’’آنکھیں کھولو کلثوم، باؤ جی‘‘پاکستان کا نوحہ

’’آنکھیں کھولو کلثوم، باؤ جی‘‘پاکستان کا نوحہ
’’آنکھیں کھولو کلثوم، باؤ جی‘‘پاکستان کا نوحہ

  

ایک تاریک کمرہ، مصنوعی سانس کی مشین پر ہسپتال کے بستر پر لیٹی کلثوم اور پاس ایک ادھیڑ عمر شخص ’’ آنکھیں کھولو کلثوم، باؤ جی‘‘ چلچلاتی دھوپ میں سڑک پر ایک خراب ایمبولینس کھڑی ہے ، قریب سے گاڑیاں گزر رہی ہیں، سخت گرمی ہے اور اس ایمبولینس میں انتہائی نحیف 71 سالہ ٹی بی کا مریض لیٹا ہے۔ وہ شدید گرمی میں آنکھیں کھولتا ہے، اپنی بہن کا ہاتھ تھامتا ہے اور آنکھوں سے اس اذیت کی وجہ دریافت کرتا ہے، بہن یہی جواب دیتی ہیں’’ دوسری ایمبولینس آرہی ہے‘‘ تین گھنٹے شدید اذیت میں کاٹنے کے بعد، ایمبولینس آتی ہے۔ ایک مخدوش حال بغیر آکسیجن کی ایمبولینس سے اس شخص کو دوسری ایمبولینس میں منتقل کیا جاتا ہے اوراسی رات اس شخص کا انتقال ہوجاتا ہے۔ یہ دن تاریخ میں ہولناکی کی ایک تاریکی کی ابتدا تھی، ایمبولینس میں موجود شخص بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح تھے اور یہ ان کا آخری وقت تھا۔ اس ملک کے بانی کے لیے ایسی ایمبولینس کس نے بجھوائی ،؟ کیوں بجھوائی ؟ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔

رات کے آخری پہر بند کمروں میں لکھی جانے والی ہولناکی کا تسلسل آگے چلتا ہے اور قائد ملت لیاقت علی خان تک پہنچتا ہے۔ 16 اکتوبر 1951 ء ملک کا پہلا وزیر اعظم، راولپنڈی میں ایک افغانی پشتون سیداکبر ببرک کی گولی کا نشانہ بنتا ہے۔ ببرک کو بھی وہیں ہجوم میں مار دیا جاتا ہے ،بھوپال انڈیا میں اردو ڈیلی کے نام سے اخبار شائع ہوتا ہے اور اس میں امریکی سی آئی اے پر الزامات لگا کر ایک پیشہ ور قاتل کے ذریعے قوم کے ایک اور محسن کی زندگی کی کتاب کا باب ختم کردیا جاتا ہے۔

اسی وزیر اعظم کی کیبینٹ کے وزیر دفاع کی جانب آتے ہیں۔ اسکندر مرزا پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل اور پہلے صدر تھے۔23 مارچ 1956ء کو صدارت کے منصب پر بیٹھنے والے اس شخص کا تختہ آمریت نے 27 اکتوبر 1958 ء کو الٹ دیا۔ اسکندر مرزا کو برطانیہ جلا وطن کردیا گیا جہاں یہ ایک چھوٹا سا ہوٹل چلانے لگے۔ ایک امیر نواب برطانیہ میں ایک غریب شخص تھا اور تین ہزار پاؤنڈ کی پینشن پر گزارا کرتا تھا۔ ایران کے اردشیر زاہدی اور محمد رضا پہلوی کی مدد سے گزارا بہتر ہوجایا کرتا تھا مگر یہ ایک ہولناک انجام تھا۔ اسکندر مرزا دل کے عارضے میں لندن کے ہسپتال میں داخل تھے تو بیوی کو کہتے تھے کہ میرا علاج کرانا چھوڑ دو ہمارے پاس اس علاج کے پیسے نہیں ہیں، 13 نومبر 1969ء کو جب اسکندر مرزا کی دل کے دورے کی وجہ سے موت ہوئی تو اس وقت کے آمر حکمران یحیٰی خان نے پاکستان میں اسکندر مرزا کی تدفین تک سے انکار کردیا اور نہ صرف یہ بلکہ اسکندر مرزا کے خاندان کے کسی فرد کو پاکستان سے جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔ محمد رضا پہلوری نے اسکندر مرزا کے جسد خاکی کے لیے ایران سے سپیشل طیارہ بجھوایا اور آخری رسومات کو سٹیٹ فیونرل یعنی قومی سطح پر اعلی ترین جنازے کا درجہ دے کر بہت عزت کے ساتھ تدفین کی گئی۔ 1979ء میں جب انقلاب آیا تو اسکندر مرزا کی آخری آرام گاہ اس میں کہیں تباہ کردی گئی۔

اسکندر مرزا کو اس انجام تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے حکمران ایوب خان،کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں تھا۔ ایوب خان 27 اکتوبر 1958ء سے 25 مارچ 1969ء تک اس ملک کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مشرقی وسطی کے آمر حکمرانوں کے طرز کے ریفارنڈم زدہ صدر رہے۔ گو ایوب کے دور کو پاکستان کے سنہری ادوار میں یاد کیا جاتا ہے۔ ایوب کے دور کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب کے جانے کی راہ ہموار کی اور ایوب کو فاطمہ جناح کے خلاف متنازع الیکشن جیتنے ، آپریشن جبرالٹر میں ناکامی اور ملکی سطح پر ناکام آمر کے طور پر اس قدر بدنام کردیا کہ بغاوت پھوٹ پڑی۔1968ء میں ڈھاکہ میں ایوب خان پر بدترین قاتلہ حملہ ہوا جس میں وہ بچ نکلے۔ کہا یہ جاتاہے کہ ایوب خان کے لیے عرف عام جو مغلظات پر مشتمل الفاط استعمال کیے جاتے تھے ایک دن انہوں نے وہ اپنی پوتی کے منہ سے سنے تو اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور یوں انتہائی تضحیک آمیز رخصتی اور شدید عوامی نفرت کے بعد ایوب خان کو 25 مارچ 1969 ء کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور یہ اقتدار ایک اور آمر یحیٰی خان تک منتقل ہوگیا۔ جن کی رخصتی ، پاکستان کے دو حصوں میں تقسیم ہونے پر ہوئی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ بنگلہ دیش کے مجیب الرحمان کو اکثریت سے جیتنے کے باوجود وزارت عظمٰی نہ ملی اور ملک ٹوٹ گیا ۔ یہ اندار گاندھی کی جیت تھی۔ شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں اپنے اپنے ملکوں کے وزیر اعظم بن گئے ، مگر انجام دونوں طرف ہولناک تھا۔ شیخ مجیب الرحمان کو 15 اگست 1975ء کو پورے خاندان سمیت ان کے گھر میں گولیاں ماری گئیں، بنگلہ دیش کی مستقبل کی وزیر اعظم شیخ حسینہ جرمنی میں ہونے کی وجہ سے بچ گئیں، باقی پورا خاندان قتل ہوگیا، اس قتل کے پیچھے آمر تھے اور جنرل ضیا الرحمن جو بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بنے چٹا گونگ کے سرکٹ ہاؤس میں اپنے 6 باڈی گارڈز کے ہمراہ قتل کردیے گئے۔ ادھر ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان کے ایک طیارے میں جہاز کی کھڑکی میں بارش میں ہاتھ ہلاتے کمانڈر کو چیف بنایا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا پھندا لیکر آگیا۔ چار اپریل 1979ء کو راولپنڈی کی جیل میں بھٹو کو تمام تر بین الاقوامی فریادیں رد کرتے ہوئے پھانسی دے دی گئی۔17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے پاس C-130B ہرکولیس ائیر کرافٹ کا حادثہ پیش آتا ہے، الزام امریکی سی آئی اے پر لگایا جاتا ہے ۔ ضیاء کے خلاف بھی بھٹو کی بیٹی بے نظیر کی جدو جہد کی وجہ سے ملک گیر بغاوت پھوٹ چکی تھی اور یہ گمان تھا کہ اگر طیارہ نہ گرتا تو کم از کم کچھ اور ضرور ہونے کوتھا۔

ان سانحات کے بعد ملک میں کچھ عرصے جمہوریت کے سلسلے چلتے ہیں۔ ضیا ء الحق کے دورکا تحفہ کہلانے والے نواز شریف اور اپوزیشن بے نظیر کی اقتداری شٹل کاک چل پڑتی اور یوں دو دو بار وزیر اعظم رہنے کے بعد، دونوں کو ہر بار مدت پوری کیے بغیر جانا پڑتا ہے۔ 1999ء میں آمریت پھر شب خون مارتی ہے اور نواز شریف کو جانا پڑتا ہے اور یوں ایوب خان طر ز کا ریفرنڈم پرویز مشرف کو ملک کا صدر بنا دیتا ہے، پرویز مشرف بھی اپنے اوپر ہونے والے بدترین قاتلانہ حملوں میں بچ کر نکلتے رہتے ہیں اور 2008ء میں تضحیک آمیز رخصتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے قریب ملک کی دو بار وزیر اعظم رہنے والی بی بی کو خودکش حملے کے دوران گولی مار کر شہید کر دیا جاتا ہے ۔ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے اور آنے والے سالوں 2013ء میں نواز شریف کو تیسری بار وزارت عظمی مل جاتی ہے۔ اس دور کی بے پناہ غلطیاں، اور پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی اقتدار کو عمران خان کی جھولی میں ڈال دیتی ہے۔ نواز شریف ، بیٹی اور داماد سمیت راولپنڈی کے اڈیالہ پہنچ جاتے ہیں اور یوں ملک میں تیسری بار وزیر اعظم رہنے والا شخص بھی اپنے انتہائی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔

جناح کی خراب ایمبولینس، لیاقت علی خان کو لگی گولی، اسکندر مرزا کی بے نام موت، بھٹو کی پھانسی، ضیاء کے طیارے کے گرنے، بی بی کی شہادت ،پرویز مشرف کی تضحیک آمیز رخصتی، نواز خاندان کی بے توقیری اور کلثوم نواز کی متنازع بنا دی گئی موت۔ گندی اور خونی سیاست ، اقتدار کی تاریک سناٹوں بھری راتیں۔ یہ سلسلے ایک خراب ایمبولینس سے شروع ہوکر لندن کے اس بستر تک آنکلے ہیں جہاں ستر سال کا تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص ، تین بار خاتون اوّل کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، وہ طویل جیل کاٹنے آرہا ہے اور جانتا ہے کہ اگلی بار جب وہ کلثوم سے ملے گا تو شاید وہ اس دنیا میں نہیں ہوگی ۔’’ آنکھیں کھولو کلثوم، باؤ جی‘‘ اب بھلا کلثوم کیا دیکھنے کے لیے آنکھیں کھولے؟ اس ملک کی سیاست کی تاریخ اتنی خونی ہے کہ یہاں کلثوم کو بھی اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ اندھیر نگری سے اجالوں تک،مقتدر ایوانوں کی شان و شوکت سے جیل کی تاریک کوٹھریوں، پھانسی کے پھندوں ، بارود میں چلی گولیوں اور جلاوطن لاشوں کی تدفین تک ،اس ملک پر ہر حاکم کا انجام ہولناک ہے۔ نئے پاکستان کا انجام وقت بتائے گا، مگر تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ کچھ نیا نہیں ہوگا۔ یہی وقت کی گونج ہے۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ