ڈاکٹر طاہر القادری،کیا واقعی سیاست دان تھے؟

ڈاکٹر طاہر القادری،کیا واقعی سیاست دان تھے؟
ڈاکٹر طاہر القادری،کیا واقعی سیاست دان تھے؟

  


خیر سے ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا ہے، مجھے تو آج تک اس سوال کا جواب بھی نہیں مل سکا کہ وہ کبھی سیاست دان تھے بھی سہی۔ وہ پارٹ ٹائم سیاست کرتے رہے اور آج یہ ثابت ہو گیا کہ سیاست پارٹ ٹائم مصروفیت نہیں یہ تو فل ٹائم جاب ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری تو سیاست کے لئے دوہری شہریت نہیں چھوڑ سکتے، پھر اُن کا 90فیصد وقت بیرون ملک گزرتا تھا، جہاں وہ ایک شاہانہ لائف سٹائل کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں،سیاست میں تو بہت خجّل ہونا پڑتا ہے،اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کی تلخ ترش باتیں بھی سننی پڑتی ہیں،مگر انہوں نے تو خود کو ایک شہنشاہِ معظم کے رتبے پر فائز کر رکھا ہے،جہاں نظر بھی اٹھانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پھر اُن کی شروع دن سے یہ خواہش رہی کہ انہیں ملک بھر کے سیاست دان امامِ سیاست مانیں، وہ جس اتحاد میں شامل ہوئے اُس کی سربراہی مانگ لی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انہوں نے شریف برادرن کے خلاف جو اے پی سی بلائی اُس میں بھی اپنی چودھراہٹ قائم رکھی۔ وہ عمران خان کے ساتھ اسلام آباد دھرنے میں گئے تو اُن کی خواہش رہی کہ عمران خان اُن کے مقلد کا کردار ادا کریں، مگر عمران خان قابو نہ آئے تو دھرنا ادھورا چھوڑ کر واپس آ گئے۔ سو یہ سب باتیں انہیں بطور سیاست دان اَن فٹ ثابت کرتی ہیں،وہ جماعت اسلامی سے بڑی اور منظم جماعت کے سربراہ نہیں، جماعت اسلامی آج تک سیاست میں سہاروں کے بغیر ایک نشست حاصل نہیں کر سکتی تو ڈاکٹر طاہر القادری میں ایسی کیا کرشمہ سازی تھی کہ وہ انتخابی سیاست میں سوائے اپنی ایک سیٹ کے کچھ اور حاصل کر سکتے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا دوسرا سب سے بڑا مخمصہ یہ تھا کہ وہ کسی نامعلوم انقلاب کے ذریعے اقتدار میں آنا چاہتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ ووٹ کے موجودہ طریقہ کار کے ذریعے ملک میں اگلے دو سو سال تک کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، اس کے لئے انقلاب کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا،انقلاب اُن کے نزدیک یہ تھا کہ عوام اُن کی کال پر باہر نکل آئیں اور سب کچھ تہس نہس کر دیں۔ اپنے عقیدت مندوں کو کال دے کر منہاج القرآن بُلا لینا بہت آسان ہے،لیکن یہاں معاملہ تو بائیس کروڑ عوام کا ہے، جب تک وہ نہ چاہیں کون سا انقلاب آ سکتا ہے۔ وہ اپنی تحریک کو جمہوری تحریک نہ بنا سکے۔ وہ قائد انقلاب کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں بہ نسبت قائد جمہوریت کے، جمہوریت کے نام پر وہ چڑ جاتے ہیں اور اسے ایک فراڈ نظام قرار دیتے ہیں،پاکستان میں وہ شخص سیاست کیسے کر سکتا ہے، جو جمہوریت کو ہی نہ مانتا ہو،جو ووٹ کی طاقت پر ہی اعتبار نہ رکھتا ہو۔ مجھے حیرت ہے کہ انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔

کون سی سیاست؟انہوں نے تو کبھی سیاست کی ہی نہیں، بلکہ سیاست اور جمہوریت کو فراڈ، دھوکہ اور ا ستحصالی قوتوں کا آلہ ئ کار کہتے رہے۔سیاست تو اُنہیں اُس وقت بھی راس نہیں آئی تھی جب انہوں نے دوسری جماعتوں کی حمایت سے ایم این اے کی سیٹ جیتی تھی، چند روز بعد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ سیاست یا اسمبلی میں روحانی قائد والا احترام نہیں ملتا،بلکہ وہاں تو اکثر گریبان چاک کرانے کی نوبت آ جاتی ہے، سو وہ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو گئے۔ ان کا خیال تھا جس طرح انہیں ایک سیاسی اتحاد کی سربراہی نوابزادہ نصراللہ خاں اور بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں سونپ دی گئی تھی،اسی طرح اسمبلی میں انہیں قائد ایوان بنا کر وزیراعظم چن لیا جائے گا۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ،جب انہیں صرف ایک سیٹ بیٹھنے کو ملی اور خطاب بھی سپیکر کی اجازت سے کرنے کا موقع فراہم ہونے لگا تو انہوں نے یہی بہتر جانا کہ اس دنیائے رسوائی سے نکل جائیں۔

سیاست کو لوگ آسان سمجھتے ہیں، مگر در حقیقت یہ کانٹوں کا سفر ہے۔اس میں کاندھوں پر اٹھانے والے عوام ناراض ہو جائیں تو پٹخ بھی دیتے ہیں اور طیش میں ہوں تو گندے انڈے اور ٹماٹر بھی مارتے ہیں۔ اس میں بھٹو جیسے وڈیرے کو بھی عوام کے ساتھ زمین پر بیٹھنا پڑتا ہے اور کھرب پتی نواز شریف بھی غریبوں کے گھروں میں جا کر ان سے اظہارِ یکجہتی کرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا تو یہ مزاج ہی نہیں وہ علامہ کے درجے پر فائز ہیں اور انہیں ہر وقت یہ خیال رہتا ہے کہ ان کا جبّہ و دستار میلا نہ ہونے پائے۔ان کے عقیدت مندوں کو ہرگز یہ سہولت حاصل نہیں کہ وہ قبلہ کی کسی بات سے اختلاف کر سکیں،انہیں تو بس مرشد کا حکم ماننے کی عادت ڈالی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے اس وقت کسی نے نہیں پوچھا تھا جب وہ اچانک دھرنا ختم کر کے لاہور واپسی کا حکم دے رہے تھے۔ کسی کو یہ جرأت ہی نہ تھی کہ پوچھتا آقا بغیر کوئی مقصد حاصل کئے یہ واپسی کیا معنی رکھتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو کیا جواب دیں گے کہ چند روز اسلام آباد میں بیٹھ کر واپس چلے آئے۔ انہیں تو بس حکم بجا لانا تھا، سو وہ بے چون و چرا واپس آ گئے۔ جمہوریت میں تو ایسا نہیں ہوتا، سوال بھی اُٹھتے ہیں اور جواب بھی مانگے جاتے ہیں۔

پھر جمہوریت میں ون مین شو نہیں ہوتا، پارٹی کی مجلس عاملہ بیٹھتی ہے، فیصلہ کرتی ہے اور اس کے تمام تر پہلوؤں کو کارکنوں کے سامنے لاتی ہے۔ جمہوریت اور سیاست میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاست دان جمہوریت کے بغیر سیاست دان نہیں کہلاتا اور جمہوریت سیاست کے بغیر زندہ نہیں رہتی۔ڈاکٹر طاہر القادری تو جمہوریت کو سخت ناپسند کرتے تھے، پھر وہ سیاست دان کیسے ہوئے۔ وہ تو ایک طرح کی ملوکیت کا پرچار کرتے تھے۔ انقلاب قریب ہے، ان کا تکیہ کلام ہوتا تھا۔ ہم جیسے کوتاہ نظریہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو جاتے تھے کہ ڈاکٹر طاہر القادری آخر کس طرح انقلاب لائیں گے۔ ایسے انقلاب کے داعی بن کر تو خادم حسین رضوی بھی آئے تھے۔ وہ بھی سیاست پر تین حرف بھیجتے تھے اور اپنے گرد اکٹھے ہونے والوں کو انقلاب کے ظہور کی اُلٹی سیدھی خوشنما داستانیں سنا کر محظوظ کرتے تھے۔ آج ان اور ان کے انقلاب کا کچھ پتہ نہیں کہ کہاں رہ گیا ہے۔

مَیں نے گزشتہ35برسوں میں ایک بار بھی اُن کی خبر میں یہ لکھا نہیں دیکھا کہ ”معروف سیاست دان ڈاکٹر طاہر القادری“انہیں ہمیشہ معروف عالم دین اور تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ہی پڑھا، گویا سیاست تو اُن کے نام کا کبھی حصہ ہی نہیں رہی،مگر اب انہوں نے اچانک اسے چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنایا ہوتا تو اس میں ترقی ضرور کرتے،آگے ضرور بڑھتے،مگر وہ تو ایک سیٹ سے آگے نہ بڑھ سکے،عمران خان کی مثال سامنے ہے، انہوں نے 22سال سیاسی جدوجہد کی، پہلے الیکشن میں انہیں بھی صرف ایک ہی سیٹ ملی،مگر وہ دِل برداشتہ نہیں ہوئے،نہ ہی انہوں نے سیاست کو خیر باد کہا، وہ اس میدان میں ڈٹے رہے،انہوں نے یہ بھی کبھی نہیں کہا کہ ووٹ کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔انہوں نے اسی طرزِ سیاست میں اپنے لئے جگہ بنائی، راہ نکالی۔انہوں نے جمہوریت کو کبھی بُرا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی ووٹ کے ذریعے تبدیلی آنے کے نظریے کی نفی کی،اپنی جدوجہد سے، وہ بھی سیاسی انداز کی جدوجہد،وہ ملک میں ایک تیسری بڑی سیاسی جماعت بنانے میں کامیاب رہے۔ملک کے وزیراعظم بن گئے، جو کسی بھی سیاست دان کا خواب ہوتا ہے۔

ہاں آج اگر عمران خان سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں تو یہ ایک بہت بڑی بریکنگ نیوز ہو گی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست کو خیر باد کہا ہے تو کوئی ہلچل نہیں مچی، غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں، کے مصداق اُن کے بغیر پہلے کون سی سیاست رکی ہوئی تھی،جو اب جانے سے بالکل تباہ حال ہو جائے گی۔اب اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ پاکستان میں سیاست ایک فل ٹائم جاب ہے، کوئی مذہبی جماعت چلا رہا ہے اور ساتھ ہی اس نے نظریہئ ضرورت کے تحت سیاست کی پخ بھی لگائی ہوئی ہے تو وہ چھوٹے موٹے مفادات تو حاصل کر سکتا ہے،سیاست میں کوئی بڑی جگہ نہیں بنا سکتا۔ ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری اس کی تازہ ترین مثال ہیں،حالانکہ انہیں بہت سے ایسے مواقع ملے، جب وہ ایک مقبول سیاست دان کے طور پر اپنا سکہ جما سکتے تھے،لیکن انہوں نے سیاسی جدوجہد کا طویل راستہ اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ انقلاب کے شارٹ کٹ پر نظر رکھی اور بطور سیاسی قائد اپنا تشخص نہ بنا سکے اور آج وہ خود اس میدان سے باہر نکل گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...