سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے، طبی تحقیق

سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے، طبی تحقیق

برسلز (آئی این پی) سافٹ ڈرنکس کا استعمال گھروں، دفاتر، ہوٹلز، شادیوں، پکنک و دیگر تقریبات سمیت ہر جگہ عام ہے لیکن کینسر کے مرض پر تحقیق کرنے والے یورپ کے ایک ادارے نے ان مشروبات کے استعمال کو خطرناک قرار دیا ہے۔یورپی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے کہا ہے کہ سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ادارے نے سافٹ ڈرنکس سے ہونے والی اموات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ تحقیق کی ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ شوگر کوٹِڈ غذائی اشیاء، مصنوعی میٹھا اور سافٹ ڈرنکس انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ایجنسی کے مطابق ان سب سے جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے لیے 45 لاکھ سے زائد افراد سے انٹرویوز کیے گئے جبکہ ان انٹرویوز کی بنیاد پر اعداد و شمار جمع کیے گئے۔انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی یہ تحقیق 16 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی شوگر کوٹِڈ چاکلیٹ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق انسانی صحت کے لیے یہ انتہائی مضر ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق مصنوعی میٹھا چینی کے میٹھے سے زیادہ تیز اور نقصان دہ ہوتا ہے جبکہ یہ خاص طور پر سافٹ ڈرنکس میں استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے

مزید : عالمی منظر


loading...