیں ہیں پتہ نہیں یہ خبریں کیوں پھیلائی جارہی ہیں۔ ہمارے سیاسی نظریاتی اختلافات تو ہوسکتے ہیںآپس کے کوئی اختلافات نہیں نہ صرف پیپلز پارٹی کا وزیر ہوں اور نہ وہ صرف ایم کیو ایم کے میئر ہیں وہ تمام کراچی والوں کے میئر ہیں۔میں چند روز میں میئر سے ملاقات کروں گا۔انھوں نے کہا کہ میرے پاس صرف بلدیات کا ہی محکمہ نہیں ہے میرے پاس کچی آبادیوں، اور ترقیات کے محکمے ہیں۔بلدیات میں بہت زیادہ مسائل ہیں جنھیں سو فیصد پانچ سالوں میں بھی حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں ہوں۔

مزید : کراچی صفحہ اول