اضافی بجلی بل…… وفاقی حکومت توجہ دے!

اضافی بجلی بل…… وفاقی حکومت توجہ دے!

  

بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے بعد بل زیادہ آنے کی شکایات بھی عام ہو گئی ہیں،اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے درستگی کے لئے آنے والے صارفین کو پھیرے لگوا لگوا کر خوار کیا جا رہا ہے،شکایات کے حامل صارفین ایس ڈی او اور ایگزیکٹو انجینئرز حضرات کے دفاتر کے درمیان پھر پھر کر پریشان ہوتے ہیں، صارفین نے مجموعی طور پر شکایت کی کہ ایک طرف تو بجلی کا نظام مسلسل پریشان کر رہا ہے، ٹرپنگ کی وجہ سے برقی آلات جل جاتے ہیں۔ دوسری طرف غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جو ان دِنوں میں بھی ہوا،جب کورونا کے باعث صنعتیں، کاروباری مراکز اور ادارے بھی بند تھے۔ اب دو تین ماہ سے نئی پریشانی یہ ہے کہ بل زیادہ آ رہے ہیں، جو گیس کی طرح نرخوں کے سلیبس کی وجہ سے ہیں کہ300 یونٹس کے بعد نرخ یکایک کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور بل ہی کے تناسب سے چار پانچ قسم کے ٹیکس بھی شامل کئے جاتے ہیں،جب صارفین بلوں میں نقائص کی نشاندہی کر کے بل درست کرانے یا اقساط کے لئے جاتے ہیں تو ان کو دفاتر کے چکر لگوا کر خوار کیا جاتا ہے،بعض صارفین نے یہ بھی بتایا کہ ان سے رشوت طلب کر کے ہی بل درست کئے جاتے ہیں، جبکہ میٹر ریڈر ریڈنگ میں کمال دکھانے کے ماہر ہیں۔صارفین کی یہ شکایات دیرینہ ہیں ان کے جواب میں محکمے تردید کرتے اور حکومت کے وزرا اور ترجمان ذمہ داری سابقہ حکومتوں کی طرف منتقل کر کے نئے وعدے کرتے رہتے ہیں، ابھی تک فائدہ صارفین کو منتقل نہیں ہوا کہ بجلی مزید مہنگی کئے جانے کا خدشہ ہے۔ وفاقی حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -