عام آدمی پولیس کے ہاتھوں پریشان‘وکلا ء برادری بھی شدید تنگ، جلیل احمد خان 

عام آدمی پولیس کے ہاتھوں پریشان‘وکلا ء برادری بھی شدید تنگ، جلیل احمد خان 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہوراور گوجرانوالہ پولیس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار کے کراچی شہداء ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون دانوں نے کہا ہے کہ یہاں پولیس کا کردار واضح ہے پولیس بدمعاشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے سب سے زیادہ بولی دینے والے پولیس آفیسرز کی تعیناتیاں کی جاتی ہیں   حکومت کی عدم توجہ کے باعث پولیس کے شعبے میں بگاڑ آتا جارہاہے پولیس اپنی من مانیوں میں مصروف ہیں عام آدمی کو پولیس کے ہاتھوں پریشان ہے بلکہ وکلا ء برادری بھی پولیس سے شدید تنگ ہے جلیل احمد خان اوٹھی، عدلیہ بچاؤ کمیٹی کے سربراہ عبدالرشید قریشی، سردار عبدالمجید ڈوگر، امتیاز رشید قریشی، خان امان اللہ خان اور عاصم شاہ ایڈووکیٹس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کے کردار پر شدید مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ سینئر قانون دان جلیل خان اوٹھی کے بھائی کو قتل کیا گیا جس کی پیروی بھی نہیں کرنے دی جارہی انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ پولیس جلیل اوٹھی کے بنیادی حقوق کے خلاف اقدام کر رہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے وکلاء نے مزیدکہناہے کہ پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے،آج پولیس کے محکمے میں گروپس کام کر رہے ہیں یہاں رول آف لاء نہیں ہے صرف اور صرف کالے کوٹ والے ہی قانون کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ ہونے والا واقعہ واضح ثبوت ہے جہاں پولیس اپنی حدود کا تعین ہی نہیں کر سکی،سی سی پی او کایہ بیان دیناکہ خاتون کورات کو نہیں جانا چاہیے تھا سے عوام کا سر شرم سے جھک گیا ہے جو قابل مذمت ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے محکمے سے کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جائے اور ان کی جگہ ایماندار اور اہل افسران کو بھرتی کیا جائے اور سی پی او گوجرانوالہ سے شہریوں سے درست رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا جائے۔

پریس کانفرنس

مزید :

صفحہ آخر -