پنسل سے کھینچی لکیر

پنسل سے کھینچی لکیر
پنسل سے کھینچی لکیر

  


ہندوستانی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے صرف دو جملوں نے میرے سوال کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ یہ 22جنوری2001ء کی سہ پہر کا ذکر ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی رُکن جسونت سنگھ ان دنوں اپنے ملک کے وزیر خارجہ تھے اور سعودی عرب کے مختصر دورے پر تھے۔صبح شاہ فہد بن عبدالعزیز سے ان کی ملاقات ہو چکی تھی اور پریس کانفرنس کے فوراً بعد انہیں ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ضیافت میں شریک ہونا تھا۔ صحافی سوالات کرتے رہے اور پھر مَیں نے سعودی ٹیلی ویژن کے لئے ایک الگ سا سوال کر دیا۔”آپ نے برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد یہ جواز بنا کر حیدرآباد دکن پر فوج کشی کی کہ اس ریاست کی اکثریت ہندوؤں پر مشتمل تھی۔اگرچہ اس کا حکمران نظام عثمان علی خان مسلمان تھا تو پھر آپ نے یہ اصول ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ کرتے وقت کیوں لاگو نہیں کیا تھا؟“ جسونت سنگھ کے کھردرے چہرے پر خشونت کی لہر اُبھری اور پھر انتہائی کھردرے لہجے میں بولے ”جنٹلمین! ہندوستان کے پہلے ہی بہت ٹکڑے ہو چکے ہیں۔اب ہم اس کے مزید حصے بخرے ہوتے برداشت نہیں کر سکتے“۔ ہندوستانی سفیر نے فوراً آگے بڑھ کر پریس کانفرنس کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ دُکھتی رگ پر ہاتھ جو آ گیا تھا۔جسونت سنگھ5دسمبر1998ء سے چار برس کے لئے اٹل بہاری واجپائی کی کابینہ میں وزیر خارجہ رہے، اپنی سیاسی جماعت کے انتہائی ہر دلعزیز رہنما تھے۔ حکومتی اور سیاسی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ریٹائر ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی مختلف کمیٹیوں میں سرگرم رہے،لیکن پھر ایک کہرام اُٹھ کھڑا ہوا۔جسونت سنگھ نے ایک کتاب لکھ ڈالی، عنوان تھا:

JINNAH: INDIA- PARTITION - INDEPENDENCE

یہ تصنیف17اگست2009ء کو اشاعت پذیر ہوئی اور18اگست کی صبح جسونت سنگھ ہندوستان کے انتہائی قابل ِ نفرت رہنما بن چکے تھے۔اپنی کتاب میں مصنف نے بانی ئ پاکستان محمد علی جناح ؒ کی راست گوئی ثابت قدمی اور ذہانت کی تعریف کرتے ہوئے تحریر کیا تھا کہ جناح کا مطالبہ ئ پاکستان ایک درست اقدام تھا۔بھارتی جنتا پارٹی کی تو بنیاد ہی اسلام اور پاکستان دشمنی پر اٹھائی گئی تھی، کیسے اپنی صفوں میں ایسے کسی مصنف کو برداشت کرتی؟ کتاب بازار سے فوراً اُٹھا لی گئی اور جسونت سنگھ کی جماعت کی رکنیت منسوخ ہو گئی۔اب خیال آتا ہے کہ بلاشبہ جسونت سنگھ ایک زمانہ شناس شخص تھے، جس طرح کے خیالات کا اظہار انہوں نے 2009ء میں اپنی کتاب میں کیا اگر اپنے ایسے ہی عقیدے کا اظہار 2001ء کی ریاض کی پریس کانفرنس میں کرتے اور کہتے کہ حیدر آباد دکن پر بھارتی فوج کی چڑھائی تقسیم کے اصول و ضوابط کے خلاف تھی تو 8برس پیشتر ہی ان کی سعودی عرب سے واپسی پر بھارتی جنتا پارٹی ان سے چھٹکارا حاصل کر لیتی۔

تقسیم ِ ہند کی تاریخ کے خون آلود صفحات نے متعدد حقائق پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔ اگست1947ء کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران ایسی شرمناک اور مکروہ سازشوں اور حرکات کا ارتکاب کیا گیا کہ کرہئ ارض کے کسی اور مقام پر ان کی مثال نہیں ملتی۔بعد کے برسوں میں پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والے چودھری محمد علی اُن دِنوں تشکیل ِ پاکستان کے عمل میں قائداعظم اور قائد ملت کے معتمد کے طور پر مصروفِ عمل تھے۔تقسیم ِ ہند پر ان کی تحریر کی گئی شہرہئ آفاق کتاب THE EMERGENCE OF PAKISTAN نے ایسے خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن کا ذکر کسی اور کتاب میں نہیں ملتا۔ لکھتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت ایک کاری زخم لگا۔جب ریڈ کلف نے پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تقسیم کی۔اس ضلع کی چار تحصیلیں تھیں۔ان میں سے صرف ایک پٹھان کوٹ میں مسلمان اقلیت میں تھے، جبکہ باقی تین تحصیلوں بٹالہ، شکر گڑھ اور گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

ضلع گورداسپور ریاست جموں و کشمیر سے ملحق تھا اور ہندوستان صرف گورداسپور کے ذریعے سے جموں و کشمیر سے ریل اور دیگر مواصلاتی روابط قائم رکھ سکتا تھا،لیکن ایک حقیقت یہ تھی کہ پٹھان کوٹ اورباقی ہندوستان کے درمیان مسلمان اکثریتی علاقے بٹالہ اور گورداسپور حائل تھے۔ریڈ کلف نے یہ بددیانتی کی کہ یہ دونوں مسلمان اکثریتی تحصیلیں ہندوستان میں شامل کیں اور یوں ہندوستان کو جموں و کشمیر تک رسائی دے دی۔ اس سیاہ ترین ظلم کا انکشاف چودھری محمد علی پر اس وقت ہوا جب قائداعظم کی ہدایت پر وہ صورت حال معلوم کرنے کے لئے دہلی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی رہائش گاہ گئے۔چودھری محمد علی یوں رقم طراز ہیں:”9اگست1947ء کو مَیں دہلی سے کراچی گیا تاکہ قومی قرضوں کی ادائیگی کے موضوع پر ہندوستانی تجاویز پر قائداعظم اور لیاقت علی خان سے مشورہ کر سکوں۔ واپسی سے قبل مجھے لیاقت علی خان نے مطلع کیا کہ قائداعظم کو پنجاب کی تقسیم کے بارے میں انتہائی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

ضلع گورداسپور اور امرتسر اور جالندھر کے اضلاع کے مسلم اکثریتی علاقے ایک سازش کے تحت ہندوستان میں شامل کئے جانے کی افواہیں عام تھیں۔انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ مَیں دہلی واپس پہنچتے ہی وائسرائے کے شخصی مدد گار لارڈ اِسمے سے ملاقات کروں اور اُسے قائداعظم کا یہ پیغام پہنچاؤں ؒ کہ اگر پنجاب کی تقسیم ایسے ہی ہوئی جس طرح کہ افواہوں میں اُڑایا جا رہا ہے تو اس سے پاکستان اور مملکت ِ برطانیہ کے باہمی تعلقات سخت متاثر ہوں گے۔دہلی پہنچتے ہی مَیں سیدھا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گھر چلا گیا جہاں کہ لارڈ اِسمے کا دفتر تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ لارڈ اِسمے اس وقت ریڈ کلف کے ہمراہ ماؤنٹ بیٹن کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ میں تھا۔مَیں نے انتظار کرنا مناسب خیال کیا۔ ایک گھنٹے کے بعد اس کی واپسی ہوئی،مَیں نے اُسے قائداعظم کا پیغام دیا تو اُس نے انتہائی معصومیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقسیم ِ ہند کے بارے میں ریڈ کلف کے منصوبوں سے قطعی لاعلم تھا اور واضح کیا کہ نہ ہی اُس نے اور نہ ماؤنٹ بیٹن نے کبھی ریڈ کلف سے تقسیم کے موضوع پر بات کی تھی۔ یہ سارا فیصلہ ریڈ کلف کا تھا۔اُسے کسی طرح کا کوئی مشورہ نہ دیا گیا اور نہ دیا جائے گا۔

مَیں نے لارڈ اِسمے کو تفصیلاً ان اطلاعات کے بارے میں بتایا جو تقسیم ِ پنجاب کے بارے میں قائداعظم تک پہنچی تھیں۔اس پر وہ بولا کہ اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔اُس کے کمرے میں دیوار پر برصغیر کا ایک نقشہ لٹک رہا تھا۔مَیں نے اشارے سے لارڈ اِسمے کو وہاں آنے کا کہا تاکہ اُسے تفصیل سے سمجھا سکوں۔تب مَیں نے کہا کہ نقشے میں پنجاب کے صوبے میں سے گزرتی پنسل سے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی اور یہ لکیر ان حدود کو واضح کر رہی تھی جن کے بارے میں قائداعظم کو اطلاعات ملی تھیں۔ پنسل کی یہ لکیر بٹالہ اور گورداسپور کے مغرب سے ہوتی ان دونوں تحصیلوں کو ہندوستان میں شامل کرتی تھی۔ دونوں مسلمان اکثریتی علاقے تھے اور دونوں پاکستان سے کاٹ دیئے گئے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو ملنے والی اطلاعات درست تھیں۔وہ لکیر نہ صرف ہندوستان کو جموں و کشمیر تک رسائی دیتی تھی،بلکہ مغربی پنجاب میں بہہ آنے والی نہروں کے منابع بھی ہندوستان کی جھولی میں ڈال رہی تھی۔مَیں نے ہاتھ کے اشارے سے لارڈ اِسمے کو نقشے پر آنے سے منع کر دیا اور اُس لکیر کی طرف اشارہ کیا جو برطانوی بددیانتی کا ایک کھلا ثبوت تھی۔ لارڈ اِسمے کا رنگ زرد پڑ گیا اور وہ لکنت بھرے لہجے میں بولا کہ کوئی شخص اس کی غیر موجودگی میں نقشے سے کھلواڑ کرتا رہا تھا۔ مملکت ِ متحدہ برطانیہ نے تو سیرل ریڈ کلف کو اس بات پر مامور کیا تھا کہ وہ باؤنڈری کمیشن کے سربراہ کے طور پر عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے تقسیم ِ ہند کے فریضے سے عہد برآ ہو،لیکن اس نے پنجاب پر ایسی لکیر کھینچی کہ سارے خطے کا امن و سکون ایک خون آشام بے یقینی کی نذر ہو گیا۔

برطانیہ عظمیٰ کے ایک ذمہ دار کی بدنیتی نے تاریخ کے ہر ورق کو خون آلود کر دیا۔ اب سیاسی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ برطانیہ پنسل سے کھینچی اپنی لکیر کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق درست کرانے میں فعال کردار ادا کرے۔ دُنیا کے کسی بھی ملک کے سربراہ سے زیادہ یہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا فرض ہے کہ اپنے ماضی کے رہنماؤں کی غلطیوں کا ازالہ کرے۔ جموں و کشمیر کا ظلم و تشدد کے نیچے کراہتا مسلمان اِسی انتظار میں ہے کہ اس کے تاریک شب و روز کے لئے کوئی روشنی کا پیغام لائے۔اس قضیے میں مداخلت کر کے بورس جانسن نہ صرف اپنے ملک کی نیک نامی کا سبب بنیں گے،بلکہ اپنے آباؤاجداد کی روحوں کو بھی مسرور کریں گے۔1869 ء میں عثمانی عہد کے قلسطنطنیہ میں جنم لینے والے علی کمال نے چھ برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا تھا۔ وہ معروف ترک صحافی تھے اور بورس جانسن کے پردادا تھے۔ان کی اسلام پسندی مصطفےٰ کمال اتاترک کی لادین حکومت کو پسند نہ آئی، چنانچہ ان کی جان لے لی گئی۔ ہندوستانی جبرو استبداد کے نیچے کراہتے مسلمان کشمیر کی آزادی کے متحرک بن کر بورس جانسن بہت سے قرض اتار دیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...