نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کمی!

نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کمی!

سپریم کورٹ کے سہ رکنی فل بنچ نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے فیسوں میں ناروا اضافے کو مسترد کر دیا اور حکم دیا ہے کہ فیسوں کو جنوری2017ء کے مطابق منجمد کیا جائے اور نجی تعلیمی ادارے ریگولیٹری اتھارٹی کے تعاون سے عدالتی حکم کی تعمیل کریں اور فیسیں پانچ فیصد اضافے کے ساتھ مقرر کریں۔عدالت نے ان اداروں کو یہ سہولت دی ہے کہ ان کی طرف سے اب تک 20سے30فیصد یا50فیصد اضافے کو 5فیصد کے مطابق مقرر کرنے کے بعد والدین کی طرف سے دی گئی فیسوں کی جو اضافی رقم ہو وہ یکمشت ادا نہ کریں،بلکہ طلباء کی فیسوں میں ہی ایڈجسٹ کرا دیں۔ نجی سکولوں کی فیسوں کا یہ دیرینہ مسئلہ ہے، جو عدالت عظمیٰ میں پیش ہوا، نجی سکولوں کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر5فیصد اضافے پر صاد کیا تاہم بعدازاں اپنی ایسوسی ایشن کے ذریعے اس حکم کو چیلنج کر دیا اس کی سماعت چیف جسٹس، مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سہ رکنی فل بنچ نے کی تھی۔ نجی سکول مالکان پہلے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے تاہم اب یہ فیصلہ حتمی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ فیسوں کا تعین اور حساب کتاب ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ کیا جائے، ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی گئی وہ اِس سلسلے میں باقاعدہ ایک شکایات سیل بنائیں، جو والدین اور نجی سکول مالکان دونوں کی شکایت سن سکے اور اتھارٹی اس کی سفارش کے مطابق فیصلہ کر سکے۔ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اب تعلیمی اداروں کے مالکان کو عمل کرنا اور ریگولیٹری اتھارٹی کو عمل کرانا ہو گا، فیصلہ اب تعلیمی اداروں اور والدین کے لئے بہتر ہے کہ غیر معقول فیس اضافہ نہیں ہو گا اور مالکان نقد رقم واپس کرنے کی بجائے فیسں میں کٹوتی کروا لیں گے۔ توقع ہے اب اس فیصلہ پر عمل ہو جائے گا اور شکایت موصول نہیں ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...