پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت

پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت
پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت

  


جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے معاشرے میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے تو دوسری جانب نوجوان نسل بگڑتی چلی جارہی ہے۔ اس خرابی اور بگاڑ کے ذمہ دار میڈیا سمیت میں اورآپ بھی ہیں۔ ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرئیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے ہم خود کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ دوسروں کے حق میں ہم بہترین جج اور اپنے حق میں ہم بہترین وکیل ہیں۔ دوسروں پر ہم جھٹ سے تشدد میں ملوث ہونے،کفر، شرپسند یا فسادی ہونے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں، دلائل پیش کرکے اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے واحد کام جو ہم کرتے ہیں وہ دوسروں کو نصیحت ہے۔ ہم ہر اچھے کام کی دوسروں کو نصیحت کرکے سمجھتے ہیں ہمارا فرض پورا ہوگیا۔ اسی نصیحت پر خود عمل پیرا ہونا بھول جاتے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر شخص صرف اپنی ذات کو بہتر بنانے میں لگ جائے تو ہمارا سارا معاشرہ بہتر ہوجائے گا۔ وہ ہی پولیس جو معاشرے میں امن قائم کرتی ہے۔ چند ایک واقعات کے بعد سخت تنقید کے نشانے پر ہے اور آئی جی پولیس پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے ان واقعات کا تدارک کرنے کے لیے فوری طور پر نہ صرف لا ہور اور ساہیوال میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے تھانوں میں تشدد سمیت کسی بھی غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو نے پر ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز اور مقامی ڈی پی اوز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت سزائیں دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ایمانداری، نیک نیتی اور فرض شناسی ہی ہماری پہچان ہے اس لئے لاپروائی، غفلت اور اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا یہ پیغام وائرلس پر بھی پنجاب بھر میں جاری ہوا ہے۔ آئی جی پولیس جہاں انھیں محکمے کے سربراہ کے اختیارات سے نوازا گیا ہے وہاں اس فورس کے اہلکاروں کے بھی ان پر حقوق ہیں وہ ان کے لیے ایک باپ کا درجہ بھی ضرور رکھتے ہیں۔بیشتر واقعات میں اہلکار خود کو عدم تحفط کا شکار محسوس کرتے ہیں جس سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ روزانہ درجنوں ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جو لا قانو نیت کی تصویر پیش کر رہے ہوتے ہیں اگر کو ئی اہلکار انھیں اپنی محب الوطنی کا احساس دلانے اور قانون کا پابند بنانے کی کوشش کر تا ہے تواکثر اوقات اسے اپنے افسران بالا کی طرف سے سخت مزاحمت جو معطلی کی بھی ہو سکتی ہے دیکھنے کو ملتی ہے جس سے فورس میں نہ صرف بد دلی اورمایوسی جنم لیتی ہے بلکہ وہ خود کو بھی قانون سے مبرا تصور کر نے لگتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ جو معزز بن کرپولیس کو گاڑی چیک کروانا اپنی توہین سمجھتا ہے وہ ہی حساس ادارے کے اہلکاروں کو لا ئین میں لگ کر اپنی گاڑی کے ساتھ زاتی شناخت کے لیے اپنا قومی کا رڈ بھی پیش کررہا ہو تا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے ایک فوجی کے پیچھے پورا ادارہ کھڑا ہے یہاں ایک اہلکار تو دور کی بات پورے ضلع کے سربراہ ڈی پی او کو بھی یقین نہیں آتا کہ مشکل وقت میں ادارہ اس کا ساتھ دے گا۔ جس کے لیے اہلکاروں اور افسران کی رسوائی کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ بااثر افراد پر ہاتھ ڈالنے والے ہم نے ڈی پی او، سی پی اواور آر پی او کو بھی تبدیل ہو تے دیکھا ہے چھوٹے اہلکار تو کس باغ کی مولی ہیں۔وز یر اعظم پاکستان کو بھی چاہیے کہ اگر وہ واقعی پنجاب پولیس میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اصلاحات اور سو فیصد نتائج چاہتے ہیں تو انھیں آئی جی پولیس کو نہ صرف بااختیار بنانا ہو گا۔ آئی جی پولیس کو یہ یقین دھانی بھی کروانا ہو گی کہ ان کے کام میں کو ئی کسی قسم کی مداخلت نہیں کر ے گا پھر اہلکاروں کو بھی حق الیقین ہو گا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔محکمہ پولیس میں ایسے متعدد اعلیٰ پولیس افسران گزرے ہیں اور یقینی طور پر اب بھی موجود ہیں جنھیں عوام کی نظروں میں عزت و احترام حاصل تھا اہلکار اور لوگ ان سے دور نہیں بھاگتے تھے بلکہ ان کے قریب جاتے تھے اور ایسے پولیس افسروں اور عوام کے درمیان اچھے تعلقات تھے اور ایسے افسروں کو جن میں متعدد باعزت طور پر ریٹائر یا تبدیل ہوگئے انھیں اب بھی عزت واحترام سے یاد کیا جاتا ہے۔موجودہ آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز بھی ایسے افسروں میں ایک مثال ہیں جن سے ان کے افسران کے ساتھ ساتھ ماتحت اہلکار بھی پیار کرتے ہیں جب سے مخصوص افراد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ان کی تبدیلی کے حوالے سے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ایسے افراد کو پولیس فورس اور عوام کی طرف سے اس پروپیگنڈہ کیخلاف مسلسل مزاحمت کا سامنا ہے روزانہ سیکٹروں پوسٹیں سوشل میڈیا پرآئی جی پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کے حق میں ڈالی جا رہی ہیں۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آئی جی پولیس تبدیل ہو جائیں گے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اہلکار اور عوام ان سے دل سے پیار کرتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی آئی جی پو لیس پنجاب پر بھر پور اعتماد حاصل ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آئی جی تو کیا پنجاب میں کو ئی افسر بھی ان کی مرضی کے بغیر تبدیل نہیں ہو گا۔پولیس اور میڈیا کا مقصد معاشرہ میں امن وامان قائم کرنا اور جرائم کا تدارک کرنا ہے، صحا فیو ں کا پر امن معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ہے نہ کہ سنسنی پھیلا نا،کیونکہ پولیس اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے جہاں میڈیا کے تعاون کے بغیر جرائم پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں وہاں تمام میڈیا نمائندگان کو بھی چاہیے کہ جرم کے سرزد ہونے پر یا معاشرہ میں سماجی برائیوں کی روک تھام کیلئے مقامی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...