عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے اپنی برطرفی کے بعد حامد میر کو فون کر کے ایسا سوال پوچھ لیا کہ آپ کی بھی ہنسی چھوٹ جائے گی

عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے اپنی برطرفی کے بعد حامد میر کو فون کر ...
عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے اپنی برطرفی کے بعد حامد میر کو فون کر کے ایسا سوال پوچھ لیا کہ آپ کی بھی ہنسی چھوٹ جائے گی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری برطرف ہوئے تو انہوں نے اینکر پرسن حامد میر کو فون کر کے اپنی برطرفی کی وجہ پوچھی ۔اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر اور عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری کی کال آ ئی اور انہوں نے پوچھا ”مجھے کیوں نکالا؟“ وہ بیچارا اپنی برطرفی سے بالکل بے خبر تھا۔ اسے ایک ٹی وی چینل پر بریکنگ نیوز سے پتا چلا کہ وہ برطرف ہو چکا ہے حالانکہ کچھ دن پہلے عون چوہدری کی وزیراعظم عمران خان سے بڑے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے اکٹھے کھانا بھی کھایا۔ عون چوہدری کا فون بند ہوا تو میں نے دونوں وزیر صاحبان کو بتایا کہ عون بھی فارغ کر دیا گیا۔ دونوں حیرانی سے ایک دوسرے کو تکنے لگے۔

پھر ایک وزیر نے کہا ڈاکٹر شہباز گل بہت زیادہ بولتا تھا لیکن عون چوہدری تو کچھ بھی نہیں بولتا تھا، اس کا مطلب ہے وزیراعظم کو نہ تو زیادہ بولنے والے پسند ہیں اور نہ چپ رہنے والے پسند ہیں، ہمارا وزیراعظم میانہ روی کا قائل ہے۔ دوسرے وزیر نے ذرا غصے سے اپنے ساتھی کو کہا کہ شرم کر تو کیمرے کے سامنے تو نہیں بیٹھا ہوا، آف دی ریکارڈ گفتگو کر رہا ہے اور اس گفتگو میں بھی خوشامد کر رہا ہے۔ اگر وزیراعظم نے عون چوہدری کی عزت کا خیال نہیں کیا تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟ پہلے وزیر نے ساتھی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ آہستہ بول یار! دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور یہ دیواریں تو جیو ٹی وی کی ہیں، ان دیواروں میں نجانے کس کس نے اپنے کان لگا رکھے ہیں اور پھر ا±س نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آﺅ گھر چل کر بات کرتے ہیں۔

مزید : قومی


loading...