بیگم کلثوم کا جنازہ اور حق کی گواہی

بیگم کلثوم کا جنازہ اور حق کی گواہی
بیگم کلثوم کا جنازہ اور حق کی گواہی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیگم کلثوم نواز کی لندن میں نماز جنازہ پر یاد آیا کہ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’ ہمارے حق پر ہونے کی گواہی ہمارے جنازے دیں گے ‘‘ بلاشبہ اللہ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے چاہیں ذلت۔ بیگم کلثوم نواز ہمارے معاشرے کی وہ ماں تھیں جو مدَر انڈیا کی طرح اپنے آپ کو اپنے رول میں ڈھال لیتی ہیں۔ وہ ایک فرماں بردار بیٹی اور ایک پہلوان گھرانے کی آن اور شان تھیں۔ شادی ہوئی تو شوہر کی ہو لیں اور پھر پیچھے مڑ کے نہ دیکھا۔ میاں نواز شریف کو کوئی بادشاہ سمجھے یا نہ سمجھے بیگم صاحبہ نے انہیں ساری عمر اپنا باؤ جی بنا کے رکھا اور آخری وقت تک انکے لڑ سے لگ کے رہیں یا وہ انکے ہو کے رہے ،یہ ہی انکا راز تھا۔ چار دہائیوں پہ محیط یہ رفاقت جس میں تین دفعہ عوامی عہدوں کی معراج فرسٹ لیڈی کے طور پر اپنے فرائض انہوں نے مکمل ذمہ داری سے ادا کئے۔ شوہر سے محبت بھی کی اور اسکی ذمہ داریوں اور رشتے داریوں کو ایسے بانٹا کہ بڑے بوڑھے اور بچے انکے جانے پہ سب غمگین تھے۔ وہ ذاتی طور پر لوگوں سے تعلق بناتیں اور رکھتی تھیں۔ لوگوں کی پسند ناپسند کھانے پینے کا انکو بہت خیال ہوتا تھا۔ اپنے شوہر کے کام میں ایک ماہر ہم خیال یا ایک ایسا سنتا ہوا کان تھیں کہ طوفان کے طوفان رازوں سمیت دفن کرلئے اور مشکلات کے باوجود کبھی اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پردہ پوشی نہ کی۔ قربت دار جانتے ہیں کہ جو کام مشکل ہوتا تو وہ پارٹی اکابرین جو بات وزیراعظم سے کرتے جھجھکتے تھے وہ ان سے پہلے مشورہ کرتے اور حمایت کی درخواست کرتے۔ اردو ادب میں ماسٹرز ڈگری کی وجہ سے شائستگی انکی مزاج میں رچ بس گئی تھی جسکو انہوں نے پی ایچ ڈی کے زریعے جاری رکھا۔ مریم نواز ان سے بہت مختلف تھی اور ہیں اور وہ آسانی سے ہار نہیں مانتیں۔

بیگم کلثوم نواز کا سیاسی ساتھ ایک خوشگوار یادگار کی طرح مسلم لیگی ساتھیوں کی یاد میں محو ہے۔ وہ 1999 کے مارشل لا کے بعد جنرل مشرف کے سامنے ایسے سیسہ پلائی دیوار بنیں کہ دسمبر 2000 میں ان سے جان چھڑانے کے لئے تمام خاندان کو جلا وطن کرنا پڑا۔ وہ بلاشبہ سیاست میں حادثاتی طور پر نمودار ہوئیں لیکن جوں ہی انکے میاں بطور لیڈر سیاسی سین پر دوبارہ نمودار ہوئے وہ اپنی جگہ پر بغیر محسوس کئے اور کروائے واپس چلے گئیں جس کی وجہ سے سیاستدانی قبیلہ انہیں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جسکا مظاہرہ انکے جنازے میں تمام مکتبہ ہائے فکر کے افراد کی شرکت نے کیا ہے۔ وہ کم گو، عوامی اور ایک شفقت سے بھرپور مکمل خاتون تھیں جن سے ملتے وقت ایک ماں کی سی شبیع ابھرتی تھی۔ انہوں نے جس طرح اپنے بچوں میں مذہب ،ثقافت اور زبان کی ترویج کی وہ ایک بے مثال خدمت ہے۔

شریف خاندان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی نئی داستان زیر تحریر ہے اور میاں نواز شریف ایک سیاسی قیدی کی طرح خاموشی سے رضائے الہی پر راضی حالات کو درجہ بدرجہ کھلتے دیکھ رہے ہیں۔ اپنی شریک حیات کو وہ پہلے ہی لندن سے خدا حافظ کہہ کر آچْکے تھے اب اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دفنا بھی چکے ہیں۔ بیٹی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قیام ایک بے مثالی مستقبل پروان چڑھا رہا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک استاد ایک ہونہار شاگرد کو نویں اور دسویں کلاس اکٹھے کروا دے۔ جس طرح مریم نواز شریف کو بیٹی ہونے کے ناتے رائج رسم و رواج کو پس پشت ڈال کر دشمنی کمائی گئی ہے۔ اسنے مریم نواز کو مردانہ وار سیاسی مقابلے کے لئے ایک دم تیار کردیا ہے اور اب جب وہ مقابلے پر آتی ہیں تو انکی بیلٹ پروہ سب ظلم و ستم ہوں گے جو سیاستدانوں کا زیور ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا منتر ابھی سر پہ چڑھ کے بولے گا جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمان میں کمر بستہ ہوکر حکومت کی جواب طلبی کریں گے۔ انہوں نے اچھے بھائی کی طرح اپنا کردار اس غم کی گھڑی میں خوب نبھایا ہے۔

مریم کے نیب کیس کی تاریخ تو شائید ضرور لکھی جائے لیکن تاریخ اسے اچھی نظروں سی نہیں دیکھے گی۔ مریم کے ساتھ کیا ہوا ابھی تک وکی لیکس، ڈان لیکس اور ڈان لیکس کے ڈانڈے ملانے کی کوشش کررہے ہیں۔دانشور اور جیورسٹ اس فیصلے پر پریشان ضرور ہیں کہ سب کے احتساب کے نعرے لگاتا معاملہ اب تک تو صرف شریفوں کے اڈیالہ جانے تک محدود ہے۔ کیپٹن صفدر تو بے چارہ سابق وزیراعظم کی رشتے داری کی وجہ سے مارا گیا کیونکہ جو الزام ان پر لگا وہ کام تو گورے وکیل جیریمی فری مین نے بھی کیا تھا ۔یعنی ٹرسٹ ڈیڈ پر گواہ کے طور پر دستخط لیکن کپتان ایک سال کے لئے اندر گیا اور دوسرے کا ذکر بھی نہیں ،یہ کھلا تضاد نہیں ہے کیا۔

اگر ہم الیکشن کے بعد نئی حکومت کی بات کریں تو ان سے حالات سنبھل نہیں رہے اور ایسے لگتا ہے نہ کوئی ہوم ورک ہے نہ کوئی پالیسی اور نہ ہی کوئی ٹیم۔ بھینسوں کے دودھ ، ۵۵ روپے کا ہوائی سفر اور پروٹوکول لیا یا نہیں لیا، ان باتوں پر آجکل میڈیا میں گزارہ چلْ رہا ہے۔ اوپر سے شیر کو اندر رکھنا اسے باہر نکالنے سے بھی خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ نیب کے ہاتھ پیر پھول رہے ہیں۔ برطانیہ میں تو کیس ہارنے پر خرچہ اور ہر دن اگر غیر قانونی ہو تو جیل کے اندر رکھنے کا ہرجانہ بھی دینا پڑتا ہے۔ سنا ہے ٹاپ جیورسٹ بھاشا ڈیم کی مخالفت کرنے والوں پر آرٹیکل سکس لگانے کے در پہ ہیں اور کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ آرٹیکل پڑھ لیں اور جس پر لگایا ہے اسکا تو کوئی حساب کر لیں ،باقی گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان پہلے ہی صاف ہے۔ دانشمندانہ رائے یہی ہے کہ انصاف پر نظر رکھیں ۔جمہوریت ،جمہوری رویے اورجمہوری اداروں کو مضبوط ہونے میں ابھی مزید وقت لگے گا! بیگم صاحبہ کے جنازے نے میثاق جمہوریت کی یاد تازہ کی ہے۔ مشورہ یہی ہے کہ انصاف کیجئے صاحب بس انصاف کیجئے ، اور بس یہی آپکا کام ہے۔

(بیرسٹر امجد ملک برطانوی اے پی ایل وکلاْ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور انسانی حقوق کے بہترین وکیل کا ایوارڈ رکھتے ہیں۔ ہیومن رائیٹس کمیشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے تا حیات ممبر ہیں )

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ