ایچی سن کالج میں جھگڑے کا معاملہ، کشمالہ طارق نے چیف جسٹس سے اپنے بیٹے کو بحال کرانے کی استدعا کی تو آگے سے کیا جواب ملا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

ایچی سن کالج میں جھگڑے کا معاملہ، کشمالہ طارق نے چیف جسٹس سے اپنے بیٹے کو ...
ایچی سن کالج میں جھگڑے کا معاملہ، کشمالہ طارق نے چیف جسٹس سے اپنے بیٹے کو بحال کرانے کی استدعا کی تو آگے سے کیا جواب ملا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں ہفتہ کے روز مختلف کیسز کی سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کی خاتون سیاسی رہنما کشمالہ طارق بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئیں اور بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح چیف جسٹس ان کے بیٹے کو ایچی سن کالج سے نکالے جانے کے معاملے پر حکم جاری کردیں لیکن چیف جسٹس نے انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سابق خاتون محتسب کشمالہ طارق کے بیٹے کوجھگڑا کرنے پر ایچی سن کالج سے نکال دیا گیا تھا، گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اس معاملے پر کمیٹی بنائی تو پرنسپل نے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد چوہدری سرور نے انہیں استعفیٰ واپس لینے پر رضا مند کیا ۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے پر پرنسپل کی رپورٹ آئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحت اس کیس کو نہیں لیں گے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ میرے بیٹے کا مستقبل تباہ ہوجائے گا، مجھے کسی نے سپورٹ نہیں کیا، میں نے اپنے بیٹے کو خود ہی پڑھایا ہے ، وہ بہت لائق بچہ ہے، لڑائی ہوئی تو باقی بچوں کو بحال کردیا گیا لیکن میرے بیٹے کو نکال دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون کے مطابق چلتے ہیں ، آپ سول عدالت میں گئی ہیں ، اگر وہاں سے آپ کی نہیں سنی جاتی تو ہائیکورٹ جائیں ، اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے کہ لڑائی ہوئی تو باقی بچوں کو بحال کردیا گیا لیکن آپ کے بچے کو نکال دیا گیا ۔ کشمالہ طارق اور ان کے وکیل نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح چیف جسٹس ہی اس معاملے پر حکم جاری کردیں لیکن چیف جسٹس نے کہا میں تو قانون کے مطابق ہی چلوں گا، قانون جو کہتا ہے میں نے وہی کرنا ہے طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیس چلایا جائے۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور