عثمان بزدار کے بعد کیا عمر شیخ بھی عمران خان کی ضد بن گئے؟

عثمان بزدار کے بعد کیا عمر شیخ بھی عمران خان کی ضد بن گئے؟
عثمان بزدار کے بعد کیا عمر شیخ بھی عمران خان کی ضد بن گئے؟

  

ایک طرف مسلم لیگ (ن) صبح و شام سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی برطرفی کا ورد کر رہی ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان ان کے بارے میں تعریفی کلمات کہتے ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں نیا سی سی پی او قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے لایا گیا ہے کیونکہ پولیس ان گروپوں سے ملی ہوئی تھی اور لاہور میں ایک مدعی کو اس لئے قتل بھی کر دیا گیا کہ وہ اپنی زمین واپس مانگ رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے جس طرح سی سی پی او عمر شیخ کو ٹارگٹ کر رکھا ہے، مجھے تو لگتا ہے کہ عثمان بزدار کی طرح عمر شیخ بھی وزیر اعظم عمران خان کی ضد بن گئے ہیں ویسے بھی عمر شیخ نے موٹر وے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے بارے میں جو ریمارکس دیئے تھے، اس پر انہوں نے معافی مانگ لی ہے۔ اصولاً تو ایسی معافی پر معاملہ ختم ہو جانا چاہئے لیکن مسلم لیگ (ن) ایسی کسی معافی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور ایک ہی مطالبہ دہرا رہی ہے کہ سی سی پی او کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

لاہور پولیس کی بری کارکردگی اور آئی جی کو ہٹانے کے بارے میں عمران خان کے خیالات سننے کے بعد اب یہ معاملہ اتنا آسان نہیں لگتا کہ سی سی پی او کو تبدیل کر دیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس واقعہ سے پہلے عمر شیخ کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنا رکھا تھا کہ وہ  مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنانے کے لئے تعینات کئے گئے ہیں تاہم جونہی موٹر وے واقعہ پر عمر شیخ کے نامناسب ریمارکس سامنے آئے تو گویا  مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو پکا پکایا حلوہ مل گیا، وہ یہ بھول گئے کہ عمر شیخ انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کے لئے تعینات کئے گئے ہیں اور انہوں نے سارا زور اس نکتے پر دینا شروع کر دیا کہ ایسے سفاک اور ظالم پولیس افسر کو جو ایک مظلوم عورت کی مدد کرنے کی بجائے اسے ہی موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے، فی الفور برطرف کیا جائے۔ فضا ایسی بن گئی تھی کہ ہر طرف سی سی پی او کی تبدیلی کے نعرے گونج رہے تھے۔ مگر وہ اس لئے بچ گئے کہ عمران خان انہیں بدلنا نہیں چاہتے تھے۔

ویسے بھی یہ بات سب کو سمجھ آ جاتی چاہئے کہ جس سی سی پی او کے لئے صوبے کے آئی جی کو تبدیل کر دیا گیا، اس کا کلہ کتنا مضبوط ہوگا۔ مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے بارے میں ہر چینل پر پروگرام کئے گئے، ان کے سروس ریکارڈ، ترقی کے لئے نا اہل، آئی بی کی منفی رپورٹیں غرض ہر معاملے کو اچھالا گیا، مگر حکومت ان کے بارے میں ٹس سے مس نہ ہوئی۔ الٹا وزراء اپنے بیانات میں ان کا دفاع کرتے رہے اور عثمان بزدار ایک چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے اینکر کے بار بار پوچھنے کے باوجود سی سی پی او کے تبادلے کا سوال نظر انداز کرتے رہے، وزراء اور وزیراعلیٰ کی اس حوالے سے پالیسی اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ یہ معاملہ ان سے اوپر کی سطح کا ہے اور وہ اپنے طور پر کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ بھی شائد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک ضلعی سطح پر تعینات افسر کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ شہبازشریف اس معاملے کو قومی اسمبلی تک لے گئے او راس کی آڑ میں وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے کہ انہوں نے بے حسی کی انتہا کر دی اور ایک لفظ تک نہیں کہا۔ موٹروے سانحہ کے بارے میں تو عمران خان بہت کچھ کہہ چکے ہیں، البتہ سی سی پی او کے خلاف انہوں نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، شائد اسی کو شہبازشریف، وزیراعظم عمران خان کی بے حسی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری طرف سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے اعلان کے مطابق کرپٹ پولیس والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرانا شروع کر دیئے ہیں۔ وہ اب تک ایک ایس ایچ او اور دو سب انسپکٹروں کو مقدمات کے بعد حوالات میں بند کر چکے ہیں۔ان تینوں پر الزام تھا کہ انہوں نے مقدمات کی تفتیش غلط کی اور مجرموں، قبضہ گروپوں کا ساتھ دیا۔ یاد رہے کہ وہ اس سے پہلے تعینات ہوتے ہی یہ اعلان کر چکے تھے کہ پولیس کے کرپٹ اہلکاروں کو صرف معطل کرنے پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف اعانتِ جرم کے مقدمات درج کئے جائیں گے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ کسی جگہ پر قبضہ کرانے کے لئے ایک ایس ایچ او اگر دو کروڑ روپے رشوت لیتا ہے اور بعدازاں اس الزام میں معطل ہو جاتا ہے تو اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ تین ماہ بعد وہ پھر بحال ہو کر وہی دھندہ شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے معطلی کی بجائے ایسے ملازمین کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ اب یہ شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں کہ لاہور میں قبضہ گروپ نے بیرون ملک سے آنے والے ایک پاکستانی کی زمین ہتھیانے کے لئے اسے قتل کیا، جس پر آئی جی نے اس ایچ ایچ او کو معطل کر دیا۔ سی سی پی او نے اس پر فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تو بات آئی جی تک پہنچ گئی اور انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے اور یہ سزا کافی ہے، لیکن عمر شیخ نے ان کی بات نہ مانی اور ایس ایچ او کے خلاف اعانتِ جرم اور مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرایا جس پر آئی جی اور سی سی پی او کے اختلافات بڑھ گئے۔

چونکہ یہ بات وزیراعظم عمران خان کے علم میں تھی، اس لئے انہوں نے سی سی پی او کی بجائے آئی جی کو تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ لاہور میں سب اچھا ہے اور جرائم کی صورت حال کنٹرول میں ہے تو اس سے بڑا احمق کوئی نہیں۔ مسلم لیگ ن خوامخواہ سی سی پی او کے خلاف محاذ بنا کر خود کو مشکوک کر رہی ہے۔ سی سی پی او اگر سیاسی بنیاد پر کوئی انتقامی کارروائی کرے گا تو آج کے دور میں وہ کیسے چھپی رہے گی یہی الزام مسلم لیگ (ن) کے رہنما نیب پر بھی لگاتے ہیں اور انہیں عدالتوں سے ریلیف بھی مل جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ سے کہہ دیا ہے کہ لاہور میں نیا سی سی پی او اس لئے لگایا ہے کہ لاہور مافیاز کا گڑھ بن چکا ہے۔ زمینوں پر قبضے، منشیات فروشی، بھتہ خوری اور مثل و غارت گری عام ہو چکی ہے۔ گویا اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ عمر شیخ کو ایک خاص مقصد کے لئے لاہور کا سی سی پی او تعینات کیا گیا ہے، اب ظاہر ہے کہ ایسا تو ممکن نہیں کہ وزیر اعظم انہیں صرف ایک متنازعہ بیان پر تبدیل کر دیں۔ وہ تو اس وقت انہیں تبدیل کریں گے جب وہ دیئے گئے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔ خود سی سی پی او عمر شیخ نے کہا ہے کہ وہ تین ماہ میں لاہور کو تبدیل کر دیں گے۔ یہاں جرائم پیشہ گینگز اور افراد نظر نہیں آئیں گے۔ گویا انہیں وقت دے کر آزمائے بغیر لانے والے عہدے سے نہیں ہٹائیں گے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اپنی ساری توانائیاں انہیں عہدے سے ہٹانے پر صرف کر رہی ہے۔ حالانکہ اس سے بھی کہیں بڑے معاملات اس کی توجہ کے منتظر ہیں۔

خود سی سی پی او عمر شیخ کے لئے یہ پوسٹ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ انہیں اس واقعہ سے سبق سیکھنا چاہئے جو ان کی بے احتیاطی میں کہے گئے جملوں سے رونما ہوا اور ان کے خلاف پورا ملک چیخ اٹھا۔ اپنے تئیں انہوں نے یہ سب شاید مثبت انداز میں کہا ہو لیکن یہ اس بات کا ہرگز موقع نہیں تھا، ان کا سارا فوکس ملزموں کی گرفتاری پر ہونا چاہئے تھا۔ تاہم اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اگر اتنے بڑے ردعمل کے باوجود انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا تو گویا انہیں دیئے گئے ٹاسک اور ان کی اہمیت وزیر اعظم عمران خان کی نظر میں برقرار ہے۔ اگر وہ لاہور کو پچاس فیصد بھی کرائم فری بنا دیتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی اور شاید پہلی بار لوگ کہیں کہ عمران خان کی ضد کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -