رنگ روڈ، موٹروے بائی پاس کا سانحہ، احتجاج اور تفتیش ساتھ ساتھ جاری، تونسہ کا وقوعہ نظر انداز!

رنگ روڈ، موٹروے بائی پاس کا سانحہ، احتجاج اور تفتیش ساتھ ساتھ جاری، تونسہ ...
 رنگ روڈ، موٹروے بائی پاس کا سانحہ، احتجاج اور تفتیش ساتھ ساتھ جاری، تونسہ کا وقوعہ نظر انداز!

  

کرول گھاٹی رنگ روڈ بائی پاس سے قریباً دو ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر لاہور، سیالکوٹ موٹروے بائی پاس پر ہونے والی مجرمانہ واردات نے پورے ملک اور حکومتی مشینری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ہر طرف اس سانحہ کی گونج ہے جو ایک مسافر خاتون کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے پیش آیا، اس واردات کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے، جس کی وجہ سے میڈیا متوجہ ہوا اور ہاہا کار مچ جانے سے حکومتی اور پولیس بھی حرکت میں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ تونسہ میں ہونے والی اسی نوعیت کی واردات اور ایک اور مجرمانہ فعل والے عمل کو تاحال کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی،حالانکہ تونسہ میں مجرموں نے ایک گھر کے اندر گھس کر ایک خاتون کی بے بسی کا تماشا بنایا اور وہاں بھی یہ جرم بچوں کے سامنے کیا گیا۔ یہ علاقہ بھی وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا ہے، سانحہ رنگ روڈ ایک کار والی مسافر خاتون کی بے بسی کا مظہر ہے اور لاہور شہر میں ہوا۔ جب یہاں پولیس حکام کے تبادلوں کا شور ہوا اور اس میں ٹھہراؤ آیا تھا، بہرحال یہ اپنی جگہ لیکن جہاں جہاں ایسے سانحات ہوتے ہیں، وہ سب ہی تو انسانیت سوز ہیں، ان سب پر احتجاج اور ان کا ازالہ ہونا چاہیے۔

اس سانحہ کی بے تحاشا تشہیر سے ایک خوف پیدا ہو گیا  اور اب تو شہر میں کار چلانے والی خواتین جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو ان کی لوکیشن کے بارے میں خبردار رہنا پڑتا ہے، جبکہ عرصہ بعد سول سوسائٹی والوں کو بھی احتجاج کا موقع ملا ہے اور لبرٹی (آزادی) چوک میں زبردست مظاہرہ کیا گیا، اس میں بچے اور مرد بھی شامل تھے اور سبھی مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے تھے، ایسے ہی مظاہرے ہر بڑے شہر میں ہوئے۔ یہ سب اپنی جگہ ادھر صورت حال یہ ہے کہ مشکوک افراد کی تصاویر شائع کرکے ان کو قطعی مجرم قرار دیا گیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ غلطی ہوئی۔ مجرم ”بھاگ“ گیا، اسے (عابد) ملزم کہتے ہوئے بھی حکام کی طرف سے مجرم ہی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہماری پولیس اب ایسی سائنس تحقیق کی ماہر ہو گئی ہے کہ جیو فینسنگ کے ذریعے سراغ بھی لگا لیا، اس میں سوال یہ ہے کہ جاء وقوعہ کی جیوفینسنگ میں کیا واضح طور پر صرف اور صرف عابد اور وقار الحسن کے نمبر ہی ملے۔کہا گیا کہ وقار کے نمبر سے عابد کا بھی سراغ ملا، اب وقار خود پیش ہو گیا اور وقوعہ سے انکار کر دیا۔

اس کی نشاندہی پر ایک ملزم شفقت کو گرفتار کر لیا گیا اور دعویٰ ہے کہ اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔ وقار کے برادر نسبتی عباس کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ سائنسی فکر تو یہ ہے کہ موبائل سم بند بھی ہو تو لوکیشن کا علم ہو جاتا ہے۔ ابھی تک پولیس نے سیف سٹی منصوبے کے کیمروں کا کوئی ذکر نہیں کیا، کم از کم یہ بتا دیں کہ متاثرہ خاتون کی کار کی لوکیشن اور حرکت بھی ملی تھی کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو پھر اس پورے پروگرام کی افادیت کیا صرف اور صرف جلوسوں کی نگرانی ہے؟ اس بار میڈیا کی تعریف کرنا چاہیے کہ خاتون کو پریشان نہیں کیا گیا اور تصاویر بھی نہیں شائع کی گئیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا والوں نے پھر بھی کہیں کہیں احترام کو مدنظر نہیں رکھا توقع کرنا چاہیے کہ محنت بارآور ہو گی اور اصل ”مجرم“ ہی پکڑے جائیں گے۔

اس وقوعہ نے ہی سیاسی گرما گرمی والی جگہ لے لی ہے تو سیاست کا کیا ذکر جواب یہاں صرف یہی ہے کہ حمزہ شہباز کا کرونا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ ہے کہ ان کو اتفاق ہسپتال منتقل کیا جائے،درخواست صوبائی چیف سیکرٹری سے کی گئی، جواب مشیر داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر خان نے دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ استدعا مسترد ہو گئی جبکہ جیل حکام کے مطابق ان کو رپورٹ مل گئی تو حمزہ شہباز کو قرنطینہ کر دیا جائے گا۔ اب جو نئی صورت پیدا ہوئی۔ وہ یہ ہے کہ مریم نواز نے ٹوئیٹ کرکے جہاں بھائی حمزہ شہباز کی صحت کے حوالے سے فکر مندی ظاہر کی، وہاں انہوں نے پھر سے شبہ کا اظہارکر دیا، پوچھا ”یہ سوال بھی تو ہے کہ جیل میں ان کے والد قائد مسلم لیگ محمد نوازشریف کو کیا خوراک دی گئی کہ ان کے ”پلیٹ لیٹس“خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے“۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے واضح کر دیا کہ حمزہ کا معائنہ بورڈ کرے گا اور علاج کی ضرورت پر سرکاری ہسپتال حاضر ہے۔گزشتہ روز8ویں سے یونیورسٹی سطح تک کے تعلیمی ادارے کھل گئے، یہاں بھی مشاہدہ ہوا کہ احتیاطی تدابیر پر  ہدایت کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ صبح اور چھٹی کے وقت ٹریفک جام ہونے کے مناظر بھی لوٹ آئے اور ٹریفک پولیس نے کوئی بہتر انتظام نہیں کیا۔

مزید :

رائے -کالم -