ایران اور روس نے مالی لین دین کیلئے سوئفٹ کا متبادل نظام قائم کر لیا

ایران اور روس نے مالی لین دین کیلئے سوئفٹ کا متبادل نظام قائم کر لیا

ماسکو (اے پی پی) ایران اور روس نے مالی لین دین کے لئے سوئفٹ کا متبادل سسٹم قائم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے معاون خصوصی یوری اوشاکوف نے بتایا ہے کہ روس اور ایران نے یہ مشترکہ قدم کسی بھی تیسرے ملک کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے مقابلے میں باہمی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو محفوظ رکھنے کی غرض سے اٹھایا ہے۔سوئفٹ دنیا میں مالیاتی ادائیگیوں کی معلومات کے تبادلے کا سب سے بڑا نظام ہے جس میں ڈالر سے وابستہ دنیا کے دوسو ملکوں کے11 ہزار بینک اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے روس کے خلاف پابندیوں کے دائرے میں سوئفٹ سسٹم تک اس کی رسائی ممنوع کردی ہے جبکہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں نے ایرانی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے سوئفٹ سسٹم سے استفادہ کے راہ میں لاتعداد مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں۔سوئفٹ کے اس طرح کے اقدامات کے بعد ایرانی اور روسی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ باہمی لین دین کے تصفیے کے لیے سوئفٹ پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور اس کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا ہوں گے۔روس نے 2017کے اواخر میں امریکی پابندیوں کے مقابلہ کی غرض سے سوئفٹ جیسے مالیاتی نظام کے قیام کا عندیہ ظاہر کیا تھا جسے ایس پی ایف کا نام دیا ہے۔ایس پی ایف نے2018 میں کام کا آغاز کیا تھا،اب تک روس کی416 بڑی کمپنیوں نے ایس پی ایف میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ ایران نے بھی کچھ عرصہ قبل مذکورہ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کے لیے بینکاری رابطوں کا آغاز کیا تھا

مزید : عالمی منظر


loading...