سخت سزاؤں کے لئے اپوزیشن کا مسودہ قانون

سخت سزاؤں کے لئے اپوزیشن کا مسودہ قانون

  

سینیٹ میں ایک مسودہئ قانون پیش کیا گیا،جس میں خواتین اور18سال سے کم عمر بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کے لئے کہا گیا ہے، جبکہ کم سے کم سزا کے طور پر تادمِ مرگ قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، بل میں کہا گیا ہے کہ ریپ کے کیسز میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے،ایسے معاملات میں تیز تر انصاف کے لئے ضابطہ ئ فوجداری اور تعزیراتِ پاکستان میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے،ایسے کیسز براہِ راست ہائی کورٹ میں زیر سماعت لائے جائیں اور فیصلہ تیس دن میں سنایا جائے،اپیل کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ پندرہ دن میں کر دے۔ یہ مسودہ قانون مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا ہے اور اسے فوجداری قوانین(ترمیمی) ایکٹ2020 کا نام دیا گیا ہے، بل کے محرک کا کہنا ہے کہ ریپ ایک سنگین جرم ہے، ایک ایسا پُرتشدد واقعہ ہے جو متاثرہ شخص کی زندگی کو برباد کر دیتا ہے، پاکستان میں ریپ کیسز ہوتے ہیں اور درج بھی کئے جاتے ہیں،لیکن سزا دینے کی شرح انتہائی کم ہے، حالیہ واقعات نے جن میں بالخصوص بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اس صورتِ حال کو جنم دیا ہے کہ اب مجرموں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک تازہ ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے اور آئندہ سے انہیں ایسے جرائم سے روکنے کے لئے نامرد کر دینے کے حامی ہیں تاکہ انہیں عبرت کا نشانہ بنایا جا سکے۔ مسلم لیگ(ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں قانون سازی کرے، مسلم لیگ(ق) اس کا پورا پورا ساتھ دے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پپو کیس کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے بڑے اچھے نتائج نکلے تھے اور طویل عرصے تک ایسے کوئی کیسز سامنے نہیں آئے تھے، پیر کے روز قومی اسمبلی میں اس مسئلے پر جو بحث ہوئی اس میں بھی حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے مجرموں کو  سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تاہم انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا  کہ سرعام پھانسی سے ایسے واقعات کم نہیں ہوتے، جو جنسی جرائم ہو رہے ہیں وہ اس صورت میں کم ہوں گے اگر پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھائی جائے اور مردوں کی ذہنیت کو تبدیل کیا جائے، وحشی ذہنیت ناقابل ِ قبول ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی جانب سے سینیٹ میں جو مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے اور جس کے ذریعے ایسی دفعات تعزیراتِ پاکستان اور فوجداری قوانین میں شامل کی گئی ہیں، جن میں خواتین سے بداخلاقی کی سزا سرعام پھانسی تجویز کی گئی ہے، موجودہ شکل میں منظور ہوتا ہے یا نہیں،یہ کہنا تو قبل از وقت ہے،لیکن وزیراعظم چونکہ خود نہ صرف برسر عام پھانسی کے حامی ہیں،بلکہ مجرموں کو نشانِ عبرت بنانے کے لئے انہیں جنسی صلاحیت ہی سے محروم کرنے کی تجویز بھی پیش کر چکے ہیں،اِس لئے انہیں تیزی سے ایسی قانون سازی کرنی چاہئے۔سینیٹر جاوید عباسی کے بل نے حکومت کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو فاسٹ ٹریک پر آگے بڑھائے، جو  بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے اس میں جو شقیں حکومت کے لئے قابل ِ قبول ہوں اُن پر تو آسانی سے اتفاق ہو سکتا ہے اور اگر حکومت ان میں مزید ترامیم یا ردّو بدل کی خواہش مند ہو تو اس پر بھی ایوان کے اندر یا قائمہ کمیٹی میں بحث ہو سکتی ہے،حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ وقت ضائع کرنے کی بجائے جو مسودہ پیش کیا گیا ہے اسی کو ہر سیاسی جماعت اور حکومت کے لئے قابل ِ قبول بنانے کے لئے یا اس کی قانونی زبان کی نوک پلک درست کرنے کی خاطر خصوصی کمیٹی بنا دی جائے،جس میں سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے ارکان شریک ہوں، تاہم جیسا کہ خود وزیراعظم نے کہا کہ ایسی قانون سازی پر یورپی یونین کو اعتراض ہو سکتا ہے،جس نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دے رکھا ہے اور یہ ہماری تجارت کے لئے اہم ہے تاہم اگر جنسی جرائم کو پوری طرح کنٹرول کرنا ہے اور معاشرے کو ایسے جنونیوں سے محفوظ رکھنا ہے تو قانون سازی ناگزیر ہے،یورپی یونین اگر کوئی اعتراض کرتی ہے تو اسے ان حالات سے آگاہ کر دیا جائے،جو پاکستان کو درپیش ہیں اور جن کی وجہ سے پورے ملک میں ہیجان کی کیفیت ہے،ملکوں میں قانون سازی اُن کی اپنی ضرورتوں کے مطابق کی جاتی ہے، عالی طاقتوں یا دوست ممالک کی رائے کو ایک حد سے زیادہ قابل ِ توجہ قرار نہیں دیا جا سکتا،دُنیا میں ایسے ملک موجود ہیں،جہاں بعض جرائم کی سزا کے طور پر مجرموں کی گردن اڑائی جاتی ہے اور عشروں سے اس پر عمل بھی ہو رہا ہے۔دُنیا کا کوئی ملک اس سزا پر کھلے عام کوئی اعتراض نہیں کرتا اور اگر کوئی اعتراض ہو بھی تو معترضین کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے،جس کی وجہ سے ایسی قانون سازی کرنا ضروری ہے۔

جو ملک آج امن و امان کا گہوارہ بنے ہوئے ہیں انہوں نے یہ مقام طویل سیاسی اور قانونی جدوجہد سے حاصل کیا ہے۔اپنے ہاں پہلے سخت قوانین بنا کر جرائم کو کنٹرول کیا اور پھر تدریجاً سزائیں نرم کی گئی ہیں یہ عمل وقت مانگتا ہے،پاکستان بھی جرائم کو کنٹرول کر کے اپنے حالات بہتر کرنے کے بعد اگر ضرورت ہو تو قوانین میں نرمی کی طرف جا سکتا ہے،جن ممالک میں جرائم کم ہوئے ہیں اور جنہیں اب سخت سزاؤں کی ضرورت نہیں، یہ ملک ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے یہاں بھی لرزہ براندام کرنے والے جرائم ہوتے تھے، جن کی وجہ سے ان معاشروں کا سکون بھی غارت ہوتا تھا،لیکن سالہا سال کی جدوجہد اور جرائم کو سخت قوانین کے ذریعے کنٹرول کرنے کے بعد اب اگر وہ اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اُنہیں اپنے ممالک میں موت کی سزا ختم کرنے کے باوجود سنگین جرائم بڑھنے کا اندیشہ نہیں یا وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن معاشروں میں قانون کا احترام اس درجے پر پہنچ گیا ہے کہ موت کی سزا کے بغیر بھی وہ جرائم کو کنٹرول کر سکتے ہیں تو یہ ان کے اپنے حالات کا تقاضا ہو سکتا ہے، ہمارے جیسے ممالک میں قانون کا احترام سخت سزاؤں کے بغیر ممکن نہیں،اِس لئے ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے سخت قانون بنانا اور پھر ان پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہماری ضرورت ہے،سینیٹ میں جو مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے۔ اول تو حکومت اس کی منظوری کی راہ ہموار کرے اور اگر وہ اس مسودے کو ناکافی سمجھتی ہے تو اپنا مسودہئ قانون لے آئے،جس کے  ذریعے فوجداری قوانین میں سخت سزاؤں اور برسر عام پھانسی کی گنجائش پیدا کی جائے۔ موجودہ حالات سے نکلنے کے لئے نئی قانون سازی بہرحال جلد ہونی چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -