اچھی خبریں

اچھی خبریں
اچھی خبریں

  


آج کل میڈیا اور سیاست پر کشمیر ہی سب سے بڑا موضوع ہے۔ ہوم فرنٹ پر عمومی طور پر خاموشی ہے کبھی کبھی ڈیل اور ڈھیل کی خبر آ جاتی ہے اور بعض لوگ تاریخیں بھی دے دیتے ہیں، لیکن پھر کچھ عرصے کیلئے خاموشی چھا جاتی ہے۔ آج کل پھر کچھ ایسی ہی خبر چل رہی ہے۔اب اندرونی محاذ پر ایک دو مثبت خبریں سامنے آئی ہیں، لہٰذا ان پر بات کرتے ہیں۔ مَیں تو اپنے دوستوں سے پوچھتا رہتا ہوں کہ وہ کوئی مثبت باتیں بتائیں جن پر لکھا جا سکتا ہو، کیونکہ یکطرفہ کالم خواہ وہ حقیقت پر مبنی ہو لکھنے سے یقین کریں مجھے کوئی خوش نہیں ہوتی،لیکن کوئی ٹھوس پوائنٹ سامنے نہیں آتے۔ حکومت نے کروڑوں نوکریوں اور مکانات دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے اس کا صحافتی آڈٹ تو پانچ سال کے بعد صحیح ہو گا ابھی ان معاملات میں کوئی حتمی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔پنجاب پولیس قابو سے باہر ہے۔ پولیس ریفارم کا جو فارمولہ خیبرپختونخوا میں کامیاب رہا تھا وہ کہاں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

اب کچھ مثبت خبریں، چند دن پہلے ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 27وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور اپنی وزارت کے پینڈنگ مسائل سے انہیں آگاہ کریں تاکہ اُن پر ضروری فیصلے کئے جائیں۔ میں اِسے ایک اچھی خبر سمجھتا ہوں کیونکہ ابھی تک حکومت کا فوکس شریف اور زرداری فیملی کی کرپشن پر رہا ہے۔ سرکاری دفتروں میں جہاں ہر آدمی کو واسطہ پڑتا ہے، کاروبار زندگی جوں کا توں چل رہا ہے اُن پر ابھی تک اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوا کہ اوپر وزیراعظم کوئی ایماندار آدمی آ گیا ہے یا چور ڈاکو ہے۔ دفتروں میں نہ رشوت کے ریٹ پر کوئی فرق پڑا اور نہ ہی کارکردگی ذرا برابر بہتر ہوئی ہے۔میں نے پہلے بھی ایک کالم میں افسوس کا اظہار کیا تھا کہ وزیراعظم نے سرکاری دفتروں میں کرپشن کے خاتمے کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا اب شاید یہ بات بھی ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں اپنے مکان کا این او سی لینے کے لئے مجھے سی ڈی اے سے واسطہ پڑ گیا تو پتہ چلا کہ یہاں تو تبدیلی کا کوئی نام و نشان نہیں میں نے قاعدے کے مطابق ون ونڈو پر اپنی درخواست جمع کرائی جب کچھ عرصے کے بعد پتہ کرنے گیا تو انہوں نے کہا کہ فلاں ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں۔

میں نے ڈیسک پر بیٹھے ملازم سے کہا کہ اگر میں نے متعلقہ دفتر ہی جانا ہے تو پھر یہاں درخواست جمع کرانے کا کیا ثواب ہے؟ اس پر وہ تھوڑا سا پریشان ہوا اُس نے کہا کہ یہ توسینئر افسر ہی بتا سکتے ہیں۔ یہ ون ونڈو آپریشن ہمارے دوستوں سابق چیئرمین جناب رؤف چودھری اور ممبر ایڈمن سکندر میکن نے عوام کی سہولت کے لئے شروع کیا تھا۔ آئیڈیا بہت اچھا تھا، لیکن ہم تو ہر چیز کا مذاق بنا لیتے ہیں اور اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اگر میں نے اپنے مسئلے کے لئے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچنا ہے انہیں پیسے دیکر یا سفارش کے ذریعے کام کرانا ہے تو پھر ون ونڈو کے تماشے کا کیا فائدہ؟

لطیفہ یہ ہے کہ میرے مکان کی فائل گم ہو چکی ہے اب اس سلسلے میں جو کچھ میں نے دیکھا اور بھگت رہا ہوں وہ ذرا طویل کہانی ہے اُس کی تفصیل میں نہ جانا ہی مناسب ہے۔ ڈیپوٹیشن کا معاملہ ہی لے لیں اس کا مقصد تو یہ تھا کہ اگر کسی محکمے میں کسی خاص قابلیت کا آدمی دستیاب نہیں اور اس کی بھرتی کے لئے کافی وقت چاہئے تو اس قسم کے افسر کی خدمات کسی دوسرے دفتر سے چند سال کے لئے مستعار لی جائیں، لیکن شاید ہی اس سہولت کا کبھی میرٹ پر استعمال کیا گیا ہو۔ طرح طرح کے لوگ سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں اور پلاٹ الاٹ کرا کر واپس چلے جاتے ہیں اور اگر زیادہ مزہ آ جائے تو یہیں پر ضم ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ مختلف محکموں سے ایف آئی اے میں تبادلہ کراتے ہیں اور مالی حالت بہترکر لیتے ہیں۔غرض یہ کہانی کافی طویل اور عام ہے۔ یہ کوئی راز نہیں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو آدمی تگڑی سفارش کرا کر کسی خاص مقصد کے لئے ڈیپوٹیشن پر کسی محکمے میں جا رہا ہے اور پھر اُس کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت اُس نئے جاب کے مطابق بھی نہیں وہ اُس محکمے کے لئے کتنا مفید ثابت ہو گا اور اس ساری ایکسرسائز میں عوام کا کیا بھلا ہو گا۔

بدقسمتی سے حکومت نے عوام کی سہولت کے لئے قانون قاعدے اور طریق کار میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی۔ البتہ حکومت کے واجبات میں ہر جگہ تین چار گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ میں اپنے مکان کا پراپرٹی ٹیکس 25 ہزار سالانہ دیتا آ رہا ہوں، لیکن اب پتہ چلا ہے کہ مجھے 71 ہزار ٹیکس دینا ہو گا۔میں نے کچھ حیرانی اور پریشانی کا اظہار کیا تو متعلقہ آدمی نے کہا کہ جناب تبدیلی آ گئی ہے۔ اس تین گنا اضافے کے ذمہ دار بھی غالباً وہی حکمران ہیں جنہوں نے کئی سال تک اس میں اضافہ نہیں کیا۔ پچھلے دنوں میں نے کراچی کے لئے جنرل پوسٹ آفس سے ایک کتاب رجسٹری کے ذریعے کسی دوست کو بھیجی جس کے لئے ماضی میں 70 روپے چارج کئے جا رہے تھے اب 130 روپے وصول کئے گئے اور رجسٹری ایک مہینے کے بعد پہنچی۔ اب اس پر کسی تبصرے کی گنجائش نہیں۔ اس میں بھی قصور شاید کسی سابق حکمران کا نکل آئے۔

بہرحال یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ وزیراعظم نے وزارتوں اور ماتحت دفتروں کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دی ہے ظاہر ہے سینئر افسروں سے کارکردگی کی رپورٹ مانگی جائے گی اور خالی پوسٹوں پر میرٹ پر تقرریاں کی جائیں گی۔ ملازمین کو اپنے حقوق وقت پر ملیں گے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ صورتحال کچھ سدھرے۔میرے ذاتی علم میں ہے کہ کئی محکموں میں دس پندرہ سال سے ترقیاں نہیں ہوئیں،لیکن اس کے لئے طویل عرصے تک بڑی محنت کرنی ہو گی، کیونکہ سرکاری افسروں کا رویہ بدلنا کافی مشکل کام ہے۔ دفتروں میں سخت Status Quo کا راج ہوتا ہے اور مقصد کارکردگی بہتر بنانا یا عوام کے لئے سہولت پیدا کرنا نہیں بلکہ کام چلانا ہوتا ہے اس ”کام چلاؤ“ پالیسی میں تبدیلی ہی اصل تبدیلی ہو گی۔پھر ملک سے کرپشن کے خاتمے کی مہم تو زوروں پر ہے، لیکن کیا جناب عمران خان نے کبھی سفارش اور اقرباپروری کے بارے میں بھی سوچا ہے، کیونکہ اگر کرپشن کا خاتمہ ہو بھی جائے،جو بظاہر ناممکن ہے تو ان بیماریوں کے ہوتے ہوئے میرٹ کا ہدف تو حاصل نہیں ہو سکتا۔ بانی ئ پاکستان محمد علی جناح ؒ نے دستور ساز اسمبلی سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کرپشن اور اقرباء پروری جیسی لعنتوں پر ہم نے قابو پانا ہے ویسے بھی عمران خان اکثر ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو سفارش کی تو ریاست مدینہ میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔

ایک چھوٹی سی اور اچھی خبر ملی ہے وہ یہ کہ وزیر داخلہ نے اسلام آباد ٹریفک کے مسائل کا نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں کچھ فیصلے کئے ہیں۔ ہمارے ہاں آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور اسلام آباد جیسے شہر میں ٹریفک کی صورت حال اتنی گھمبیر ہو چکی ہے کہ باہر نکلتے وقت آدمی خیریت سے گھر واپس پہنچنے کی دعا مانگتا ہے۔ سڑک پر نکلیں تو عجیب و غریب کرتب دیکھنے میں آتے ہیں لوگ بڑی ڈھٹائی سے اشارے کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں دو رویہ سڑک پر بھی آپ کے سامنے سے موٹر سائیکلیں آ رہی ہوتی ہیں۔ ایک ایک موٹر سائیکل پر بلامبالغہ پورا خاندان سوار ہوتا ہے۔ لین ڈسپلن کا قطعاً کوئی خیال نہیں کرتا حقیقت یہ ہے کہ اِس ساری صورت حال میں اپنی گاڑی اور جان بچانے کے علاوہ ایک ذہنی اذیت سے گزرتا پڑتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...