مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (آخری قسط)

مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (آخری قسط)
مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (آخری قسط)

  


اگر جائزہ لیا جائے تو بیگم کلثوم کی وفات کے بعد تحریروں، بیانات، میڈیا پر تجزئیوں میں میاں صاحب اور مریم بی بی کے اس کرب کا احساس بھی شدت سے پایاگیا، جو انہوں نے بیگم کلثوم کو ونٹیلیٹر پر، اللہ کے سپرد چھوڑ کر، نا کردہ گناہوں کی پاداش میں سنائی گئی سزا پرعمل درآمد کے لئے گرفتاری دینے کے لئے وطن واپس آتے ہوئے محسوس کیا ہو گا…… بہر حال،اس تکلیف کا صرف اندازہ سا لگایا جا سکتا…… جس طرح سمندروں کی گہرائی اور کائنات کی وسعت انسانی چشم ِ تصور میں نہیں سما سکتی، بالکل اسی طرح وہ درد اور کرب جو نواز شریف اور مریم نواز نے جھیلا، اس کا کوئی اور اندازہ نہیں کر سکتا…… ایک ایسا ناقابل ِ برداشت دردکہ جس نے کلثوم اور باؤ جی کی گڑیا کے آنسو مہینوں نہ تھمنے دئیے۔ آفرین ہے میاں نواز شریف پر!کتنا کچھ دیکھ کر، سہہ کر، اس قدر کرب جھیل کر بھی ذاتی تکلیف پراف تک نہ کی، زبان پراپنے درد کی شکایت میں ایک حرف تک نہ لائے …… تبھی تو دلوں میں میل رکھنے والے یقین ہی نہ کر سکے کہ بیگم کلثوم، میاں نواز شریف، مریم نواز اور ان کے اہلِ خانہ واقعی ہی سخت ترین تکلیف میں ہیں۔ حتیٰ کہ ذاتی، سستی تشہیر(جو ملک اور قوم کو بہت مہنگی پڑی) کے لئے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے والے، کسی کو اپنے شر سے محفوظ نہ رہنے دینے والے ایک بندہئ خاکی نے جب باؤجی کے دل پر زہربجھا نشتر چلایا کہ ”آپ تشہیر کے لئے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لئے اجازت نہیں دی گئی،،…… تو تب بھی فقط اتنا کہہ کر صبر کر لیا کہ ”مجھے یہ سن کر تکلیف ہوئی“۔ کتنی ہوئی گی، وہ تو صرف وہ صبر اور استقامت کے پہاڑ سا باؤ جی ہی جانے یا …… باؤ جی اور کلثوم اور اس قوم کی لاڈلی بیٹی مریم!

میاں صاحب کی کلثوم صاحبہ کے لئے کیا feelings اور درد وچھوڑے کا کیا حال …… معمولی سا اندازہ ہوا تھاکہ جب ایک روز کوٹ لکھپت جیل، میاں صاحب سے ملاقات کے لئے مخصوص دن جمعرات کو ان سے ملاقات کے لئے جاناتھا،یہ تاریخ تھی 31جنوری 2019ء۔بیگم کلثوم کو رخصت ہوئے ساڑھے چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تھا……میاں صاحب سے ملتے ہوئے، بات کرتے ہوئے، منہ سے کلثوم صاحبہ کا نام نکلا…… میاں صاحب نے جیسے ہی ”کلثوم صاحبہ،، کا نام سنا، ایک دم کسی خیال میں کھو گئے …… ایسے جیسے کسی احساس کی گہرائی میں دور اتر گئے ہوں …… ان کے وجود میں غم کی لہرسی دوڑ گئی ہو …… میاں صاحب کی کیفیت دیکھی جا سکتی تھی کہ گویا کلثوم صاحبہ کا ذکر سنتے ہی انہوں نے یک دم خود کو بے جان سا محسوس کیا ہو۔ایک دم میں جیسے ان کے وجود پرشدید نقاہٹ طاری ہو گئی ہو…… چند لمحوں کے لئے کہیں خود میں گم، میاں صاحب اپنی ٹانگوں پر ہاتھ رکھ کر ایسے آہستگی سے بیٹھ گئے، جیسے کسی شدید تھکن کا احساس ان کو مزید کھڑا رہنے کی اجازت نہ دے رہا ہو…… حالانکہ وہ کھڑے ہوئے، ہشاش بشاش،ملاقات کے لئے آنے والوں کا اپنے روایتی انداز میں اسی پر تپاک طریقے سے استقبال کر رہے تھے کہ جیسے کیا کرتے…… اور ہمیشہ کی طرح بڑی خوشی سے، اپنی دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ شفقت بھرے انداز میں ملے تھے…… یہ میرے لئے totally unexpected تھا۔ میں بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا کہ ساڑھے چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی میاں صاحب کے دل میں کلثوم صاحبہ کا غم یوں تازہ ہو گا …… میاں صاحب کی کیفیت، ان کا یک دم غمگین سا ہو جانا، ساتھ کھڑی شزیٰ فاطمہ خواجہ نے بھی محسوس کیا۔ شزیٰ اورراقم میاں صاحب سے ملاقات کے لئے اکٹھے ہی گئے تھے، سو اکٹھے ہی میاں صاحب سے ملے تھے۔

میاں نواز شریف کی بیگم کلثوم صاحبہ کے ساتھ attachmentکااندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 99 ء کے غدر کے بعد اپناساتھ چھوڑنے والوں کے لئے تو اپنی پارٹی کے دروازے اور (دل نہیں تو کم از کم) ذہن کے در کھول دئیے…… لیکن وہ جن کے دروازے بیگم کلثوم کے لئے بند ہوئے، ان کے لئے پارٹی تک کے دروازے کھولنے کو بھی میاں صاحب کا دل آمادہ نہ ہوا…… ایک عام انسان، کتنا ہی سلجھا ہوا، خوش اطوار اور نفیس سہی…… زندگی کی محبت ہمیشہ کے لئے رخصت ہورہی ہو، اور محض ”واٹس ایپ،، پر مرتب کردہ ظلم کے ضابطوں کے نفاذ کی خاطر، تکلیف دہ ترین لمحات میں بھی، سمندروں پار سے فون تک پر بات سے بھی جبری محروم رکھاجائے …… تووحشت ضرور طاری ہو…… وجود میں نفرت یاکم از کم انتقام کا جذبہ لازمی موجزن ہو پڑے…… لیکن آفرین ہے اس شخص پر کہ جس کو زیر کرنے، توڑ ڈالنے یا کم از کم یوں بدل ڈالنے کہ وہ جو تھاوہ نہ رہے، کوئی حربہ بروئے کار لانانہ چھوڑا گیا ہو، حتیٰ کہ اس کی شریکِ حیات نے ایسے حالات میں جاں دے دی ہو کہ اسے بہت دور، سلاخوں کے پیچھے قید رکھا گیا ہو…… لیکن…… ٹو ٹنا، بکھرنا، جھکنا تو دورکی بات…… اس شخص پر اتنا اثر بھی نہ پڑا ہو کہ اس کے ٹھنڈے، معتدل اور مطمئن مزاج میں معمولی سی حرارت ہی پیدا ہو گئی ہو…… میاں نواز شریف اس دنیا کا انسان ہی نہیں! اللہ کلثوم کی محبت،باؤجی کو سدا سلامت رکھے! آمین۔

کلثوم صاحبہ کی وفات کے بعد ہر خاص و عام نے اس کرب اور بے یقینی کی تکلیف کا احساس بھی شدت سے محسوس کیا جو سوشل میڈیا پر ”وائرل،، ہونے والے”ویڈیو کلپس،،میں نظر آنے والے منظر اور سنائی دینے والی آوازوں سے چھلک رہا تھا…… کہ جب میاں نواز شریف بیگم کلثوم کے سرہانے کھڑے یاس اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پکار رہے تھے، ”کلثوم …… آنکھیں کھولو! باؤ جی!،، اور…… مریم نواز اپنی امی کو آنکھیں کھولنے کے لئے incentive دیتے ہوئے کہہ رہیں تھیں …… ”امی آنکھیں کھولیں …… دیکھیں ابو آئے ہیں!،، اہل ِ دِل اس بات پر بھی رنجیدہ خاطر رہے کہ ایک طرف بیگم کلثوم جان لیوا بیماری سے نبرد آزما تھیں اور میاں نواز شریف اور مریم بی بی خندہ پیشانی اور صبر سے پیشیاں بھگت رہے تھے، بیگم کلثوم کے لئے پریشان تھے…… اور دوسر ی طرف ایک طوفانِ بد تمیزی برپا تھا۔چند عاقبت نا اندیش زہرناک، انسان نما، بیماری کا مذاق اڑا رہے تھے، منہ سے نقرتوں کی آگ نکالنے کے مظاہرے کر رہے تھے۔ بیگم کلثوم کو یاد کرتے ہوئے ہمیں ان حالات کو نہیں بھولنا چائیے کہ جن میں ان کی وفات ہوئی، جن کی تلخی میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو برداشت کرنا پڑی…… کہ تاریخ رقم کرنے والوں کی نظر اور تاریخ کے اوراق میں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیاوہ شان سلامت رہتی ہے! آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے دفاع کی جنگ میں تمام کشتیاں جلا کر، وینٹی لیٹر پر پڑی 47 سالہ محبت کو اللہ کے آسرے چھوڑ ر کر، نظریے اور اصول پر قربان ہونے کو…… ایک جنگجو شا ہسوار کے سے عزم، ایک پُرشکوہ فاتح کے سے اعتماد کے ساتھ، پہاڑ جیسے غم کو ایک صوفی کے سے صبر سے ڈھانپے …… اپنی لاڈلی بیٹی کا ہاتھ تھامے، وطن کی مٹی سے خود کے حق پر ہونے کی گواہی لینے…… جمہور کش ستم گروں کے تیروں کے مقابل اپنا جگر آزمانے…… ایک قلندر کی سی عجب شانِ بے نیازی سے وطن لوٹ آنا۔

دنیا کی تاریخ میں یہ نظارہ سیاست اور قیادت کے تناظر میں انتہائی متاثرکن تھا…… اور رہے گا! ماسوائے ان کے جو اس واسطے قابلِ رحم ہیں کہ بغض، حسد، کینہ اور نفرت کی پٹی بندی آنکھوں سے زیادہ جن کے دل اندھے ہیں! کیا اس قربانی کا ادراک خاصہ مشکل ہے کہ سخت ترین آزمائش کی گھڑی میں …… دو راہے پر کھڑے…… میاں نواز شریف نے اپنی 47 سالہ رفاقت اور شہزادیوں کے سے نازوں سے پلی اپنی لاڈلی بیٹی کی محبت، ناز، آسائش، حتیٰ کہ آزادی پر، اپنی قوم کو ترجیح دی! اور…… آخری وقت میں باؤ جی کی کلثوم کا ہاتھ تھام کر، سفرِ آخر پر رخصت نہ کر سکنے کی چبھتی کسک، قلق اور روح فرسا پچھتاوا اپنے اور اپنی بیٹی کے دِل و دماغ کا مستقل مکین بنا لیا…… یہ قوم، اگر سمجھ سکے، تو میاں نواز شریف کی مقروض رہے گی…… قرض اور بھی ہیں ہم پر…… مادرِ ملت کا بھی…… لیکن مادرِ جمہوریت کا قرض بہت سی صورتوں میں لوٹایا جا سکتا…… اورجلد لوٹایاجاسکتا۔ ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔

محترمہ کلثوم نواز ایک عبادت گزار، دریادل، ملنسار، منکسرالمزاج، سخاوت سے راہِ خدا میں خرچ کرنے والی، توکل والی، نڈر خاتون تھیں …… بخوبی محسوس کیا جا سکتا کہ وہ اپنی خوبیاں، اپنا فیض، اپنی لاڈلی بیٹی کو ودیعت کر گئی ہیں۔ محترمہ کلثوم نواز کے حوالے سے چند قابلِ ذکر باتیں ایسی بھی ہیں جو عمومی طور پر پوشیدہ رہی ہیں یا غالباًاب تک ہیں ……مثلاً…… آپ کے والد کا حافظِ قرآن ہونا اور اپنے کلینک میں ضرورتمندوں، خصوصاً بیواؤں کا مفت علاج کرنا، محترمہ کلثوم نواز کا شادی سے قبل اپنے والدین کے گھر میں محلے کی بچیوں کو قرآن پڑھانا، مشکل کی گھڑیوں میں لوگوں کی غمگساری اوران کو اپنائیت کا احساس دلانا…… اور ایک قابل ِ ذکر بات یہ کہ میاں نواز شریف کے میدانِ سیاست میں آنے سے قبل بیگم کلثوم کے تین مرتبہ ایک ہی خواب دیکھ کر اپنے ایک استاد سے پوچھنے پر ان کی پیشگوئی کہ ان کا گھرانہ سیاست میں قدم رکھے گا اور کوئی بڑا کارنامہ انجام دے گا جو ان کو عالمِ اسلام میں ممتاز کرے…… اور ایک اور بات…… سب باتوں کی ایک بات…… ان کے والد کا ان مریضوں سے فیس نہ لینا کہ ”محمد،، کا مبارک لفظ جن کے نام کاحصہ ہوتا…… حق کی گواہی مادرِ جمہوریت کے عالی شان جنازے میں عوام کے جمِ غفیر نے بخوبی دے دی تھی۔فیصلے تاریخ لکھتی…… اور تاریخ کے فیصلے عوامی شعور کی روشنائی سے تحریر پاتے۔ محسوس ہوتا کہ کلثوم، ان کے باؤ جی اور گڑیا کے متعلق تاریخ فیصلہ تحریر کرنے میں زیادہ دیر نہیں کرے گی۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالی بیگم کلثوم صاحبہ کے درجات بلند تر کرے۔ آمین!

مزید : رائے /کالم


loading...