اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کے اصرار کے باوجود پاکستان نے بھارت سے ’ بیک چینل مذاکرات‘ سے انکار کردیا

اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کے اصرار کے باوجود پاکستان نے بھارت سے ’ بیک ...
اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کے اصرار کے باوجود پاکستان نے بھارت سے ’ بیک چینل مذاکرات‘ سے انکار کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے مابین صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ۔ اس کشیدگی میں کمی لانے کیلئے بعض عالمی طاقتوں اور اسلامی ممالک نے پاکستان پر بھارت کے ساتھ ’ بیک چینل مذاکرات‘ کیلئے دباﺅ ڈالا لیکن پاکستان نے مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیا ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی طاقتوں اور اسلامی ممالک نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کا آغاز کرے ، وزیر اعظم عمران خان بھارتی ہم منصب کے بارے میں اپنا لہجہ نرم کریں اور انہیں ایڈولف ہٹلر قرار دینا بند کریں۔ عالمی طاقتوں اور اسلامی ممالک کی اس درخواست کو پاکستان نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوسکتے جب تک مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اور دیگر پابندیاں ہٹا کر اس کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کی جاتی۔

نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ اسی پیغام کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ دونوں وزرائے خارجہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے انتہائی خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جن میں انہوں نے کشیدگی کم کرانے کی پیشکش کی ۔ اس دورے کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں کمی تو آئی ہے جس کا اظہار صدر ٹرمپ نے بھی کیا ہے لیکن پاکستان نے مذاکرات سے یکسر انکار کردیا ہے۔

مزید : قومی


loading...