وزیر اعلیٰ نے جو ڈیشنل کمپلیکس پشاور فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لے لیا

وزیر اعلیٰ نے جو ڈیشنل کمپلیکس پشاور فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لے لیا

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور اس کی اعلیٰ سطح پر فوری انکوائری کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے آج جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اُنہوں نے اس ناخوشگوار واقعہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی حساس جگہ پر فائرنگ کا واقعہ کیوں کر ممکن ہوا ۔ اُنہوں نے واقعے کی فوری انکوائری کے احکامات جاری کئے اور ہدایت کی کہ ہر پہلو سے واقعہ کا جائزہ لیا جائے اور غفلت کے مرتکب ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے فائرنگ کے نتیجے میں زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور اُن کی جلد صحت یابی کیلئے دُعا کی ۔دریں اثناء وزیراعلی کے پی کے ترجمان نے سوات کے مقامی اخبار میں شائع اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے کہ سوات میں ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی آفیسر عمران خان یوسفزئی کو سیاسی بنیادوں پر وقت سے پہلے تبدیل کرکے انکے بھتیجے شیر علی کو تعینات کیا گیا ہے اور اسکے ساتھ اسسٹنٹ کا تبادلہ بھی کرکے مقامی رکن اسمبلی کا بھتیجا بھرتی کیا گیا ہے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ خبر مکمل طور پر پلانٹڈ اور شرانگیزی پر مبنی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد گلی کوچوں سے نکلنے والے چھوٹے اخبارات میں منفی اور گمراہ کن خبریں اور رپورٹیں شائع کرانا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانا اور اس طرح انکی پارٹی کی طرف سے شروع کردہ ملک گیر تبدیلی سے متعلق افواہیں پھیلانا اور عوام کو متنفر کرنا ہے ترجمان نے بتایا کہ نئے ایمرجنسی آفیسر وزیر اعلیٰ کے بھتیجے تو درکنار دور کے بھی رشتے دار نہیں اور نہ ہی انکا تبادلہ خلاف ضابطہ ہوا ہے اسی طرح اسسٹنٹ کا تبادلہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں۔ ترجمان نے مزید واضح کیا کہ اسطرح کی بلیک میلنگ سے صوبائی حکومت کو عوام کے وسیع تر مفاد پر مبنی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد سے نہیں روکا جا سکتا بلکہ اس پر زیادہ عزم اور شدت سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ترجمان نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت رپورٹ کی اشاعت پر مقامی اخبار کو قانونی نوٹس بھی جاری کیا جا رہا ہے۔

نوٹس؍ انکوائری

مزید : کراچی صفحہ اول