کوٹ سادات پر دہشتگردوں کی چڑھائی، بڑے قتل عام کا خدشہ، بھتے کی پرچیاں تقسیم ، پولیس خاموش تماشائی

کوٹ سادات پر دہشتگردوں کی چڑھائی، بڑے قتل عام کا خدشہ، بھتے کی پرچیاں تقسیم ، ...
کوٹ سادات پر دہشتگردوں کی چڑھائی، بڑے قتل عام کا خدشہ، بھتے کی پرچیاں تقسیم ، پولیس خاموش تماشائی

  


کوٹ سادات (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے نواحی گاﺅں کوٹ سادات میں دہشتگردوں نے شہریوں کا جینا حرام کردیا، 22 اگست کے بعد سے وقفے وقفے سے گاﺅں میں وارداتیں سرانجام دینے لگے ، گزشتہ ایک ہفتے سے دہشتگردوں کی آمد بلاناغہ شروع ہوگئی ہے، رات کو جو بھی گھر سے باہر نکلتا ہے اس پر سیدھی فائرنگ کردی جاتی ہے، دہشتگردوں کی مسلسل آمد کے باعث اہل علاقہ خوف کا شکار ہیں، اس خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب دہشتگردوں کی جانب سے رات گئے ان گھروں کے باہر بھتے کی پرچیاں چسپاں کردی گئیں جو ان کے اگلے ٹارگٹ ہیں۔ پورے گاﺅں کی آبادی بھرپور خوف کا شکار ہے لیکن ایسے میں پنجاب پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ خیال رہے کہ کوٹ سادات اسی تھانہ لڈن کی حدود میں واقع ہے جہاں گزشتہ دنوں ظہوراں بی بی تشدد کیس سامنے آیا تھا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق دہشتگردوں نے 22 اگست سے کوٹ سادات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ابتدا میں تو یہ لوگ ڈاکو لگتے تھے لیکن جس تسلسل کے ساتھ وارداتیں سر انجام دی جارہی ہیں اور جس طرح کا آتشیں اسلحہ استعمال ہورہا ہے اس کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ کسی قسم کا دہشتگرد گروہ ہے۔

دہشتگردوں کے اس گروہ کی جانب سے کوٹ سادات میں پہلی واردات 22 اگست کو فجر کی نماز سے پہلے اس وقت انجام دی گئی تھی جب ایک مرغیوں کا بیوپاری بورے والا مال لینے جارہا تھا۔ انہوں نے طلوع آفتاب سے پہلے ہی منڈی جانے والے مختلف لوگوں سے دو سے ڈھائی لاکھ روپے کی ڈکیتی کی تھی۔

اسی گروہ نے 30 اگست کو ایک بار پھر کارروائی کرتے ہوئے اجناس کے ایک بیوپاری کے گھر پر ڈاکہ مارا اور 20 سے 22 لاکھ روپے لے اڑے۔ مسلسل ہونے والی وارداتوں کے باعث علاقہ مکینوں نے احتجاج بھی کیا اور مقدمات بھی درج کرائے گئے لیکن تھانہ لڈن پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے سلسلے میں کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔

اگست کے مہینے تک تو علاقہ مکین اس گروہ کو ڈاکو ہی سمجھتے رہے لیکن گزشتہ ایک ہفتے کی کارروائیوں کے دوران لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ یہ ڈاکوﺅں کا کوئی عام گروہ نہیں ہے بلکہ باضابطہ ٹرینڈ دہشتگرد ہیں کیونکہ ان کے پاس جو اسلحہ ہوتا ہے اس کے بارے میں عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دہشتگرد روزانہ کی بنیاد پر گاﺅں آتے ہیں اور فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلاتے اور اگلے دن واپس آنے کا چیلنج دے کر جاتے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ دہشتگرد کسی بھی جاندار کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردیتے ہیں، شور کے باعث جب گاﺅں والے گھروں سے باہر آتے ہیں تو انہیں دھمکیاں دیتے اور اگلے دن واپس آنے کا کہہ کر چلے جاتے ہیں۔

دہشتگردی کی ان وارداتوں کے حوالے سے متعلقہ تھانہ لڈن کو ہر بار اطلاع کی جاتی ہے لیکن ایک بار بھی یہاں کی پولیس موقع پر نہیں پہنچ پائی۔ 15 پر کال کے باوجود پولیس نہیں آتی ، 7 روز کے واقعات کے دوران ایمرجنسی سروس کے ذریعے پولیس صرف ایک بار ہی 2 سے ڈھائی گھنٹے کی تاخیر کے بعد پہنچی تھی لیکن کوئی بھی ٹھوس کارروائی کیے بغیر واپس چلی گئی۔

دہشتگردوں نے شروع میں اکا دکا لوگوں کو ٹارگٹ کیا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کے باعث ان کی دیدہ دلیری میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے اب ایک ساتھ متعدد لوگوں کو بھتے کی پرچیاں دے دی ہیں۔ انہوں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ’اوپن چیلنج‘ کے عنوان سے ان تمام گھروں کے دروازوں پر بھتے کی پرچیاں چسپاں کیں جن کو انہوں نے بطور ٹارگٹ چنا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی ذہن میں آسکتا ہے کہ یہ اشتہار کسی کی شرارت ہوسکتی ہے لیکن یہ امکان اس لیے بھی رد ہوجاتا ہے کیونکہ اشتہار پنجابی زبان میں ہاتھ کے ساتھ لکھا گیا ہے جبکہ کوٹ سادات میں کوئی بھی پنجابی زبان بولنے والا گھرانہ نہیں ہے بلکہ یہاں کے لوگ ہریانوی یا رانگڑی زبان بولتے ہیں، اس لیے ان کیلئے ممکن نہیں ہے کہ اتنی خالص پنجابی میں اشتہار لکھ سکیں۔

دہشتگردوں کی جانب سے پنجابی زبان میں لکھے گئے اشتہار میں کہاگیا ہے کہ ’ہماری آپ لوگوں کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ ہماری ضرورت صرف کیش ہے،ہم یہ تحریر تم لوگوں کو یہ بتانے کیلئے لکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے ساتھ 2 بار ٹکر لے چکے ہو لیکن ہم نے تمہیں جان سے نہیں مارا لیکن اگلی بار جو بھی بندہ ، عورت یا بچہ ہمارے سامنے آئے گا اسے ہم زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ہم غریب لوگوں کو کچھ نہیں کہتے اس لیے ان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ کوئی بھی نہ آئے ، ہماری دشمنی امیر لوگوں کے ساتھ ہے لہٰذا امیر لوگوں کو بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ اپنے سرمائے میں سے آدھا حصہ خود ہی ہمیں دے دو ورنہ سرمائے کے ساتھ تمہاری جان بھی جاسکتی ہے۔ہم تمہارے گاﺅں میں روزانہ آتے رہیں گے اس لیے فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے ، جان بچاﺅ یا پھر مال بچاﺅ ۔‘

دہشتگردوں کی جانب سے بھتے کی پرچی میں ’ ہمارا اگلا چیلنج ‘ کے عنوان سے ان تمام لوگوں کے نام دیے گئے ہیں جن کے گھروں میں انہوں نے اگلے چند روز میں ڈاکے مارنے ہیں۔ اس فہرست میں زمیندار، دکاندار اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

کوٹ سادات کے ایک سماجی کارکن منصور شاہ نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہر روز 5 سے 7 لوگوں پر مبنی گروہ گاﺅں میں آتا اور لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہے۔ ان کے پاس اتنی زیادہ تعداد میں اسلحہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے پورے گاﺅں کے لوگوں کا قتل عام کردیں تو بھی ان کا اسلحہ ختم نہ ہو۔ ’ گاﺅں میں پہرہ بھی لگا ہوا ہے ، پہرے دار غیر مسلح ہوتے ہیں اور مشکوک لوگوں کی آمد پر شور مچا کر باقی لوگوں کو جگانے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے ، لیکن پہرے دار جب بھی اس گروہ کو دیکھ کر لائٹ مارنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو ان پر فائرنگ کردی جاتی ہے ، میرے خیال میں گاﺅں کے 3 سے 4 لوگ ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پورے گاﺅں کے ہر گھر کی پوری خبرہے۔‘

مقامی رہائشی آفتاب شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگوں کی زندگی داﺅ پر لگی ہوئی ہے لیکن پولیس زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہی، دہشتگردوں نے آج رات کو(پیر اور منگل کی درمیانی شب) دوبارہ آنے کا اعلان کیا تھا اور وہ واپس ضرور آئیں گے ، ایسے میں لازم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لوگوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

رانا کاشف رسول نامی ایک شہری نے کہا کہ تھانے سے گاﺅں کا فاصلہ زیادہ ہونے کے باعث پولیس واردات کے بعد کافی تاخیر سے پہنچتی ہے اس لیے مستقل طور پر ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کی ایک موبائل کی گاﺅں میں ڈیوٹی لگائی جائے کیونکہ دہشتگردوں کے پاس موجود جدید اسلحے کے باعث پنجاب پولیس کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کا مقابلہ کرسکے۔

اہل علاقہ نے ڈی پی او وہاڑی ، ڈی سی وہاڑی، آر پی او ملتان، کمشنر ملتان ، چیف سیکرٹری ، وزیر اعلیٰ پنجاب، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ گاﺅں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں ورنہ ایک اور سانحہ اے پی ایس رونما ہوسکتا ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /وہاڑی


loading...