استغفار کی برکات

استغفار کی برکات
استغفار کی برکات

  

 استغفار کے لغوی معنی مغفرت طلب کرنا ہے اور مغفرت گناہ کے شر سے بچنے کو کہتے ہیں۔ دین اسلام میں استغفار کی بڑی اہمیت ہے اور قرآن کریم میں بہت ساری آیات موجود ہیں جو مغفرت و استغفار کے بارے میں بتاتی ہیں۔ کچھ آیات اس کے بارے میں حکم دیتی ہیں کچھ اس کی طلب کے بارے میں ہیں اور کچھ اس کی تعریف بیان کرتی ہیں۔ سورۃالنساء میں اللہ رب العزت نے نبی محترمؐ  محمد کو حکم دیا اور فرمایا…… اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بے شک وہ بخشش کرنے اور مہربانی کرنے والا ہے۔ سورۃ المزمل میں رب کریم نے مومنوں کو اس بارے میں حکم دیا ”اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہو، یقیناً وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ علاوہ ازیں بھی بے شمار آیات و احادیث ہیں جو استغفار کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں اور بارگاہ رب العزت کے یہاں اس کے ثواب اور بندے کی ضرورت کو بیان کرتی ہیں۔ صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا والتوبہ ولاستغفار باب، استحباب الاستغفار حدیث نمبر 2702، سنن ابی داؤد کتاب فضائل القرآن باب فی الاستغفار حدیث 1515، مسند احمد بن حنبل حدیث 211/4حدیث 17881۔

ختم المرسلینؐ کا فرمان ہے ”اورمیں اللہ سے دن میں سو بار بخشش مانگتا ہوں“ جس سے استغفار کی اہمیت و افادیت واضح ہوتی ہے۔ استغفار کے ثمرات میں گناہوں کی بخشش، اللہ کی رضا اور اس کی محبت و رحمت، عذاب کا ٹل جانا، کثرت سے خیر وبرکت اور دلوں کا روشن اور درجات کا بلند ہونا، زہد وتقویٰ پیدا ہونا، وقار اور برد باری میں اضافہ، روزی میں کشادگی، مال و اولاد میں اضافہ، بلاؤں اور مصیبتوں سے دوری، جسمانی و روحانی قوت میں اضافہ اور بندے کا اپنے خالق کی محبت کی طرف رجحان اور اللہ تعالی کی محبت کے آگے دوسری دنیاوی نعمتوں سے بے نیاز ہونا اور بندے میں دیگرصفات کا پیدا ہونا شامل ہیں۔ جہاں استغفار کے بے شمار فائدے ہیں وہاں کچھ شرائط بھی ہیں ان میں اولین یہ ہے کااللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر ماننا اور اس کے لئے دل میں جذبہ اخلاص کا موجزن ہونا اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونااور خشو ع و خضوع کے ساتھ اس کے احکامات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا جبکہ استغفار کے آداب میں طہارت جسمانی و روحانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ استغفار کے اوقات وقت سحر کے علاوہ پچھلی رات کو اللہ سے بخشش مانگنا۔ رسول اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ رب کائنات رات کے آخری تہائی حصہ میں ہر رات دنیا سے قریب والے آسمان پر نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے اور دعا و استغفار کرے میں اس کی دعا کو قبول کروں اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں۔ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اسے بخش دوں۔

محمد مصطفےٰ ؐ کے فرمان کے مطابق ”توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے اس کو بند نہیں کیا جائے گا جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو“ لیکن بندوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے رب کی بارگاہ میں ہر وقت اپنے دانستہ اور نادانستہ گناہوں کے لیے ہر وقت استعفار کرتے رہیں کہ وہ بخشنے والا اور رحیم ہے کیا خبر کہ کس وقت اس کی رحمت جوش میں آئے اور بندے کی عاجزی قبول کرے اور اسے بخش دے۔ حضرت بکر بن عبداللہ المازنی جو اپنے وقت کے فقیہ اور ابتدائی تابعین میں سے تھے۔ وہ کہیں راستے میں چل رہے تھے ان کے آگے آگے ایک لکڑہارا چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا ”الحمد للہ“،”استغفراللہ“ تو حضرت بکر بن عبداللہ المازنی نے اس سے کہا ”کیا تو اس کے علاوہ اور کوئی دوسری چیز نہیں جانتا؟“۔ لکڑہارے نے کہا کیوں نہیں میں حافظ قرآن ہوں اور بہت ساری باتیں جانتا ہوں لیکن انسان گناہ اور فضل و انعام کے مابین ادھر ادھر رخ بدلتا رہتا ہے اس لیے میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور اس کے فضل و انعام کے لیے اس کا شکر اور تعریف کرتا ہوں تو بکر بن عبداللہ المازنی نے کہا ”کہ بکر نادان رہا اورلکڑ ہارا حقیقت کو پا گیا“۔ محترم قارئین وطن عزیز پاکستان کو جن بحرانوں اور مشکلات کا سامنا ہے وہ ہماری دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ لیکن ہمارا رب غفور الرحیم ہے اور وہ اپنے بندوں کو آزماتاہے کہ وہ کب اپنی بداعمالیوں سے باز آکر میری طرف رجوع کرتے ہیں،کب استغفار کرتے ہیں  تاکہ میں انہیں بخش دوں۔

قرآن کریم میں ایسی کئی آیتیں موجود ہیں جن میں اللہ کریم کا ارشاد ہے۔ ترجمہ: ”جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، مہربانی کرنے والے پائے گا“ (النصر3/110) ایک اور آیت میں ارشاد ہے۔ ترجمہ: ”تو اپنے رب کی تسبیح کر حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ۔ بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔“ (آلعمران 17/3)قارئین کرام! رمضان کی آمد آمد ہے آئیے ہم صدق دل اور پورے خلوص کے ساتھ بارگاہ رب العزت سے اپنے گناہوں پر استغفار کریں اور اس کی نعمتوں کے شکر گزار ہوں یہی ہماری کامیابی، بھلائی اور مجموعہ برکات ہے اور ہمارے درجات کی بلندی کا سرچشمہ ہے۔ اسی سے ہم مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں جو اللہ تعالی کی دیگر عنایات کے علاوہ ہمارے رزق میں بھی اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -