’’آسٹریلیا کے ایک کھلاڑی نے مجھے اسامہ بن لادن کے نام سے پکارا جس کے بعد میں ۔ ۔ ۔‘‘ انگلینڈ کے آل راونڈر معین علی کا ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

’’آسٹریلیا کے ایک کھلاڑی نے مجھے اسامہ بن لادن کے نام سے پکارا جس کے بعد ...
’’آسٹریلیا کے ایک کھلاڑی نے مجھے اسامہ بن لادن کے نام سے پکارا جس کے بعد میں ۔ ۔ ۔‘‘ انگلینڈ کے آل راونڈر معین علی کا ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی(ویب ڈیسک)آسٹریلوی کرکٹ سے منسوب کہانیاں اور قصے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔انگلینڈ کے عالمی شہرت یافتہ آل راونڈر معین علی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے ایک کھلاڑی نے انہیں اسامہ بن لادن سے ملانے اور اسامہ کے نام سے پکارا تھا جس کے بعد میں غصے میں آپے سے باہر ہوگیا تھا۔ پاکستانی نژاد ٹیسٹ آل راونڈر معین علی نے آسٹریلوی کھلاڑیوں پر نسلی تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مجھے اسامہ کے نام سے پکارتے تھے۔کرکٹ آسٹریلیا نے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کردیا ہے جبکہ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ واقعہ دوملکوں کے درمیان ہوا ہےاس لئے ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہر ملک نسلی تعصب کی الگ الگ پالیسی رکھتا ہے۔آسٹریلوی کھلاڑی جو اپنے خراب رویے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں معین علی کے الزام نے ایک بار پھر انہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔معین علی کہتے ہیں کہ2015 کی ایشیز سیریز میں جب وہ آسٹریلوی کے خلاف کھیلنے کے لئے میدان میں اترے تو انہیں ایک کھلاڑی نے اسامہ کہہ کر پکارا تاہم انہوں نے اس کھلاڑی کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔معین علی نے یہ سنسنی خیز انکشاف اپنی سوانح حیات میں کیا ہے جو آئندہ ماہ ایک برطانوی اخبار میں منظر عام پر آئے گی۔

عالمی شہرت یافتہ معین علی کا کہنا ہے کہ کارڈف ٹیسٹ میں جب وہ پہلی بار میدان میں اترےتو آسٹریلوی کھلاڑی نے ان کو اسامہ کہہ کر جملہ کسا۔معین علی نے ٹیسٹ میں77رنز بنائےپانچ وکٹ حاصل کئے۔انگلینڈ نے آسٹریلیا کو169رنز سے شکست دی۔معین علی نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف یہ میری پہلی میچ وننگ کارکردگی تھی۔لیکن اس میچ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے کسے جانے والے اس جملے نے مجھے سخت دھچکا پہنچایا۔وہ کھلاڑی کہہ رہا تھا کہ اس اسامہ کو قابو کرنا ہے۔معین علی نے تحریر کیا ہے کہ میں نے جو سنا اس سے مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔یہ سن کر میرا چہرہ لال ہوگیا کیوں کہ کرکٹ کے میدان میں پہلی بار اس قدر غصے میں دکھائی دیا تھا یہ جملہ میری برداشت سے باہر تھا۔

مزید : کھیل